Wednesday , October 18 2017
Home / دنیا / ہندوستان ‘ نیوکلئیر سپلائرس گروپ میںشمولیت کا اہل : امریکہ کا اعتراف

ہندوستان ‘ نیوکلئیر سپلائرس گروپ میںشمولیت کا اہل : امریکہ کا اعتراف

چین اور پاکستان کے موقف سے عدم اتفاق ۔ صدر اوباما کے دورہ ہندکے موقع پر تبصرہ کا حوالہ : اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا بیان

واشنگٹن 14 مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) ان اطلاعات کے دوران کہ پاکستان اور چین کی جانب سے ہندوستان کی نیوکلئیر سپلائرس گروپ میں شمولیت کی مخالفت کی جا رہی ہے امریکہ نے کہا ہے کہ ہندوستان میزائیل ٹکنالوجی کنٹرول تقاضوں کی تکمیل کرتا ہے اور وہ نیوکلئیر سپلائرس گروپ میں شمولیت کیلئے تیار ہے ۔ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان جان کربی نے کہا کہ وہ یہ یاد دہانی کروانا چاہتے ہیں کہ صدر اوباما نے 2015 میں اپنے دورہ ہند کے موقع پر کیا کہا تھا ۔ اس دورہ پر انہوں نے امریکہ کے اس خیال کا اعادہ کیا تھا کہ ہندوستان میزائیل ٹکنالوجی کنٹرول کے تقاضوں کی تکمیل کرتا ہے اور وہ نیوکلئیر سپلائرس گروپ میں شامل ہونے کیلئے بالکل تیار ہے ۔ انہوں نے یہ ریمارکس اس سوال کے جواب میں کئے ہیں جو ان رپورٹس سے متعلق تھا کہ چین اور پاکستان نے اس گروپ میں ہندوستان کی شمولیت کو روکنے کیلئے مشترکہ کوششیں کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک چین اور پاکستان کے موقف کا سوال ہے وہ اس کو ان دونوں ممالک کی حکومتوں کے موقف سے مربوط کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک نیوکلئیر سپلائرس گروپ میں شمولیت کی بات ہے نئے ارکان کی شمولیت کے امکانات پر تبادلہ خیال گروپ کا داخلی معاملہ ہے ۔ امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ چین کی جانب سے پاکستان کو اس معاملہ میں گھسیٹتے ہوئے ہندوستان کی کوششوں میں رکاوٹ پیدا کئے جانے پر وہ مایوس ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ نیوکلئیر عدم پھیلاو کے معاملہ میں ہندوستان کا تقابل پاکستان سے نہیں کیا جاسکتا کیونکہ پاکستان نیوکلئیر ٹکنالوجی ‘ لیبیا جیسے ممالک کو بھی فروخت کرنے کی تاریخ رکھتا ہے ۔ ا

مریکی ذرائع نے اس سلسلہ میں پاکستانی نیوکلئیر سائینسدان ڈاکٹر اے کیو خان اور ان کی نیوکلئیر تجارت کا بھی حوالہ دیا ہے ۔ این ایس جی میں ہندوستان کی شمولیت کی کوششوں کو روکنے اپنے موقف کی مدافعت میں چین نے آج ادعا کیا کہ 48 رکنی گروپ کے کئی ارکان اس کے اس خیال سے متفق ہیں کہ عدم پھیلاؤ معاہدہ پر دستخط کرنا این ایس جی گروپ کی توسیع کیلئے اہمیت کا حامل ہے ۔ چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان لو کانگ نے بیجنگ میں کہا کہ نہ صرف چین بلکہ این ایس جی کے کئی دوسرے ارکان کا یہ خیال ہے کہ نیوکلئیر عدم پھیلاؤ کے معاہدہ کو بین الاقوامی عدم پھیلاؤ معاہدہ کا تحفظ کرنے کیلئے نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔ ان اطلاعات پر کہ چین کی جانب سے ہندوستان کی این ایس جی میں شمولیت کو پاکستان کی شمولیت سے مربوط کرتے ہوئے زور دیا جا رہا ہے ترجمان نے کہا کہ نیوکلئیر سپلائرس گروپ نیوکلئیر عدم پھیلاؤ معاہدہ کا ایک اہم حصہ ہے جس کیلئے بین الاقوامی برادری میں ایک طویل عرصہ سے اتفاق رائے پایا جاتا ہے ۔ انہوں نے یہ بھی ادعا کیا کہ حالانکہ ہندوستان این ایس جی کا حصہ نہیں ہے لیکن وہ بھی اس بات سے ضرور اتفاق کرتا ہے ۔ ہندوستان ‘ پاکستان ‘ اسرائیل اور جنوبی سوڈان اقوام متحدہ کے وہ چار رکن ممالک ہیں جنہوں نے نیوکلئیر عدم پھیلاؤ کے معاہدہ پر دستخط نہیں کئے ہیں یہ بین الاقوامی معاہدہ ہے جو نیوکلئیر ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے کیا گیا ہے ۔ گذشتہ مہینے پاکستانی وزیر اعظم کے مشیر برائے خارجہ سرتاج عزیز نے کہا کہ چین نے پاکستان کی مدد کی ہے کہ این ایس جی کی رکنیت حاصل کرنے کیلئے ہندوستان کی کوششوں میں رکاوٹ پیدا کی جائے ۔

TOPPOPULARRECENT