Friday , August 18 2017
Home / ہندوستان / ’ہندوستان کا تاج جل رہا ہے ‘ پر گرمی دہلی تک نہیں پہونچتی‘

’ہندوستان کا تاج جل رہا ہے ‘ پر گرمی دہلی تک نہیں پہونچتی‘

راجیہ سبھا میں غلام نبی آزاد کا ریمارک ۔ وزیر اعظم کی خاموشی پر سوال ۔ کرفیو کا ایک ماہ مکمل
اسرائیل تک بھی فلسطینیوں کے خلاف پیالٹ گنس کا استعمال نہیں کرتا ۔ سیتا رام یچوری

نئی دہلی 8 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) راجیہ سبھا میں آج اپوزیشن نے وزیر اعظم نریندر مودی سے کہا کہ وہ کشمیر میں جاری تشدد پر اپنی خاموشی کو توڑیں جبکہ کانگریس نے کہا کہ ’’ ہندوستان کا تاج جل رہا ہے ‘‘ ۔ پارٹی نے مطالبہ کیا کہ مرکزی حکومت کشمیر میں حالات کو سدھارنے سیاسی عمل شروع کرے ۔ کشمیرمیں چونکہ کرفیو 30 ویں دن بھی جاری رہا ہے اپوزیشن جماعتوں نے مطالبہ کیا کہ سکیوریٹی فورسیس کی جانب سے احتجاجیوں کے خلاف پیالٹ گن کا استعمال روک دیا جائے ۔ منسٹر آف اسٹیٹ پارلیمانی امور مختار عباس نقوی نے کہا کہ حکومت کشمیر کی صورتحال پر مباحث کیلئے تیار ہے

اورا سے کل شیڈول میں شامل کیا جاسکتا ہے ۔ انہوںنے واضح کیا کہ ریاست کے تعلق سے حکومت کے عزم پر کوئی شک نہیں رہنا چاہئے ۔ وقفہ صفر کے بعد رول 267 کے تحت اپنی نوٹس کے مسترد کردئے جانے کے بعد یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے قائد اپوزیشن غلام نبی آزاد نے کہا کہ آزاد ہندوستان کی کسی بھی ریاست میں مسلسل 30 تک کرفیو کا سلسلہ جاری نہیں رہا جس سے انتظامیہ بھی مفلوج ہوکر رہ گیا ہے ‘ تعلیمی ادارے بند ہوگئے ہیں اور سرکاری دفاتر میں حاضری بھی صفر کے قریب پہونچ گئی ہے ۔ اس صورتحال میں ہم حکومت کو جگانا چاہتے ہیں۔ ہمارا احساس ہے کہ حکومت اور وزیر اعظم صورتحال کو بگڑتے ہوئے خاموش تماشائی کی طرح دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم جاننا چاہتے ہیںکہ مودی نے کشمیر کی سنگین صورتحال پر اب تک لب کشائی کیوں نہیں کی ہے ۔ انہوں نے ریمارک کیا کہ ’’ ہندوستان کا تاج جل رہا ہے ۔ پر اسکی گرمی دہلی تک نہیں پہونچتی ‘‘ ۔ انہوں نے کہا کہ پیالٹ گن کے استعمال کی وجہ سے 8,000 افراد بشمول سکیوریٹی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ آنکھوں کی 410 اور دوسری 1,650 سرجریز کی اطلاع ہے ۔

انہوںنے کہا کہ جملہ 1018 واقعات پیش آئے ہیں۔ زائد از ایک ہزار نوجوان جیلوں میں ہیں۔ برائے مہربانی اس کو لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ نہ سمجھا جائے ۔ وزیر اعظم کی خاموشی پر سوشیل میڈیا میںہونے والے تبصروں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لوگ اس صورتحال پر ان کی رائے جاننا چاہتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم سے کہا کہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کیا جائے جس میں قائدین صورتحال کو بحال کرنے تجاویز پیش کرسکیں۔ سی پی ایم کے رکن سیتارام یچوری نے مسلسل 30 دن سے جاری کرفیو پر تکلیف اور حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ وادی میں سوائے مسلح افواج کے کوئی کام نہیں کر رہا ہے ۔ فائرنگ کے 1000 سے زائد واقعات پیش آئے ہیں۔ 8000 افراد زخمی اور 60 ہلاک ہوئے ہیں۔ انہوں نے پیالٹ گن کے استعمال کو غیر انسانی اور مجرمانہ قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ یہاں تک کہ اسرائیل بھی فلسطینیوں کے خلاف پیالٹ گنس استعمال نہیں کرتا۔

TOPPOPULARRECENT