Wednesday , September 20 2017
Home / Top Stories / ہندوستان میں مقیم روہنگیا مسلمان ’’غیرقانونی پناہ گزین‘‘، حکومت کا رویہ سخت

ہندوستان میں مقیم روہنگیا مسلمان ’’غیرقانونی پناہ گزین‘‘، حکومت کا رویہ سخت

New Delhi: Union Home Minister Rajnath Singh addresses the 110th Annual Session of the PHD Chamber and PHD Annual Awards for Excellence 2015 in New Delhi on Saturday. PTI Photo by Kamal Singh(PTI11_28_2015_000021A)

 

جموں ۔ 12 ستمبر ۔(سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے ہندوستان میں مقیم روہنگیا مسلمانوں کو غیرقانونی پناہ گزین قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کا ان کے تئیں رویہ انتہائی سخت ہے ۔انہوں نے کہا کہ غیرقانونی پناہ گزینوں کا ملک کی سیکورٹی کیلئے خطرہ ثابت ہونا خارج از امکان نہیں ہے ۔ راجناتھ نے اس کا اظہار آج یہاں اپنے چار روزہ دورہ جموں وکشمیرکو سمیٹنے کے سلسلے میں منعقدہ نیوز کانفرنس سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے پاکستان کو سرحدوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ بند کرنے کا انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ بصورت دیگر سرحدوں پر تعینات ہمارے سیکورٹی فورسز ایسے حالات پیدا کریں گے کہ پاکستان جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ بند کرنے پر مجبور ہوگا۔ وزیر داخلہ نے پاکستان کے ساتھ متصل سرحدوں کے نزدیک رہائش پذیر لوگوں کی قوم پرستی کو سراہتے ہوئے سرحد پار فائرنگ سے جاں بحق یا معذور ہونے والے افراد کیلئے معاوضے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ پڑوسی ممالک کے ساتھ متصل سرحدوں کو باڑ سے مکمل طور پر بند کردیا جائے گا اور جہاں باڑکی مدد سے بند کرنا ناممکن ہوگا، وہاں ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا۔راجناتھ نے یہ کہتے ہوئے دفعہ 35A پر کسی بھی سوال کا جواب دینے سے انکار کیا، کہ وہ اس کے بارے میں سرینگر میں اپنی بات سامنے رکھ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت ریاست کے تینوں خطوں کی برابر ترقی کے ایجنڈے پر کام کررہی ہے ۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ گذشتہ سال کے مقابلے میں وادی کے حالات میں بہت حد تک بہتری آئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس بات کو نہیں مانتے ہیں کہ کشمیر میں جنگجوؤں کی تعداد بڑھ رہی ہے ۔ نیوز کانفرنس میں دفتر وزیراعظم کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ اور نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر نرمل سنگھ بھی موجود تھے ۔راجناتھ نے ہندوستان میں مقیم روہنگیا مسلمانوں کو غیرقانونی پناہ گزین قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کے اندر جن لوگوں کا غیرقانونی داخلہ ہوا ہے ، ان کے تئیں ہمارا رویہ انتہائی سخت ہے۔ جموں میں مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین کی جانب سے روہنگیا پناہ گزینوں کو ملک کی سیکورٹی کیلئے خطرہ قرار دیے جانے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ نے کہا ’’میں نے پہلے ہی کہا کہ وہ غیرقانونی مہاجر ہیں۔ ہم سیکورٹی خطرے کو خارج از امکان قرار نہیں دے رہے ہیں‘‘۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق جموں میں مقیم میانمار اور بنگلہ دیش کے تارکین وطن کی تعداد 13,400ہے ۔انھوں نے نوشہرہ میں سرحدوں پر جو بھارتی شہری رہتے ہیںان سے ملاقات کی۔اور وہاں بی ایس ایف اور فوج کے جوانوں سے بھی ملے۔’’ جب میں نے نوشہرہ میں ہند پاک سرحد پر رہنے والے ہندوستانی شہریوں سے ملاقات کی تو بات چیت سننے کے بعد میں سمجھ سکتا ہوں کہ سرحدوں پر رہنے والے ہمارے شہری ہمارا کلیدی اثاثہ ہیں۔ جس طرح کا قومی جذبہ ان میں ہے اس پر ہم سب ہندوستانیوں کو ناز ہے ۔جنگ بندی کی خلاف ورزیاں برابر پاکستان کی طرف سے ہوتی رہتی ہیں لیکن اس کے باوجود وہ وہاں ہمت کے ساتھ ڈٹے رہتے ہیں‘‘۔

 

کشمیر دہشت گردوں کیلئے کھلے میدان میں تبدیل
پی ڈی پی سے اتحاد وزیراعظم کی فاش غلطی : راہول۔ راج ناتھ سنگھ کا ردعمل
واشنگٹن 12 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی نے آج وزیراعظم نریندر مودی پر الزام عائد کیاکہ اُنھوں نے جموں و کشمیر میں دہشت گردوں کو بڑے پیمانے پر موقع فراہم کیا ہے جس کے نتیجہ میں تشدد میں اضافہ ہورہا ہے۔ امریکی شہر برکلے کی یونیورسٹی آف کیلی فورنیا میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے راہول گاندھی نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) سے مفاہمت کیلئے مودی کا فیصلہ حکمت عملی کی فاش غلطی تھی۔ راہول گاندھی نے مزید کہاکہ ’’پی ڈی پی کشمیری نوجوانوں کو سیاسی عمل میں شامل کرنے کا اہم آلہ اور ذریعہ تھی لیکن جس دنے نریندر مودی نے پی ڈی پی اور بی جے پی کے درمیان مفاہمت کی اس نے پی ڈی پی کے اس کردار کو تباہ کردیا جس کے ذریعہ وہ نوجوانوں کو سیاسی نظام میں لاسکتی تھی۔ اور … جس دن مودی نے ایسا کیا اُنھوں نے کشمیر میں دہشت گردوں کے لئے ایک بہت بڑی جگہ کھلی چھوڑ دی اور وہ اس میں داخل ہوگئے۔ اور … اب آپ دیکھ رہے ہیں کہ تشدد میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا ہے‘‘۔ راہول گاندھی نے مزید کہاکہ جموں و کشمیر میں انٹلی جنس کے عہدیداروں نے ان سے کہاکہ پی ڈی پی ارکان کی ایک کثیر تعداد عسکریت پسندی کی طرف راغب ہوگئی۔ کانگریس کے نائب صدر نے کہاکہ ’’کسی معمولی سیاسی فائدہ کے لئے آپ جب کوئی حکمت عملی کا فیصلہ کرتے ہیں تو (اس سے) آپ ملک کو بھیانک نقصان پہونچاتے ہیں۔ جموں و کشمیر میں آج نہ صرف پاکستانیوں کے لئے بلکہ اس علاقہ کے دیگر ’کھلاڑیوں‘ کیلئے بہت بڑی جگہ کھول دی گئی ہے اور اس سے ہندوستان پر حکمت عملی کی ایک انتہائی بھاری قیمت مسلط ہورہی ہے‘‘۔ راہول نے دعویٰ کیاکہ کشمیر کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے اُنھوں نے 9 سال تک وزیراعظم منموہن سنگھ کے ساتھ پس پردہ کام کیا۔ نتیجہ آپ نے دیکھا کہ اُس وقت کشمیر میں عسکریت پسندی کافی کم ہوگئی تھی اور سیاحت کو فروغ حاصل ہورہا تھا‘‘۔ جموں سے موصولہ اطلاع کے بموجب مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے آج نائب صدر کانگریس راہول گاندھی کے کشمیر کے بارے میں تبصروں پر جوابی وار کرتے ہوئے کہا کہ قومی مسائل کو سیاسی رنگ نہیں دیا جانا چاہئے۔ راہول گاندھی نے کشمیر پر تبصرہ امریکی کی ایک تقریب میں تقریر کرتے ہوئے کیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT