Thursday , July 27 2017
Home / دنیا / ہندوستان میں نوٹوں کی تنسیخ کا اقدام ‘ فوائد کم نقصانات زیادہ

ہندوستان میں نوٹوں کی تنسیخ کا اقدام ‘ فوائد کم نقصانات زیادہ

امریکی ماہر معاشیات سابق وزیرخزانہ ( کلنٹن کابینہ) اور ڈائرکٹر قومی معاشی کونسل ( اوباما) کامودی کے اقدام پر تبصرہ
واشنگٹن ۔ 27نومبر ( سیاست ڈاٹ کام) امریکی ماہر معاشیات لیاری سمرس کئی برس سے 100ڈالر کی نوٹ امریکہ میں اور 500یورو کی نوٹ یورپ میں منسوخ کرنے کی وکالت کرتے رہے ہیں ۔ یوروپی سنٹرل بینک نے 500یورو کی نوٹ بتدریج برخواست کردینے اور اس کی جگہ 100ڈالر کی نوٹ کو دینے کے سلسلہ میں ایک مباحثہ منعقد کیا تھا جس میں خاص طور پر ایک ہزار سوائس فرینک کی نوٹ پر اظہار خیال کیا گیا تھا ۔ ہر ایک کی طرح ہمیں بھی وزیراعظم ہند نریندر مودی کی جانب سے موجودہ 500اور 1000روپئے کی نوٹوں کو منسوخ کرنے کے اقدام پر حیرت ہوئی ۔ یہ ایک زبردست تبدیلی تھی جو ہندوستان کی کرنسی پالیسی میں لائی جارہی تھی ۔ دنیا کے کسی بھی علاقہ میں برسوں سے ایسا کوئی اقدام نہیںکیا گیا تھا ۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ان نوٹوں کی جو بڑے پیمانے پر ملک گیر سطح پر زیراستعمال تھیں تنسیخ کا ملک کی معیشت پر کیا اثر مرتب ہوگا ۔

حقیقیت یہ ہے کہ امریکہ میں 100ڈالر کا نوٹ بہت کم لوگ استعمال کرتے ہیں جب کہ ہندوستان میں 500روپئے کے نوٹ بہت زیادہ استعمال کئے جاتے ہیں ۔ دوسری بات یہ ہے کہ بنیادی طور پر اس قسم کے اقدامات جو یورپی سنٹرل بینک یا امریکہ کیلئے تجویز کئے جاتے تھے جن کے تحت اعلیٰ سطحی نوٹوں کی تنسیخ کی تجویز پیش کی جاتی تھی لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔چھوٹے اور اوسط درجہ کے تاجر بڑی نوٹوں کو اپنی دکانوں میں استعمال ہی نہیں کرتے تھے لیکن عام ہندوستانی شہری 500روپئے کی نوٹ بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے پاس موجود نوٹوں کو قانونی نوٹوں سے تبدیل کرنے کیلئے بینکوں پر طویل قطاریں دیکھی گئی ۔ کئی ایسے افراد کی شناخت کا دعویٰ کیا گیا تھا کہ جنہوں نے بدعنوان یا غیرقانونی طریقوں سے دولت کا ذخیرہ کیا ہے لیکن قانونی اعتبار سے دولت کو قانونی حیثیت دینے کیلئے اور پرانی نوٹوں کو نئی نوٹوں سے تبدیل کرنے کیلئے کالا دھن کے ذخیرہ اندوز بہت کم آگے آئے ۔

بیشتر آزاد معاشرہ یا تو کئی مجرموں کو آزاد رہنے کی اجازت دے رہے ہیں اور بے قصور افراد کو پریشان کررہے ہیں اور اس کیلئے اسی قسم کے طریقے اختیار کئے جارہے ہیں ۔ حکومت چند بے قصور متاثرین سے اپنی پسند کے مطابق کسی کو بھی منتخب کر کے اس بارے میں دریافت کرسکتی ہے ۔ لارنس ایچ سمرس چارلس ڈبلیو ایلیٹ یونیورسٹی کے پروفیسراور صدر ہارورڈ یونیورسٹی ہیں ‘ وہ صدر کلنٹن کے دور میں 71ویں وزیر خزانہ اور قومی معاشی کونسل کے صدر اوباما کے دور میں ڈائرکٹر رہ چکے ہیں ۔ ان کے ٹوئیٹر پیغام کے بموجب ہندوستانیوں کو اس قسم کے تعطل کا کبھی تجربہ نہیں ہوا تھا ۔ امریکہ اور یورپ میں بڑے کرنسی نوٹوں کی تنسیخ سے ایسی صورتحال کبھی پیدانہیں ہوسکتی جیسی کہ ہندوستان میں پیدا ہوئی ہے ۔ ہندوستان کا موجودہ انتشار درحقیقت حکومت کے غلط فیصلہ کا نتیجہ ہے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT