Thursday , August 17 2017
Home / ہندوستان / ہندوستان میں مذہبی آزادی ، خواتین کیساتھ بدسلوکی پر تشویش

ہندوستان میں مذہبی آزادی ، خواتین کیساتھ بدسلوکی پر تشویش

مصنفین و فنکاروں کا ایوارڈز واپس کردینا اشاریہ : امریکی سنیٹرز ۔ اوباما نظم و نسق ربط میں ہے : نشا دیسائی
ممبئی؍واشنگٹن۔ 25 مئی (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی کے دورے سے قبل سرکردہ امریکی سنیٹرز نے ہندوستان میں مذہبی آزادی، سیول سوسائٹی پر بڑھتے حملے اور انسانی حقوق پر تشویش ظاہر کی ہے جبکہ اوباما نظم و نسق کا کہنا ہے کہ وہ ان مسائل پر اس ملک کے ساتھ مذاکرات کررہا ہے۔ کولوراڈو سنیٹر کوری گارڈنر نے سنیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کی جانب سے طلب کردہ کانگریس سماعت برائے ہندوستان کے دوران کہا کہ ہندوستان میں مذہبی آزادی کے تعلق سے موجودہ صورتحال تشویش پیدا کرتی ہے۔ ورجینیا سنیٹر ٹم کینن نے مصنفین اور فنکاروں کی جانب سے اپنے ایوارڈز کی واپسی کے حوالے سے مذہبی عدم رواداری کے حالیہ واقعات پر اپنی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں امید ہے کہ وہ اس مسئلہ پر وزیراعظم مودی کے ساتھ بات کرپائیں گے جب وہ واشنگٹن ڈی سی کا آئندہ ماہ سفر کریں گے۔ بعض ریاستوں میں تبدیلی مذہب کو روکنے سے متعلق قوانین کو الجھن آمیز قرار دیتے ہوئے میریلینڈ سنیٹر بن کارڈین نے جو سنیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے رینکنگ ممبر ہیں، ہندوستان میں مذہبی آزادی کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا۔ بعض ارکان نے امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کے ممبرز کو ویزوں کی اجرائی سے انکار کا مسئلہ اٹھایا۔ سنیٹرزکی تشویش اور فکرمندی سے اتفاق کرتے ہوئے اسسٹنٹ سیکریٹری آف اسٹیٹ برائے جنوبی اور وسطی ایشیا نشا دیسائی بسوال نے کہا کہ اگرچہ اوباما نظم و نسق ان مسائل اور فکرمندی کو اعلیٰ ترین سطح پر اٹھا رہا ہے اور اس مسئلہ پر ہندوستان سے بات چیت میں بھی مصروف ہے، لیکن خود ہندوستان کا لچک دار سماج کافی مضبوط ہے اور اس بارے میں آواز بلند کررہا ہے۔ نشا دیسائی نے کہا کہ ہندوستان کے اندرونی مذہبی آزادی اور مذہبی رواداری کے تعلق سے کافی ٹھوس مباحث ہوتے آئے ہیں اور یہ کہ خود ہندوستانی عوام کی آواز سے بڑھ کر کوئی ٹھوس آواز نہیں جو مسلسل جوش و خروش اور عوامی مباحث کے ساتھ ان مسائل کو اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ یہ موضوع ہندوستانی اخبارات کی شہ سرخیوں میں ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مسئلہ پر کافی سرگرمی پائی جاتی ہے۔ ’’میرے خیال میں یہی وہ مسائل ہیں، یہی وہ اقدار ہیں جو ہم عزیز رکھتے ہیں، جنہیں ہم موضوع بحث بناتے ہیں ۔ لیکن ہم کوشش کرتے ہیں کہ یہ کام ممکنہ حد تک تعمیری انداز میں ہو اور اس حقیقت کو فراموش نہ کریں کہ یہی وہ مسائل ہیں جن پر ہندوستان کو خود ان کے ملک، خود ان کی جمہوریت، خود ان کے سماج کے مفاد نمٹنا چاہئے‘‘۔

TOPPOPULARRECENT