Wednesday , September 20 2017
Home / مضامین / ہندوستان کا اتحاد اور یکجہتی یہی بھارت ہے

ہندوستان کا اتحاد اور یکجہتی یہی بھارت ہے

 

کے پرتاپ ریڈی ،سینئر ایڈوکیٹ
حالانکہ ہمارے دستور کے دیباچہ میں بالکل واضح انداز میں یہ کہا گیاہے کہ ہمارے ملک کا اتحاد اور یکجہتی دستور کا ایک اہم جز ہے ۔ یہ ضروری ہے کہ ہندوستانی قوم کی تاریخی ترقی کا ایک جائزہ لیا جائے تاکہ اس عنصر کا جائزہ لینے اور اسے سمجھنے میں مدد ملے جس میں کہا گیا ہے ’’ ہمارے ملک کا اتحاد اور یکجہتی ‘‘ اہم ہے ۔ ہم کو اس بات پر خوشی منانے کی ضرورت ہے کہ ہندوستانی قوم در اصل دنیا کی تقریبا تمام نسل ‘ مذاہب ‘ تہذیبوں اور ثقافت پر مشتمل ہے ۔ دنیا میں ایسی کوئی قوم نہیں ہے جو اتنی زیادہ ہمہ جہتی نسلوں ‘ مذاہب ‘ تہذیب اور ثقافت پر مشتمل ہوگی ۔ آپ چاہے دنیا کے کسی بھی مذہب یا نسل کا نام لے لیجئے یہ سب کچھ ہندوستان میں موجود ہیں۔
جو تاریخ دستیاب نہیں ہے اس سے قطع نظر آریائی قوم ( جو ہندوستان آنے سے قبل شکار پر انحصار کرتی تھی ) نے یہاں پانی کے بے تحاشہ قدرتی وسائل اور زرخیز اراضیات کا پتہ چلایا تھا جس سے انہیں غذا کی پیداوار میں مدد ملی ۔ یہاں کے حالات کو دیکھتے ہوئے خانہ بدوش آریائی قبیلے یہاں ایک مہذب اور تہذیب یافتہ انسانی نسل میں بدل گئے اور ہندوستان کی سرزمین پر بہت جلد خود کو مختلف مذاہب میں تبدیل کردیا ان میں ہندو ( برہمنی ) بدھسٹ ‘ جین ‘ چروواکا وغیرہ شامل ہیں۔ آریائی قبیلوں کے بعد کنشکا کی قیادت میں کوشن قبیلے یہاں آئے ۔ اس کے بعدچوتھی صدی میں ہونس یہاں آئے ۔ اس کے بعد یہاں پارسی ‘ چینی ‘ یونانی ‘ یہودی ‘ عیسائی وغیرہ بھی آئے ۔ یہ سب یہاں آکر بس گئے اور انہیں یہاں پناہ حاصل ہوئی ۔ ہندوستان کی سرزمین کو انہوں نے اپنے نادر وطن کی طرح اختیار کرلیا ۔ عرب تاجروں کے طور پر یہاں آئے اور انہیں کالی کٹ ( موجودہ کوذی کوڈ ) میں ہندو راجہ زومارن نے پناہ دی ۔ ایسے میں عرب سب سے پہلے کیرالا میں بسے اور وہ ہندوستانی قوم کا حصہ بن گئے ۔ دنیا کی تمام نسلوں ‘ مذاہب ‘ کلچر اور تہذیبوں پر مشتمل ہندوستانی قوم کی تعمیر پر عظیم شاعر علامہ اقبال نے صرف ایک جملہ میں بیان کردیا ۔ انہوںنے کہا تھا کہ ’ قافلے چلتے رہے ۔ اور ہندوستان بنتا گیا ‘

حالانکہ ہندو مذہب کی اصل کی کوئی تاریخی توثیق ہنیں ہے لیکن عیسائیت ایسا لگتا ہے کہ اپنی اصل کے ساتھ ہی ہندوستان آئی اور اس کے آثار کم سے کم دوسری صدی عیسوی سے ملتے ہیں۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہندوستان میں برطانوی راج کے تقریبا 1800 سال قبل عیسائیت ہندوستان آئی تھی ۔ اس پر تفصیل سے روشنی بعد میںڈالی جائیگی ۔ کچھ مسلم بھائیوں کا یہ دعوی ہے کہ مسلمانوں نے ہندوستان پر تقریبا 700 سال حکومت کی ہے ۔ وہ یہ حقیقت بھول جاتے ہیں کہ ہندوستان میں مسلم حکومت کے قیام سے پہلے ہی یہاں اسلام آچکا تھا ۔
یہ چھٹی صدی کے اواخر کا وقت تھا جب عرب میں پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی ﷺ نے اسلام کی آمد کا اعلان کیا ۔ اس کے بعد اس عقیدہ کو قبول کرنے والوں کو مسلمان قرار دیا گیا ۔ یہ لوگ بعد میں عرب ‘ افغان ‘ ترک اور ایرانی بھی قرار پائے ۔ سب سے پہلے جو عرب ہندوستان صرف تجارت کی غرض سے آئے تھے انہیں ہندو بادشاہ زومارن نے کیرالا میں پناہ دی تھی ۔ ایسے میں یہ حقیقت ہے کہ بحیثیت مذہب اسلام ہندوستان میں چھٹی اور ساتویں صدی میں آیا اور ہندوستان میں پہلی مسلم سلطنت کا قیام بارہویں صدی عیسوی کے اواخر میں عمل میں آیا تھا ۔

جواہر لال نہرو نے اپنی معروف کتاب ’ ڈسکوری آف انڈیا ‘ کے چیاپٹر چار میں صفحہ نمبر 244 پر ہندو ۔ مسلم کلچر اور ہند ۔عرب تعلقات کاتذکرہ کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں کہ ’’یہاں کوئی حملہ نہیں کیا گیا ۔ ہندوستان اور عرب دنیا کے مابین تعلقات سفر اور سفارتی مہم کے تبادلوں سے بڑھے ہیں۔ ہندوستانی کتابوں اور خاص طور پر ریاضی اور نجوم سے متعلق کتابوں کو بغداد لیجایا گیا تھا اور ان کا عربی میں ترجمہ کیا گیا تھا ۔ کئی ہندوستانی معالج بغداد گئے تھے ۔ یہ تجارتی اور ثقافتی تعلقات صرف شمالی ہند تک محدود نہیں تھے ۔ ہندوستان کی جنوبی ریاستوں نے بھی ان میں حصہ لیا تھا ۔ خاص طور پر مغربی ساحل کے راشٹرا کوٹاس بھی تجارت کی غرض سرگرم رہے تھے ‘‘۔ ان مسلسل رابطوں کی وجہ سے ہندوستانی عوام اس نئے مذہب ’ اسلام ‘ سے واقف ہونے لگے ۔ اس نئے مذہب کی تبلیغ کیلئے گروپس بھی آنے لگے اور ان کا خیر مقدم کیا گیا ۔ یہاں مساجد تعمیر کی گئیں۔ اس پر حکومت یا عوام نے کوئی اعتراض نہیں کیا اور نہ ہی کوئی مذہبی تنازعات پیدا ہوئے ۔ ہندوستان کی قدیم روایت یہ ہے کہ تمام مذاہب اور ہر طرح کی عبادت کے تئیں رواداری اختیار کی جائے ۔ ایسے میں یہ میرا خیال ہے کہ اسلام ایک سیاسی طاقت سے کئی صدیوں قبل ایک مذہب کی حیثیت سے ہندوستان آچکا تھا ۔
ہمارے لئے یہ تسلیم کرنا بہت اہمیت کا حامل ہے کہ تمام نسلوں ‘ مذاہب اور تہذیبوں سے تعلق رکھنے والے افراد ہندوستان آئے اور یہاں بس گئے اور انہوں نے اس ملک کو اپنا ملک تسلیم کرلیا ۔ یہ ملک ان سب کا بھی اتنا ہی جتنا سب سے پہلے یہاں قابض ہونے والے آریائی باشندوں کا دعوی ہے ۔ آریائی باشندے اس ملک کو اپنا ملک اور بعض موقعوں پر ہندو راشٹر بھی قرار دیتے ہیں۔ یہاں میں ایک چھوٹا واقعہ بیان کرتا ہوں جو ایک پارسی شادی میں میرے ساتھ پیش آیا تھا اس واقعہ سے ہمارا موضوع بحث جو مسئلہ ہے ’ قومی یکجہتی ‘ کا اس کو زیادہ قابل عمل اور حقیقی انداز میں سمجھنے میں مدد ملے گی ۔ مجھے ایک پارسی دوست اور موکل سری اٹالیہ نے شادی کی ایک تقریب کیلئے مدعو کیا تھا ۔ اس تقریب میں ‘میں نے محسوس کیا کہ پارسی پجاری بھی وہی رسوم ادا کر رہا تھا ۔ وہ آگ جلا رہا تھا اورچاول پھینک رہا تھا ۔ میں نے پجاری سے پوچھا کہ آیا وہ ہندو مذہبی رسوم ادا کر رہا ہے ۔ پارسی پجاری نے احتجاج کیا کہ در اصل ہندووں نے آگ جلانے اور چاول پھینکنے کے پارسی طریقوں کی نقل کی ہے ۔

اس پس منظر میں یہ پتہ چلتا ہے کہ ہم سب کو اپنے ذہن اور سوچ کو وسیع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ سمجھا جاسکے کہ قوم کا اتحاد اور یکجہتی برقرار رکھنا کتنا ضروری ہے ۔ اسی حقیقت کی بنیاد پر ہمارے دستور کے معماروں نے ہندوستان کے عوام کو ’’ ہم ‘ ہندوستانی عوام ‘‘ قرار دیا تھا جس میں لازمی طور پر ہندو ‘ مسلمان ‘ عیسائی ‘ پارسی ‘ جین ‘ سکھ ‘ چینی ‘ یہودی اور تمام مذاہب ‘ نسل اور تہذیبوں کے سب لوگ شامل ہیں۔ جہاں ہم بڑے فخر سے اعلان کرتے ہیں کہ ہمارا ملک عوام کے بنیادی حقوق کے ساتھ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے اور اس میں قوم کے تمام اصول موجود ہیں لیکن ہم بڑی آسانی سے یہ فراموش کرجاتے ہیں کہ بے بنیاد وجوہات کی بنا پر فرقہ وارانہ تنازعات بڑھتے جا رہے ہیں جو کسی بھی مہذب سماج کیلئے باعث شرم ہیں۔
21 ویں صدی میں زندگی گذارنے اور بیرونی راج سے آزادی حاصل کرنے کے 70 سال بعد بھی ہماری کوئی اہمیت نہیں ہے اور اقوام متحدہ کے دائرہ میں ہماری مسلمہ حیثیت ایک عظیم ملک کی نہیں ہے ۔ ہماری آبادی کا 50 فیصد سے زائد حصہ خط غربت سے نچلی زندگی گذار رہا ہے اور زندگی کی بنیادی ضروریات کیلئے جدوجہد کر رہا ہے ۔ تعلیم ‘ صحت اور دفاع کے شعبہ میں ہمارے ملک کی ترقی دنیا کے کئی دوسرے ممالک سے کم ہے جو ہم سے بہت چھوٹے ہیں۔ یہ ایک قابل تشویش بلکہ قابل شرم بات ہے کہ ہم دنیا کی چوتھی بڑی فوج رکھنے کے دعویدار ہیں لیکن ہم کو اب بھی بیرونی اور داخلی عدم سکیوریٹی کے اندیشوں کو روکنے اسرائیل جیسے ملک پر انحصار کرنا پڑتا ہے ۔ ایسے میں یہ ہمارے لئے ضروری ہے کہ اس طرح کی حالت کی وجوہات کا پتہ چلائیں اور اس مسئلہ کو حل کریں۔
جیسا کہ ابتداء میں کہا گیا ہے کہ ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ہم ہمہ نسلی ‘ ہمہ مذہبی اور ہمہ تہذیبی ملک والے ہیں ‘ ہم ان سب کو ایک قوم میں متحد کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ یہی وہ واحد عنصر ہے جو یہ واضح کرتا ہے کہ کس طرح ہمارے ملک میں آنے والے ہر کوئی کامیاب رہے اور کس طرح سے بالآخر برطانوی سامراجی طاقت نے ‘ جو بحیثیت تاجر ہندوستان آئی تھی ‘ سارے ملک پر قبضہ کرلیا اور خود کو اس سامراجی اقتدار سے تقریبا 100 سال کی جدوجہد کے بعد آزاد کروانا ہمارے لئے کتنا مشکل تھا ۔ یہ یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ جدوجہد آزادی کی طویل تاریخ کے دوران سامراجی طاقتوں نے کس طرح سے ہر ممکن کوشش کی کہ ملک کو خود ساختہ دو قومی نظریہ میں بانٹ دیا جائے ۔ حالانکہ جیسا کہ پہلے بیان کیا جاچکا ہے کہ ہندو اور مسلمان اپنے مذہب اور نسل کے ساتھ نہ صرف یہاں پر امن طور پر رہے بلکہ انہوں نے مشترکہ طور پر خود کو سامراجی طاقتوں سے آزاد کروانے کیلئے مقابلہ بھی کیا ۔ لیکن یہ یقینی طور پر ایک عظیم سانحہ رہا کہ ہمارے کچھ مجاہدین آزادی برطانوی سامراجی طاقت کے ان عزائم اور برائی کا شکار ہوگئے اور بالآخر ملک کو ہندوستان اور پاکستان میں تقسیم کردیا گیا ۔ اس سے ایک وسیع انسانی سانحہ پیش آیا ۔ ہم یہ بھی فراموش کرچکے ہیں کہ برطانوی حکمرانی کے ناپاک عزائم بھی زیادہ دیر تک قائم نہیں رہے اور بالآخر دو قومی نظریہ بھی ختم ہوا اور اس کے نتیجہ میں تین ممالک ہندوستان ‘ پاکستان اور بنگلہ دیش قائم ہوگئے ۔ ( باقی آئندہ )

TOPPOPULARRECENT