Sunday , October 22 2017
Home / مذہبی صفحہ / ہندوستان کا تکثیری سماج اور گاؤ رکھشک کا ظلم و استبداد

ہندوستان کا تکثیری سماج اور گاؤ رکھشک کا ظلم و استبداد

آ، اِک نیا شوالہ اس دیس میں بنادیں
جب سے بی جے پی حکومت اقتدار پر آئی ہے ہندوتواغیرسماجی عناصر خود کو محفوظ سمجھنے لگے ہیں اور برسرعام بلاخوف و خطر انسانیت سوز جرائم کا ارتکاب کرتے جارہے ہیں اور درپردہ ان کی ہمت افزائی کی جارہی ہے ، وہ مواخذہ اور محاسبہ سے بے فکر و مطمئن ہوگئے ہیں۔ ارباب مجاز کی عدل و انصاف سے دانستہ چشم پوشی اور قانون کی بالادستی سے پہلوتہی ہندوستانی سماج کے لئے نہایت مہلک ثابت ہوسکتی ہے ۔ ان حالات میں بطور خاص گاؤ کے تحفظ کے نام پر مسلسل ، یکے بعد دیگرے مختلف مسلمانوں کے بے دردانہ قتل و شہادت پر غیرمسلم برادران وطن کا دلبرداشتہ ہوکرسڑکوں پر نکل آنا اور ان گھناؤنے جرائم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنا ہم مسلمانوں کی حمیت اسلامی اور غیرت ایمانی کو جھنجھوڑنے کے لئے کافی ہونا چاہئے ۔ کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ ہم مسلمان اپنے باہمی مسائل و اختلافات کو پس پشت ڈال کر مسلمانوں کی جان و مال ، عزت و ناموس کے تحفظ کے لئے متحد ہوجائیں ۔ کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ ہم اسلام کی آفاقیت اور عالمگیر وسعت نظری کے حقیقی حامل ہوکر ہندوستان کے تکثیری سماج کو اسلام کی انسانیت نواز تعلیمات اور نظریہ قومی یکجہتی سے عملی طورپر روشناس کروائیں تاکہ ان کو اسلام کے جمال و عظمت کا پتہ ہو اور مظلوم مسلمانوں کے لئے امید کی کرن ہو اور ظالم کو قانون کے مضبوط شکنجے میں جکڑکر غیرسماجی عناصر کے ناپاک عزائم و منصوبوں میں ناکامی اور نامرادی ہو۔
ہندوستان جن حالات سے گزر رہا ہے اس پر افسوس تو بہت ہے لیکن اس سے بڑھکر افسوس کا مقام یہ ہے کہ مسلم قوم میں اس قدر فکری انحطاط اور تنگ نظری آگئی ہے کہ وہ مذہب اسلام کو ایک محدود اور نہایت تنگ داماں سمجھنے لگے ہیںنیز اسلام کی حقیقی حلاوت و چاشنی سے یکسر محروم معلوم ہوتے ہیں ۔ اس بارے میں طبقہ عوام تو کجا طبقۂ خواص بھی حیراں و ششدر ہے اور اس قدر باہمی مسلکی اختلافات میں گھرگئے ہیں کہ اس سے بلند ہوکر موجودہ وقت میں ہندوستان کے حالیہ حالات کے تناظر میں مسلمانوں کی رہنمائی کرنے سے قاصر ہیں جبکہ صوفیہ کرام نے ہندوستان میں اسلام کی آمد کے ساتھ ہی برادران وطن کے ساتھ پیار و محبت ، رواداری ، امن و امان کے ساتھ رہنے کی عملی مثالیں قائم کیں ہیں ۔ چنانچہ کتاب ’’برصغیر کے اولیاء …ص :۶ میں کرسٹنفر شیکل اپنے پیش لفظ میں رقمطراز ہے :
’’برصغیر میں اسلام کی ترویج اور فروغ میں ان صوفیائے کرام کا بہت بڑا حصہ ہے ، انھوں نے اپنے زمانے کی مذہبی اور ثقافتی حد بندیوں کو ایسے توڑا کہ ہندو آبادی بھی ان کی گرویدہ ہوگئی، صوفیانہ شاعری اور درگاہی (خانقاہی ) روایات نے مقامی آبادی کے دلوں میں ایسا گھر کیا ہے کہ ان کے روحانی فیضان کا چشمہ آج تک جاری ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ حکمرانوں اور اپنے زمانے کے شاعروں اور عالموں کے نام بھلادیئے گئے لیکن ( حضرت ) بابا فریدالدین گنج شکر اور ان کے مرید خاص ( حضرت) نظام الدین اولیاء کا نام آج بھی لاکھوں کروڑوں انسانوں کے دلوں میں زندہ ہے ‘‘۔
پروفیسر خلیق احمد نظامی کی مشہور و معروف تصنیف سلاطین دہلی کے مذہبی رجحانات ص : ۴۵۱ میں سکندر لودھی کے عہد کا ایک اہم واقعہ جو اسلام کے نظریۂ قومی یکجہتی کی بہترین مثال ہے درج ہے کہ سکندر لودھی کروکیشتر کے مشہور کنٹہ کو تباہ کرنے کے متعلق مختلف علماء سے مشورہ لینے کے لئے ایک محضر طلب کیا ۔ حاضر علماء کی جماعت نے ملک العلماء میاں عبداﷲ اجودھنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی موجودگی میں کون اظہاررائے کی جرأت کرسکتا ہے ؟ شہزادہ (سکندر لودھی) میاں عبداﷲ کی طرف متوجہ ہوا ۔ انھوں نے دریافت کیا کہ کروکیشتر میں کیا چیز ہے ؟ جواب ملا ایک حوض ہے جہاں کفار ہر شہر سے جمع ہوکر آتے ہیں اور غسل کرتے ہیں ۔ پوچھا کب سے یہ رسم جاری ہوئی ہے ؟ جواب دیا قدیم رسم ہے ؟ میاں عبداﷲ نے تفصیلات معلوم کرنے کے بعد فتوی دیا کہ :
کسی قدیم بت خانہ کو تباہ کرنا جائز نہیں ۔ سکندر کو اس بات پر غصہ آگیا اور خنجر پر ہاتھ رکھ کر کہنے لگا کفار کی طرفداری کرتا ہے میں پہلے تجھے مارونگا پھر کروکیشتر کو تباہ کرونگا ۔
میاں عبداﷲ نے نہایت جرأت سے جواب دیا : موت حق ہے ، اﷲ کے حکم کے بغیر کوئی نہیں مرتا جب کوئی ظالم کے پاس آتا ہے پہلے اپنی موت کے لئے تیار ہوکر آتا ہے جو کچھ بھی ہوناہے وہ ہوجائے جب آپ نے مجھ سے دریافت کیا تو میں نے شریعت کا مسئلہ بیان کردیا ۔ اگر شریعت کی پرواہ نہیں ہے تو پھر پوچھنے کی کیا ضرورت تھی ؟
ملک العلماء میاں عبداﷲ اجودھنی کا دو ٹوک و جرأتمند جواب برادران وطن کی قدیم زیارت گاہ کے تحفظ اور اسلامی نقطۂ نظر کی عمدہ مثال ہے ۔
یہ بات اظہرمن الشمس ہے کہ ہندوستان میں اسلام کی آمد سے قبل نہ برہمنوں نے قومی یکجہتی کے ذریعہ آپسی اتحاد کا پاٹ پڑھایا اور نہ ہی ویش، چھتری اور شودر کے ذہن میں یہ بات آئی اور نہ آریا سماج اور دراوڑوں نے اس سلسلہ میں کوششیں کیں۔ یہ صرف اور صرف اسلام کا فیضان ہے کہ جب صوفیہ کرام کے ذریعہ ہندوستان میں اسلام آیا تو ان بزرگوں نے اپنے کردار کے ذریعہ بقائے باہم ، قومی یکجہتی ، باہمی رواداری کی عظیم بنیادیں رکھیں۔ انہی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کی مذموم کوششیں جاری ہیں ۔ جس کے سدباب کے لئے مسلمانوں بالخصوص مذہبی رہنماؤں کو اپنا کردار نبھانے کی ضرورت ہے ۔
آ غیریت کے پردے اک بار پھر اُٹھادیں
بچھڑوں کو پھر ملادیں نقشِ دوئی مٹادیں
سونی پڑی ہوئی ہے مدت سے دل کی بستی
آ، اک نیا شوالہ اس دیس میں بنادیں
(علامہ اقبالؔ)

TOPPOPULARRECENT