Friday , August 18 2017
Home / مضامین / ہندوستان میں گالی بھی خالی تھالی بھی!

ہندوستان میں گالی بھی خالی تھالی بھی!

محمد ریاض احمد
ہندوستان کا شمار دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی معیشتوں میں ہوتا ہے ۔ سائنس و ٹکنالوجی کے شعبہ میں ہمارے ملک نے کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیئے ہیں ۔ خلائی سائنس میں وطن عزیز کی ترقی پر امریکہ ، برطانیہ ، چین ، فرانس اور جرمنی جیسے ممالک انگشت بدنداں ہیں ۔ چاند پر ہم نے کمند ڈالنے میں کامیابی حاصل کی ، دنیا کے دوسرے ملکوں کے سٹلائیٹس کو ہمارے سائنداں خلاء میں روانہ کرہے ہیں ۔ طبی سیاحت کی ترقی کا یہ حال ہے کہ انتہائی ترقی یافتہ ممالک کے مریض بھی ہندوستان کا رُخ کررہے ہیں۔ ہندوستانی اسٹارٹ اپ مغربی ملکوں کیلئے کامیابی کی مثال بنے ہوئے ہیں۔ ہندوستان کو اس کی تقریباً 1.25 ارب آبادی اور وسیع و عریض رقبہ کے باعث سرمایہ کاری کیلئے دنیا کا سب سے بڑا مارکٹ کہا جارہا ہے ۔ غرض زندگی کے ہر شعبہ میں ہندوستان کی ترقی قابل رشک ہے اس کے باوجود یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے ملک میں خطرناک حد تک غربت پائی جاتی ہے ۔ حال ہی میں آن لائن مطالعہ کے دوران ہماری نظر ایک رپورٹ پر پڑی جس میں بتایا گیا ہے کہ گلوبل ہنگر انڈکس ( بھوک کے عالمی اشاریہ) میں 118 ممالک شامل کئے گئے ہیں جن میں ہندوستان کو 97 واں مقام دیا گیاہے ۔ ملک میں شدید غربت پائی جاتی ہے اور ہر 5ہندوستانیوں میں ایک شدید غربت میں مبتلا ہے ۔ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ ہندوستان میں سیاستدانوں ، صنعت کاروں اور بیورو کریٹس کو چھوڑکر سب کے سب غربت کی خطرناک بیماری میں مبتلا ہیں۔ حالانکہ حکومت ہند نے اقوام متحدہ کے مربوط ترقیاتی اہداف کے تحت 2030 ء تک ملک سے غربت کا خاتمہ کرنے کا عہد کیا ہے لیکن غربت کی بجائے غریبوں کو ختم کیا جارہاہے۔ عالمی سطح پر غربت کے اعداد و شمار کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ دنیا میں 767 ملین لوگ غربت کا شکار ہیں اور ایسے لوگوں کی تعداد 800 ملین سے تجاوز کرچکی ہے جنھیں پیٹ بھر کھانا نہیں ملتا ۔ ان کی ایک کثیر تعداد ہندوستانیوںکی ہے ۔ ہندوستانی میں عالمی سطح پر سلمس ( گندہ بستیاں) بھی بہت زیادہ ہے ۔ ممبئی کی دھراوی کو ایشیاء کا سب سے بڑا سلم علاقہ قرار دیا گیا ہے ۔ ہمارے ملک میں دنیا کے غریبوں کا ایک تہائی حصہ آباد ہے ۔ 240-600 ملین ہندوستانی انتہائی غریب ہیں۔ دنیا میں اگرچہ ہندوستان سے بھی غریب ممالک ہیں لیکن غربت کے دل کو دہلانے والے اکثر مناظر ہندوستان میں ہی نظر آتے ہیں۔ ہمارے وطن عزیز میں دولت کی کوئی کمی نہیں یہاں قدرتی وسائل کی بھرمار ہے ۔ حسین وادیوں ، جھیلوں ، جنگلات آبی ذخائر کا ایک وسیع جال پھیلا ہوا ہے لیکن اس کے باوجود اوڈیشہ کا مانجھی نامی شخص اپنی بیوی کی نعش کو صرف اور صرف شدید غربت کے  باعث بیوی کی نعش کو ایک چادر میں لپیٹے کندھے پر رکھ کر 12 کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طئے کرتا ہے ۔ اس غریب کے پاس ایمبولنس کیلئے کرایہ نہ ہونے کے باعث اڈیشہ کے ہی ایک اسپتال میں ایک مردہ بوڑھیا کے پیر اس لئے توڑ دیئے جاتے ہیں تاکہ نعش ایک کپڑے میں بآسانی سماسکے ۔ دیکھنے والوں نے جھارکھنڈ کے سرکاری اسپتال میں پیش آیا وہ دلسوز واقعہ بھی دیکھا جہاں رکابی نہ ہونے کے باعث ایک غریب خاتون فرش پر چاول اور سالن ڈالے اپنی بھوک مٹارہی تھی ۔ ہمارے ملک میں شدید غربت کے باعث ہی ہرروز کہیں نہ کہیں چند سکوں کے عوض نومولودوں کو فروخت کردیا جاتا ہے ۔ غربت کے نتیجہ میں بے بس و مجبور دوشیزاوں اور خواتین کو جسم فروشی کے دلدل میں ڈھکیل دیا جاتا ہے ۔ بچوں کے دودھ کا انتظام کرنے کیلئے مائیں اپنا خون ، بہنوں کی شادی کیلئے بھائی اپنے گردے فروخت کردیتے ہیں۔ 50 فیصد ہندوستانیوں کو چھت میسر نہیں ، 70 فیصد کو بیت الخلاء کی سہولت تک رسائی نہیں وہ ندیوں ، تالابوں ، جھیلوں کے کناروں ، جھاڑیوں ، پہاڑیوں کے سایوں اور ریلوے پٹریوں کے قریب رفع حاجت سے فارغ ہوتے ہیں ۔ 35 فیصد گھر نل کے پانی کی سہولت سے محروم ہیں ۔ 85 فیصد گاؤں میں سکنڈری اسکولس نہیں ۔ اسکول جانے کی عمر کے ہر چار بچوں میں ایک بچہ اسکول نہیں جاتا ۔ ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں کمسن لڑکے لڑکیاں اور خواتین بندھوا مزدور کی حیثیت سے زندگی گذار رہے ہیں جہاں ان کے ساتھ وحشیانہ سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ آپ کو غربت کے شکار لوگوں کی حالت زار دیکھنے کیلئے سارے ہندوستان کا دورہ کرنے کی ضرورت نہیں صرف اپنے شہر کے ریلوے اسٹیشنوں ، عبوری پلوں ، فٹ پاتھوں کا جائزہ لیجئے  لوگ شدید سردی میں وہاں سوتے ہوئے دکھائی دیں گے ۔ غربت کے معاملہ میں ہم بنگلہ دیش ، نائجیریااور روانڈا جیسے ملکوں سے بھی بہت پیچھے ہیں۔ ہندوستان میں شہری صرف غربت کی بیماری میں ہی مبتلا نہیں ہیں بلکہ اس سرزمین پر ذیابیطس سے متاثرہ لوگوں کی تعداد 66 ملین تک جاپہنچی ہے ۔ ٹی بی کے مریضوں کی تعداد 2.2 ملین ہوگئی ہے جس کے باعث دنیا میں ہندوستان کو شوگر اور ٹی بی کے امراض کا دارالحکومت کہا جانے لگا ہے۔ اس مہان ملک میں تازہ اعداد و شمار کے مطابق 2.1 ملین مرد و خواتین ایچ آئی وی ؍ ایڈز میں مبتلا ہیں۔ رحم اورچھاتی کے کینسر سے ہر سال 8 لاکھ خواتین مرتی ہیں۔ نمونیا اور ڈائریا سے ملک میں ہر سال 3 لاکھ بچے فوت ہوتے ہیں ۔ ملک میں ان دو بیماریوں سے ہر 2 منٹ میں ایک بچہ کی موت ہوجاتی ہے ۔ دو یوم قبل مائیکرو سافٹ کے بانی اور دنیا کے دولت مند ترین شخص بل گیٹس نے ہندوستان کا دورہ کیا ۔ انھوں نے وزیراعظم نریندر مودی کی موجودگی میں ہی یہ کہکر سب کو حیران کردیا کہ ہندوستان میں زچگی کے دوران زچہ اور بچہ کی اموات کے ساتھ ساتھ بچوں کے ناقص غذا کا شکار ہونے کا مسئلہ ساری دنیا کیلئے تشویشناک ہے ۔ اس سلسلہ میں بل گیٹس کا کہناتھا کہ دنیا میں ناقص غذا کا شکار سب سے زیادہ بچے (5 سال سے کم عمر) ہندوستان میں ہیں جن کی تعداد 44 ملین ہے ۔ ناقص غذا کے باعث ان بچوں کا نمو رُک گیا ہے ۔ ان کا وجود ٹھٹر گیا ہے ۔ حکومت ہند کو نوشتۂ دیوار پڑھ لینے کا مشورہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر اس خطرناک رجحان کو نہیں روکا گیا تو ہندوستانی معیشت کو 2030 ء تک 46ارب ڈالرس کا نقصان ہوگا ۔ ہمارے ملک میں غربت کے باعث ہی عصمت ریزی کے واقعات پیش آتے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ہر سال 50 ہزار خواتین اور لڑکیوں کی عصمت ریزی کی جاتی ہے ۔ صرف اُترپردیش جیسی ریاست میں ہرر روز 10 خواتین کی عزت لوٹی جاتی ہے ۔ غربت کے نتیجہ میں جرائم میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے بدعنوانی عروج پر پہنچ چکی ہے ۔ ہم نے ہندوستان میں غربت کا ایک معمولی سا نقشہ کھینچا ہے ۔ اس کی سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ ہندوستان میں دولت صرف چند لوگوں تک محدود ہوکر رہ گئی ہے ۔

حال ہی میں ایک رپورٹ منظرعام پر آئی جس میں عالمی سطح پر 15 دولت مند ترین شہروں کے نام پیش کئے گئے اس فہرست میں ممبئی کو چوتھا مقام دیا گیا اور بتایا گیا کہ یہ شہر 820 ارب ڈالرس کی دولت کا حامل ہے اس کے دامن میں 450 کروڑپتی اور 28 ارب پتی بستے ہیں۔ صرف 100 ہندوستانی ارب پتیوں کی جملہ دولت 381 ارب ڈالرس بتائی گئی ہے نتیجہ میں ہندوستان میں مرکزی و ریاستی حکومتیں وہی کررہی ہیں جن کا حکم یہ ارب پتی دیتے ہیں ۔ ہندوستانی ارب پتی اپنی دولت پانی کی طرح بہاتے ہیں ۔ مثال کے طورپر 2004 ء میں صنعت کار لکشمی متل نے اپنی بیٹی کی شادی پر 7.40 کروڑ ڈالرس خرچ کئے تھے ۔ اُس شادی میں ایک ہزار مہمانوں کو طیاروں کے ذریعہ فرانس پہنچایا گیا تھا۔ دولت کی ویسی ہی تباہی و بربادی کرناٹک میں بی جے پی کے سابق ریاستی وزیر گالی جناردھن ریڈی نے کی انھوں نے اپنی اکلوتی بیٹی برہمنی کی شادی پر ایک دو کروڑ نہیں بلکہ 550 کروڑ 7.75 کروڑ ڈالر خرچ کرڈالے ۔ یہ وہی گالی جناردھن ریڈی ہے جس کے والد پولیس کے ایک کانسٹیبل تھے لیکن 1999 ء سے اس وقت ریڈی کے عروج کا آغاز ہوا جب وہ اور اس کے بھائی نے سشما سوراج کی انتخابی مہم چلائی اور کانکنی کا پہلی مرتبہ گتہ حاصل کیا ۔ 2009 ء میں اسے غیرقانونی کانکنی کے اسکنڈل میں ماخوذ کرکے جیل بھیج دیا گیا ۔ ریڈی حال ہی میں ضمانت پر رہا ہوا ہے ۔ جناردھن ریڈی نے صرف دعوت ناموں پر 5 کروڑ روپئے پھونک ڈالے ۔ صرف رقص و سرور کی محفلیں سجانے کیلئے 10 کروڑ روپئے خرچ کرڈالے ۔ 150 کروڑ کے زیورات بیٹی کو بطور تحفہ پیش کئے ۔ 22 کروڑ کی ساڑی اپنی بیٹی کو زیب تن کروائی جبکہ ہندوستان میں کروڑہا ایسی بیٹیاں ہیں جنھیں سلیقہ کے کپڑے تک میسر نہیں۔ شادی کی اس تقریب میں 5ہزار مہمانوں نے شرکت کی ۔ سکیوریٹی کیلئے 3000 جوانوں کو تعینات کیا گیا ۔ اہم شخصیتوں کیلئے 300 باؤنسر کی خدمات حاصل کی گئی ۔ فائیواسٹار ہوٹلوں میں 1500کمرے مہمانوں کیلئے بُک کئے گئے ۔ 2000 کیابس مختص کردی گئیں ۔ 15 ہیلی پیاڈس کی تعمیر عمل میں لائی گئی ۔ سجاوٹ پر 25 کروڑ ، میک اپ پر 30 لاکھ روپئے خرچ کئے گئے ۔ بتایا جاتا ہے کہ 60 تا 70 کروڑ روپئے انھوں نے صرف مہمانوں کی تواضع پر خرچ کردیئے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک کانسٹیبل کے بیٹے نے اتنی دولت کہاں سے حاصل کی ؟
اس سوال کا جواب یہی ہے کہ ملک میں بلیک منی اکثر سیاستدانوں اور صنعتکاروں کے کنٹرول میں ہے ۔ گالی جناردھن ریڈی نے اپنی بیٹی کی شادی پر جو رقم خرچ کی ہے اس رقم سے تمام سہولتوں سے آراستہ کم از کم 500 اسکولس اور 200 اسپتال تعمیر کئے جاسکتے تھے ۔ گالی کی بیٹی کی شادی ایسے وقت ہوئی جب کہ مودی نے بلیک منی کو ختم کرنے کے لئے 500 اور 1000 کے کرنسی نوٹوں کا چلن نبد کردیا ۔ کاش مودی عام آدمی کو پریشان کرنے کی بجائے ان بڑے لٹیروں کے خلاف کارروائی کرتے بہرحال گالی جناردھن ریڈی نے اپنی بیٹی کی شادی پر 550 کروڑ روپئے خرچ کرکے ملک کے غریبوں کا مذاق اُڑایا جس کی سزا اسے ملنی چاہئے۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT