Friday , October 20 2017
Home / دنیا / ہندوستان میں مسلمان اور عیسائی مذہبی تشدد کا نشانہ

ہندوستان میں مسلمان اور عیسائی مذہبی تشدد کا نشانہ

بڑھتے ہوئے سفارتی تعلقات پر نظرثانی کیلئے ریپبلکن سنیٹر کی اوباما سے درخواست
واشنگٹن ۔ 20 فبروری ۔(سیاست ڈاٹ کام)  امریکی سنیٹ کے ایک ریپبلکن رکن جیمس لینک فورڈ نے ہندوستان پر مذہبی آزادی اور انسانی حقوق کو مسلسل کچلنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اوباما انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ اس ملک ( ہندوستان ) کے ساتھ امریکہ کے بڑھتے ہوئے سفارتی تعلقات کی سطح پر دوبارہ غور کیا جائے ۔ جیمس لینک فورڈ نے صدر براک اوباما کے نام اپنے مکتوب میں لکھا ہے کہ ’’امریکہ کو چاہئے کہ وہ ہندوستان کے ساتھ اپنے رول اور تعلقات پر محتاط انداز میں غور کرے ‘‘ ۔ ریپبلکن سنیٹر نے اپنے مکتوب میں امریکی صدر پر زور دیا کہ کیوبا اور ہندوستان کے ساتھ بڑھتے ہوئے امریکی سفارتی تعلقات پر دوبارہ غور کریں کیونکہ انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کے معاملہ میں ان دونوں ممالک کے ریکارڈ ناقص ہیں۔ جیمس لینک فورڈ نے 18 فبروری کو صدر کے نام اپنے مکتوب میں مزید لکھا کہ ’’ایک ایسے وقت جب ہندوستان ، مذہبی آزادی اور انسانی حقوق کو کچل رہا ہے

اس بات پر میں امریکی انتظامیہ کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتا ہوں کہ وہ ہندوستان کے ساتھ اپنے موجودہ مستحکم تعلقات سے استفادہ کرتے ہوئے ہندوستان میں تمام عقائد کے ماننے والوں کی مذہبی آزادی اور انسانی حقوق کی تائید و حمایت کرے‘‘۔ اوکلاہوما کے سنیٹر نے مکتوب میں اپنے اس تاثر کا اظہار کیا کہ ہندوستان ،مذہبی اعتبار سے ایک تنوع مند معاشرہ ہے اور وہاں ایک سیکولر حکومت ہے ۔ لیکن اس ملک میں مذہبی آزادی اور انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں ہوئی ہے ۔ ریپبلکن سنیٹر نے صدر اوباما کے نام اپنے طویل مکتوب میں الزام عائد کیا کہ ہندوستان میں عیسائیوں اور مسلمانوں کو اکثر مذہبی ہراسانی اور تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ لینک فورڈ نے مزید لکھا کہ ’’عیسائیوں پر تشدد ان کی جائیدادوں کی تباہی و آتشزنی کے واقعات اور ان واقعات کی تحقیقات کے علاوہ عیسائیوں کے جان و مال کی حفاظت میں پولیس کے پس و پیش کی اطلاعات بھی ہیں‘‘ ۔ انھوں نے انکشاف کیا کہ ’’ایوانجلیکل فیلوشپ آف انڈیا، مطابق نومبر اور ڈسمبر 2014 ء کے دوران عیسائیوں کے خلاف تشدد و ہراسانی کے 38 واقعات منظرعام پر آئے ۔ اس کے علاوہ کیتھولک گرجا گھروں اور عیسائی برادریوں پر پرتشدد حملے بھی کئے گئے ۔

TOPPOPULARRECENT