Saturday , September 23 2017
Home / کھیل کی خبریں / ہندوستان کا آج ورلڈ کپ میں نیوزی لینڈ سے مقابلہ

ہندوستان کا آج ورلڈ کپ میں نیوزی لینڈ سے مقابلہ

ناگپور ۔ 14؍ مارچ ( سیاست ڈاٹ کام)  آئی سی سی ٹوئنٹی 20 ورلڈ کپ کے چھٹے ایڈیشن کے اصل مقابلوں کا کل یہاں میزبان ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان کھیلے جانے والے مقابلہ سے ہو رہا ہے جہاں ہندوستانی ٹیم کو اس ٹورنمنٹ میں خطاب کے لئے سب سے پسندیدہ موقف حاصل ہے لیکن کوئی بھی ٹیم دو مرتبہ یہ خطاب حاصل نہیں کر پائی ہے نیز کوئی میزبان ٹیم ٹوئنٹی 20 خطاب اپنے نام کرنے میں ہنوز کامیاب نہیں ہوسکی ہے جس کے باوجود مہندر سنگھ دھونی کی زیر قیادت ہندوستانی ٹیم ان تمام ریکارڈس کو اپنے کرنے کی کوشاں ہے ۔ 2007 کی چمپئن ہندوستان ٹورنمنٹ کے سوپر 10 میں اپنا پہلا مقابلہ نیوزی لینڈ سے کر رہی ہے اور اس مقابلہ میں میزبان ٹیم کو پسندیدہ اس لئے بھی حاصل ہے کہ وہ مختصر طرز کی کرکٹ کی عالمی درجہ بندی میں پہلے مقام پر فائز ہونے کے علاوہ گذشتہ سات مقابلوں میں ناقابل تسخیر ہے ۔ علاوہ ازیں وہ آسٹریلیا ‘ سری لنکا کے علاوہ بنگلہ دیش میں منعقدہ ایشیاء کپ میں بھی خطاب حاصل کیا ہے ۔ شاندار مظاہروں کے باوجود ہندوستانی ٹیم کو نیوزی لینڈ کے خلاف گذشتہ چار مقابلوں میں شکست ہوئی ہے اور کل وہ حریف ٹیم کے خلاف مسلسل ناکامیوں کے سلسلہ کو توڑنے کی کوشاں ہوگی ۔ میزبان ٹیم کے ویراٹ کوہلی کا شاندار فام اہمیت کا حامل ہے جبکہ اننگز کے آغاز میں شکھر دھون کے مظاہروں میں عدم استقلال تشویش کا باعث ہے ۔ بولنگ شعبہ میں تجربہ کار آشیش نہرا کا شاندار فارم خوش آئند ہے جبکہ جسپرپ بومبرا اور پانڈیا کے مظاہرے بھی خوش آئند ہیں ۔ ہندوستانی ٹیم روہت شرما سے ایک تیز رفتار شروعات کی خواہں ہے جبکہ مڈل آرڈر میں سریش رائنا ‘ یوراج سنگھ اور کپتان دھونی کی موجودگی ٹیم کو طاقتور بنا رہی ہے ۔ دوسری جانب نیوزی لینڈ کی ٹیم میں کئی ایسے نام شامل ہیں جو ہندوستان کے لئے مسائل پیدا کرسکتے ہیں حالانکہ انہیں برق رفتار بیٹنگ کرنے والے کپتان برنڈن مکالم کی سبکدوشی کی کمی شدت سے محسوس ہوگی ۔ نئے کپتان کین ولیمنس بہترین فارم میں ہیں جن کے مارٹن گپٹل ’ کولن منرو‘ گرینٹ الیاٹ ‘ راس ٹیلر اور کوری اینڈرسن ہندوستان کے لئے پریشانی بن سکتے ہیں ۔ بولنگ شعبہ میں بائیں ہاتھ کے فاسٹ بولر کے علاوہ سیدھے ہاتھ سے بولنگ ڈالنے والے بولروں سے بھی ہندوستان کو مشکلات ہوسکتی ہیں۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم بھی گذشتہ پانچ مقابلوں میں چار فتوحات حاصل کی ہیں جن میں سری لنکا اور پاکستان کے خلاف ہوم سیریز کے خطاب بھی شامل ہیں ۔  آئی سی سی کے چٹھے  ورلڈ کپ سے شروع ہونے کے ساتھ ہی سب کی نظریں ہندوستان کے دوسری مرتبہ خطاب جیتنے پر مرکوز ہوگئی ہیں جیسا کہ ناگپور میں میزبان  اور نیوزی لینڈ کا مقابلہ ہوگا ۔ اگر دھونی کی قیادت میں ہندوستانی ٹیم کامیاب ہو تو میزبان ٹیم  اعزاز دو مرتبہ حاصل کرنے والی  پہلی ٹیم بن جائے گی۔  اس سے قبل کھیلے گئے5 ورلڈ کپ ایونٹس میں کوئی بھی ٹیم دومرتبہ ورلڈکپ جیتنے کا اعزاز حاصل نہیں کرسکی۔ اس فارمیٹ کا پہلاورلڈکپ2007 جنوبی افریقہ میں کھیلا گیا جوہندوستان  نے جیتا، جبکہ پاکستان رنراپ رہا۔ دوسرا ورلڈکپ 2009میں انگلینڈ میں کھیلا گیا اور پاکستان  چیمپئن بنا تھا جبکہ  سری لنکاکو خطابی مقابلے میں شکست ہوئی تھی۔ تیسرا ورلڈکپ 2010 میں ویسٹ انڈیز میں کھیلا گیا جو انگلینڈ نے جیتا اور آسٹریلیا رنر اپ رہا۔ چوتھا ورلڈکپ 2012میں سری لنکا میں کھیلاگیا اور کامیابی کا تاج ویسٹ انڈیز کے سر سجا سری لنکائی ٹیم اس مرتبہ بھی رنر اپ رہی۔ پانچواں ورلڈکپ2014میں بنگلہ دیش میں کھیلاگیا جس میں قسمت نے سری لنکا کا ساتھ دیا اور وہ پہلی مرتبہ چیمپئن بنی  اس نے فائنل میں ہندوستان کو شکست دی تھی۔

TOPPOPULARRECENT