Friday , September 22 2017
Home / مضامین / ہندوستان میں سیاستدانوں کی چاندی

ہندوستان میں سیاستدانوں کی چاندی

 

محمد ریاض احمد
سلطنت روم کی تاریخ میں سیسرون کے کردار کو بھلایا نہیں جاسکتا۔ انھیں ایک زیرک و چالاک سیاستداں، معاملہ فہم مدبر و دانشور، نظریہ سازاور فلسفی کی حیثیت سے یاد کیا جاتا ہے۔ سیسرون کے اقوال جو انہوں نے 43 قبل مسیح میں کہے تھے آج بھی بالکل سچ ثابت ہورہے ہیں۔ سیسرون نے اپنے دور کی صورتحال کے بارے میں دس نکات پیش کرتے ہوئے کچھ یوں اظہار خیال کیا تھا۔
(1 غریب … کام ہی کام کرتا رہتا ہے
(2 دولت مند … غریب کا استحصال کرتا ہے
(3 سپاہی … ان دونوں کا تحفظ کرتا ہے
(4 ٹیکس دہندہ … مذکورہ تینوں کیلئے ادائیگی کرتا ہے
(5 لاپرواہ … ان تمام چاروں پر تکیہ پاتا ہے
(6 شرابی … ان پانچوں کی قیمت پر شراب نوشی کرتا ہے
(7 بینکرس … ان تمام کو لوٹتا ہے
(8 قانون داں … مذکورہ بالا ساتوں کو گمراہ کرتا ہے
(9 ڈاکٹر… ان تمام سے نہ صرف بھاری رقم حاصل کرتا ہے بلکہ ان کو موت کی نیند بھی سلادیتا ہے۔
(10 گورکن… ان تمام 9 کو دفن کرتا ہے
(11 سیاستداں … ان تمام 10 کی قیمت پر خوشحال زندگی گذارتا ہے۔
اگر سیسرون کے اس قول پر غور کیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ اس نے اپنے دور کے حالات کی جو عکاسی کی وہی حالات اب دنیا خاص کر ہندوستان میں پائے جاتے ہیں۔ سیسرون نے کہا تھا اُس دور میں غریب کام، کام اور صرف کام کرتا جارہا ہے ۔ فی الوقت ہندوستان میں غریبوں کا یہی حال ہے۔ محنت وہ کررہے ہیں اور ان کی محنت کے ثمرات کوئی اور ( متمول طبقہ ) حاص کررہا ہے۔ ان غریبوں کی نعشوں پر سے گذرتے ہوئے دولت مند محلات تعمیر کررہے ہیں، ان کے یہاں کتے بلیوں کی اہمیت ہے انسانوں کی کوئی قدر نہیں ہے اور اپنے پالتو جانوروں کی غذا پر ہر روز وہ ہزاروں، لاکھوں روپئے خرچ کرتے ہیں۔غریب کے بچے بھوک سے تڑپ رہے ہیں۔ آج ہندوستان میں غربت کا حال یہ ہے کہ غریب اپنے جسمانی اعضاء یہاں تک کہ جسم میں دوڑنے والا خون تک بیچ رہے ہیں۔ والدین غربت سے بچنے کیلئے اپنے نور نظر اور لخت جگروں کو فروخت کررہے ہیں۔ ہمارے ملک میں مودی حکومت خاتمہ غربت کے بلند بانگ دعوے کررہی ہے غربت تو ختم نہیں ہورہی ہے غریب ختم ہورہے ہیں۔ کوئی غریب کسان خودکشی کررہا ہے تو کوئی غریب ماں باپ اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی کپڑا اور مکان نہ دینے کے باعث گھٹ گھٹ کر جی رہے ہیں۔ بعض تو غربت سے ہمیشہ سے نجات کیلئے پھانسی لیکر یا پھر زہر کھاکر اجتماعی طور پر اپنے ہی ہاتھوں اپنی زندگیوں کا خاتمہ کررہے ہیں۔ جہاں تک ملک میں غربت کا سوال ہے اب بھی250 ملین سے زائد ہندوستانی خط غربت سے نیچے زندگی گذاررہے ہیں اور اتنی ہی تعداد میں ایسے لوگ بھی ہیں جو مشکل سے دو وقت کے کھانے کا انتظام کرپاتے ہیں۔ اگر ہماری حکومت کو غریبوں کی فکر ہے تو پھر دولت کی مساویانہ تقسیم کو یقینی بنانا ہوگا۔ امیر غریب کے درمیان دولت کے باعث جو فاصلے ہیں اسے مٹانا ہوگا اور یونیورسل بیسک انکم ( عالمی بنیادی آمدنی ) کے نظریہ پر عمل کرنا ہوگا لیکن مودی حکومت تو تیل، گیس اور دوسری اشیاء پر دی جانے والی سبسیڈی برخواست کرنے کی بات کررہی ہے۔ حکومت تو دعوے بہت کررہی ہے لیکن ہندوستان میں صحت، تعلیم، حفظان صحت، پینے کے پانی ، بجلی کی بنیادی سہولتوں کا فقدان پایا جاتا ہے۔ سامراجی طاقتوں کے اشاروں پر متعارف کردہ معاشی اصلاحات نے امیر اور غریب کے درمیان عدم مساوات کا ایک بہت بڑا فاصلہ پیدا کردیا ہے۔اقلیتوں، دلتوں اور قبائل کو مساویانہ حقوق فراہم کرنے سے گریز کیا جارہا ہے۔ مودی حکومت نے پچھلے ساڑھے تین برس سے زائد عرصہ کے دوران جتنے پراجکٹس شروع کئے ہیں انہیں بلا خوف و جھجھک عجیب و غریب پراجکٹس ہی کہا جائے گا۔ 14 ستمبر کو وزیراعظم نریندر مودی اور ان کے جاپانی ہم منصب شینزوابے نے احمد آباد تا ممبئی بلٹ ٹرین منصوبہ کی بنیاد رکھی۔ یہ ٹرین 350کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلے گی۔ بات دراصل یہ ہے کہ جاپان نے اس پراجکٹ کیلئے 88 ہزار کروڑ روپئے کا قرض انتہائی کم شرح سود پر دیا ہے۔

اس پراجکٹ سے جاپان کو بہت زیادہ فائدہ ہوگا۔ 93 سالہ ریٹائرڈ جسٹس راجندر سچر نے بلٹ ٹرین پراجکٹ پر اچھا تبصرہ کیا ہے۔ انہوں نے اس پراجکٹ کو غریب ہندوستانیوں کے ساتھ ایک ظالمانہ مذاق سے تعبیر کیا ۔ ملک میں ریلوے سیفٹی کا برا حال ہے۔ حادثات روز کا معمول بن گئے ہیں۔ ان حالات کو سدھارنے کی بجائے 1.10 لاکھ کروڑ کے مصارف سے بلٹ ٹرین پراجکٹ شروع کرنا بیوقوفی نہیں تو اور کیا ہے۔ سیسرون نے ہزاروں سال پہلے کہا تھا کہ دولت مند غریب کا استحصال کرتے ہیں۔ ہندوستان میں بھی آج کے ترقی یافتہ دور میں یہی ہورہا ہے۔ غریبوں کا استحصال کرنے والوں میں حکمراں( سیاستداں ) ، مذہبی رہنما، اعلیٰ سرکاری عہدیدار، تاجرین و صنعت کار سب کے سب شامل ہیں۔ جعلی سادھوؤں ، باباؤں اور سیاستدانوں کا گٹھ جوڑ لاکھوں انسانوں کو ذہنی طور پر غلام بناچکا ہے، ایسا غلام کے وہ ان باباؤں کے ہاتھوں خصی ہوجانے اور اپنی عصمتیں لٹانے پر بھی اُف تک نہیں کرتے ۔ آج آسارام باپو اس کا بیٹا سائی ، بابا گرمیت رام رہیم اور بے شمار سادھو و سوامی عصمت ریزی ، سرکاری اراضیات پر ناجائز قبضوں ، منشیات اور جسم فروشی کے ریاکٹ چلانے کے الزام میں جیلوں میں بند ہیں۔ ان میں آسارام باپو جیسا بوڑھا سادھو بھی شامل ہے جسے ایک 16 سالہ لڑکی کی عصمت ریزی کے الزام میں جیل بھیجا گیا ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ آسارام کے معتقدین اور اس کی شان میں زمین و آسمان کے قلابے ملانے والوں میں ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی، چیف منسٹر مدھیہ پردیش شیو راج سنگھ چوہان، چیف منسٹر راجستھان وسندھرا راجے سندھیا، چیف منسٹر چھتیس گڑھ بی رمن، مرلی منوہر جوشی شامل تھے۔ ایک زانی ، شرابی اور بدکردار سادھو کی تعریف کرنیوالوں کے کردار پر یقینا سوال اٹھنے چاہیئے۔ سارے سیاستداں آخر ان ڈھونگی باباؤں کی مدد کیوں کرتے ہیں؟ اس کی وجہ ان کے جاہل معتقدین کی تائید و حمایت حاصل کرناہوتا ہے۔ گرمیت رام رہیم کے بار میں مشہور ہے کہ اس نے 2014 کے عام انتخابات اور ہریانہ کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی تائید کی۔ حال ہی میں کانگریس لیڈر، ڈگ وجئے سنگھ نے ایک پوسٹ شیئر کیا تھا جس پر سنگھ پریوار اور اس کے حامی بھڑک اٹھے ۔ میڈیا کا زرخرید گوشہ سے عجیب و غریب آوازیں بلند ہونے لگیں لیکن اس پیام میں دراصل حقیقت بیان کی گئی تھی ۔ جسٹس مارکنڈے کٹجو نے وہ بات اچھے پیرائے میں بیان کی تھی۔ سیاستدانوں اور ڈھونگی سادھوؤں کے گٹھ جوڑ کے نتیجہ میں ہی ان باباؤں کی اپنی فوج ہے۔ ہزاروں لاکھوں ایکڑ سرکاری اراضی ان درندوں نے ہڑپ لی ہے۔ جنسی حملوں، قتل و غارت گری میں یہ ملوث ہیں۔ ملک میں غربت کا حال یہ ہے کہ اب خود سرکاری سطح پر خواتین کو اپنا رحم کرایہ پر دینے کی اجازت دینے کی باتیں ہورہی ہیں۔ حال ہی میں صحت سے متعلق پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹی نے سروگیسی ریگولیشن بل 2016 سے متعلق اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ خواتین کو اپنی کوکھ اچھی خاصی رقم کے بدلے مستعار دینے کی اجازت دی جائے اور اس کی قیمت حکومت مقرر کرے گی۔ اب اگر حکومت ہی خواتین کو ان کی کوکھ مستعار دینے کی اجازت منظور کرنے کا منصوبہ بنارہی ہے تو پھر غریب ماں باپ کو اپنے بچے فروخت کرنے کی اجازت کیوں نہیں۔ اب چلتے ہیں ہمارے بہادر سپاہیوں کی جانب ، سپاہی امیر غریب ہر شہری کی حفاظت کرتے ہیں لیکن مودی حکومت میں سپاہی بھی پریشان ہیں ۔ انہیں جہاں کھانا دینے بھی گریز کیا جارہا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ پڑوسی ملک سے دہشت گرد بناء کسی رکاوٹ کے بڑے آرام سے ہندوستانی علاقہ میں گھس آتے ہیں اور ہمارے سپاہیوں کے سر کاٹ کرلے جاتے ہیں۔ اس پر بھی صرف بلند بانگ بیانات دے کر فرض پورا کرلیا جاتا ہے۔ صرف گزشتہ سال ہمارے کم از کم 68 سپاہی مارے گئے ان بہادر سپاہیوں کی موت پر مودی حکومت کو جنبش تک نہیں ہوئی۔ اب ٹیکس دہندگان کی طرف جاتے ہیں۔مودی حکومت نے اپنی ناقص معاشی پالیسیوں کے ذریعہ ملک میں بے چینی پیدا کررکھی ہے وہ دراصل لوگوں کا مذہبی استحصال اور فرقہ وارانہ آگ بھڑکاتے ہوئے اپنی ناکامیوں کی پردہ پوشی کررہی ہے۔ پچھلے ساڑھے تین برسوں میں حکومت نے عوام پر بے شمار محاصل کا بوجھ عائد کردیا۔ نوٹ بندی کے بہانے اہم مسائل پر سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی گئی۔ اب جی ایس ٹی کے ذریعہ غریب عوام کا جینا حرام کردیاگیا ہے۔ یہی نہیں عہدہ وزارت عظمیٰ پر فائز ہونے کے بعد سے مودی جی نے 69 بیرونی دورے کرکے مختلف ملکوں کے دوروں سے متعلق اپنی خواہش پوری کرلی ۔ ان اسفار پر کروڑہا روپئے کے جو اخراجات آتے ہیں اس کے لئے غریب اور متوسط ہندوستانیوں کی جیب کاٹی گئی۔ ملک میں شراب بندی کی بجائے شراب کے استعمال کو فروغ دیا جارہا ہے ۔ ہندوستان میں سالانہ 29 ملین لیٹر شراب تیار کی جاتی ہے اور عام شراب خانوں میں پی جانے والے شراب اس سے ہزاروں گنا زیادہ ہیں۔

بنکرس کے بارے میں سیسرون کا خیال تھا کہ یہ غریبوں، دولت مندوں، سپاہیوں، ٹیکس دہندگان ، لاپرواہ عناصر اور شرابیوں کو بھی لوٹ لیتے ہیں۔ ہمارے ملک کے بنکرس پر یہ بات پوری طرح صادق آتی ہے ۔ جہاں تک قانون دانوں کا سوال ہے یہ ہرکسی کو گمراہ کرنے میں ماہر ہوتے ہیں۔ ہندوستان میں ایسے قانون داں ہیں جو سیاسی سرپرستی کے باعث قانون کی دھجیاں اڑانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھتے۔ دوسری جانب ڈآکٹروں اور اسپتالوں کا برا حال ہے۔ لاکھوں کروڑوں روپئے ڈونیشن دے کر ڈاکٹری میں داخلہ لینے والوں سے کیا اُمید کی جاسکتی ہے۔ خدمت کے اس معزز پیشہ کو حریص ڈاکٹروں اور لٹیروں نے ایک ’’ دھندہ ‘‘ میں تبدیل کردیا ہے۔ نعشوں کو وینٹی لیٹر پر رکھ کر رقم وصول کی جارہی ہے۔ سیاسی ٹھیکیدار اب تو جنت نشان ہندوستان میں شمشان اور قبرستان کے نام پر عوام میں دوریاں پیدا کررہے ہیں لیکن ان سب سے اگر کوئی مکار ہیں تو وہ سیاستداں ہیں اور بقول سیسرون ’’ سیاستداں تمام کی قیمت پر اپنا الو سیدھا کرلیتے ہیں۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT