Saturday , August 19 2017
Home / مضامین / ہندوستان پر ہندو طالبان کی حکومت

ہندوستان پر ہندو طالبان کی حکومت

انیش کپور
ہندو دیوتا وشنو نے کئی اوتار لئے ہیں ۔ ان میں سے کئی انسان ہیں ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تازہ ترین اوتار نریندر مودی ہیں ۔ ہندوستان بھر میں ان کی کئی تصویریں ہیں ۔ دائیں بازو کے لئے خوش بختی کی مہربان علامت ہیں ۔ یہ طاقتور لیکن صاحب بصیرت شخص کی تصویر کا باطنی پہلو ڈراؤنا ہے اور چیختی ہوئی حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان پر مودی زیر قیادت ہندو غلبہ میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ برسوں تک برطانیہ نے نریندر مودی سے تعلق قطع کررکھا تھا ۔ پھر اب ان کا سرخ قالین استقبال کیوں ؟
ملک کا سماجی اور مذہبی اقلیتوں کے لئے کھلاپن (جس کی آبادی 50 کروڑ سے زائد ہے) اور علاقائی اختلافات سنگین خطرے سے دوچار ہیں ۔ آخرکار ، مودی حکومت نے موثر انداز میں ان کو برداشت کیا ۔ چاہے اسکی حوصلہ افزائی نہ کی ہو ۔ ہندو کارکنوں کی بھگوا لباس میں ملبوس فوج ان لوگوں کی نگرانی کرتی اور وحشیانہ انداز میں ان کو نظم و ضبط کا پابند بناتی ہے جن پر ذات پات کے قواعد کی عدول حکمی اور ’’ہندو قوم‘‘ سے غداری کا شبہ ہوتا ہے  ۔
برطانیہ میں ممکن ہے کہ لوگ ہندوستان سے مانوس ہوں جس کی وجہ اس کی کرکٹ میں مہارت ، کشمیر میں مظالم یا حالیہ ہولناک عصمت ریزی کی وارداتیں ہوں ۔ لیکن اس سے ماورا ہم میں سے کئی جاننا نہیں چاہتے کہ ہندوستانی تصویر کی چین میں نقل کی جارہی ہے ۔چین ایک ابھرتی ہوئی عالمی معاشی طاقت ہے ۔ اس کی تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع پرکشش ہیں ۔ نتیجہ یہ کہ کاروبار انسانی حقوق پر حاوی ہے لیکن اس کی کسی کو بھی فکر نہیں ہے ۔ خاص طور پر وڈیوڈ کیمرون کی حکومت کو ہندو جبر کی بڑھتی ہوئی لہر پر کوئی تشویش نہیں ہے ۔
وزیراعظم مودی کے لئے یہ سب ایک خوش خبری ہے جو آج لندن پہنچے ہیں ۔ ان سے انسانی حقوق کے استحصال اور منظم طور پر ٹھگ لینے کے واقعات کی سنجیدگی کے ساتھ جواب طلبی نہیں کی جائے گی ۔ اگرچیکہ یہ بات ان کے ڈیڑھ سالہ دور اقتدار کی خصوصیت ہے ۔ لیکن وہ ایسے آدمی نہیں ہیں کہ جانچ یا تنقید کو خندہ پیشانی سے برداشت کریں ۔ درحقیقت انھوں نے ایسا معاشی ایجنڈہ اختیار کیا ہے کہ اس کی وجہ سے برطانیہ ان کے دور اقتدار میں انسانی حقوق کے استحصال اور ہندوستان میں ناراضگی سے چشم پوشی پر مجبور ہوگیا ہے ۔
مودی کا تازہ ترین اقدام گرین پیس انڈیا کا گلا گھونٹنا ہے ۔ جس کی تکمیل گذشتہ جمعہ ہوئی ۔ تنظیم کا کام کرنے کا لائسنس منسوخ کردیا گیا ۔ انسانی حقوق کا احترام اور ماحولیات کی تنظیم اکثر ملک کی جمہوری حالت کے لئے آزمائش ثابت ہوئی تھی ۔ پریشان کن بات یہ ہے کہ حکومت ’’بیرونی ممالک سے مالیہ حاصل کرنے والے‘‘ فلاحی تنظیموں کے خلاف گذشتہ سال سے کارروائی کررہی ہے ۔ اسکا دعوی ہے کہ ماحولیاتی تحدیدات اور دیگر غیر ہندوستانی سرگرمیوں سے قومی معیشت کو خطرہ ہے ۔ ان پریشان کن گروپس کو ملک سے چلے جانے پر مجبور کرنے کی منصوبہ بند کوشش کی گئی اور انھیں غیر ملکی دشمن قرار دیا گیا ۔
بعد ازاں ، کئی ہندوستانی صحافی اور انسانی حقوق کارکنوں کو ہراساں کیا گیا اور ان پر تحریص کا الزام عائد کیا گیا ۔ مثال کے طور پر تیستا سیتلواد جو 2002 ء میں ریاست گجرات کے فرقہ وارانہ تشدد کے متاثرین کے لئے اب بھی انصاف کی طلبگار ہیں ، جبکہ مودی ریاست کے چیف منسٹر تھے اور سنتوش یادو کو ریاست چھتیس گڑھ سے سپٹمبر میں گرفتار کیا گیا ۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کا خیال ہے کہ یہ جھوٹے الزامات ہیں ۔ یہ تحقیقاتی صحافی ’ادی واسیوں (دیسی عوام) پر پولیس مظالم بے نقاب کررہا تھا ۔ چند ہفتے قبل ایک موسیقار کو جس نے حکومت ٹاملناڈو پر طنز کرتے ہوئے ایک گیت گایا تھا جس کی بنیاد شراب کی فروخت تھی ۔ اس پر ہندوستان دشمن سرگرمی کا الزام عائد کیا گیا ۔
جمہوریت کی یہ فرسودگی ایسی پھسلواں ڈھلان ہے جس کا نتیجہ میں آخرکار اقلیتوں اور ’’غیر ملکیوں‘‘ کو نشانہ بنایا جائے گا اور اندرون ملک ناراض افراد بھی نشانہ بنیں گے ۔ میں نے دیکھا ہے کہ لوگوں پر خوف چھارہا ہے ۔ اس سے کارکنوں ، فنکاروں اور دانشوروں کو خاموش کردینے کا سنگین خطرہ ہے ، ہمیں یہ بات پہلے ہی سے معلوم تھی ۔
طالبان کا ہندو روپ اپنی حیثیت منوارہا ہے ۔ ہندوستانیوں سے کہا جارہا ہے کہ یا تو اس نظریہ کو قبول کرلو یا پھر بقول میرے ایک دوست کے جو بھی اختلاف رکھتا ہو اس پر زبردست جبر کیا جاتا ہے ۔ گذشتہ ماہ کئی ہندوستانی مصنفین نے بطور احتجاج اپنے ادبی ایوارڈس واپس کردئے ۔ یہ مسلمانوں کے خلاف فرقہ وارانہ تشدد اور دانشوروں پر حملوں کے خلاف احتجاج تھا ۔ ہندوستان ایک ارب 25 کروڑ افراد کی آبادی کا ملک ہے جن میں 96 کروڑ 50 لاکھ ہندو اور 17 کروڑ مسلمان ہیں ۔ رواداری کی دیرینہ روایت ہے ۔ اختلافات کے باوجود یہ زبردست ملک متحد ہے ۔ لیکن حکومت کے عسکریت پسند ہندوازم نے دیگر مذاہب کو غیر اہم کردینے کی پالیسی اختیار کی ہے جس سے یہ بندھن ٹوٹ سکتا ہے ۔ ہم میں سے کئی افراد کو خؤف ہے کہ ایسا ہوجائے گا  ۔
برطانیہ میں ہمیں اظہار خیال کی آزادی ہے ۔ اس کے باوجود ہمیں دو محاذوں پر کام کرنا ہے ۔ کیمرون سے مطالبہ کرنا چاہئے کہ انسانی حقوق کی قیمت پر مالیاتی سودے نہ کریں ۔ مودی پر دباؤ ڈالیں کہ حکومت ہند کے حقیر ریکارڈ برائے حقوق کی جوابدہی کریں ۔ ہندوستانی شہریوں ، صحافیوں اور تنظیموں کی بڑھتے ہوئے سرکاری جبر اور ہندو جنون کی مخالفت کو تسلیم کریں ۔ ہمارا فرض ہے کہ ان لوگوں کے لئے آواز اٹھائیں جنھیں مودی خاموش کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ہمیں ایسا کرنے کی آزادی ہے ۔
(بشکریہ گارجین لندن)

TOPPOPULARRECENT