Thursday , October 19 2017
Home / Top Stories / ہندوستان کا ’’وزیراعظم مکت پارلیمنٹ‘‘ سے سمجھوتہ

ہندوستان کا ’’وزیراعظم مکت پارلیمنٹ‘‘ سے سمجھوتہ

پارلیمنٹ کے اجلاسوں سے وزیراعظم کی غیرحاضری پر کانگریس کا تبصرہ
نئی دہلی ۔ 10 اگست (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس نے آج وزیراعظم مودی پر پارلیمنٹ سے ان کی غیرحاضری کے سلسلہ میں تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہندوستان کو مجبور کردیا گیا ہے کہ وہ وزیراعظم مکت پارلیمنٹ سے سمجھوتہ کرلے‘‘۔ وزیراعظم مودی کے عہدہ کا جائزہ لینے کے بعد انہوں نے کہا تھا کہ پارلیمنٹ جمہوریت کا مندر ہے لیکن اس کے بعد آزاد ہند کی تاریخ میں پہلی بار کسی وزیراعظم نے اتنے غیرملکی دورے نہیں کئے۔ انہوں نے امریکہ کے بھی کئی دورے کئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ دستورہند حکومت کی واحد مقدس کتاب ہے لیکن آج ہندوستان کو وزیراعظم مکت پارلیمنٹ سے سمجھوتہ کرنے پر مجبور کردیا گیا ہے۔ مودی کو پارلیمنٹ اور اس کی کارروائیوں سے کوئی تعلق باقی نہیں رہا۔ انہوں نے کانگریس مکت بھارت کا نعرہ لوک سبھا کیلئے انتخابی مہم کے دوران لگایا تھا لیکن اب پارٹی کے ویب سائیٹ پر ہندوستان میں وزیراعظم مکت پارلیمنٹ ہے کا نعرہ درج کیا جانا چاہئے۔ کانگریس نے الزام عائد کیا کہ وزیراعظم صرف تقریر کرنے سے محبت کرتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ان کی تقریریں ملک کے مفاد میں نہیں بلکہ ووٹ بینک سیاست کیلئے ہوتی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وزیراعظم لوک سبھا میں کبھی کبھی نظر آتے ہیں۔ جب جی ایس ٹی بل اپنے آخری مرحلہ میں تھا تو انہوں نے راجیہ سبھا میں اس پر مباحث میں شرکت کی تھی اور یہ بائیسویں مرتبہ تھا جبکہ جی ایس ٹی بل پیش کیا گیا اور پہلی بار منظور کرلیا گیا۔ ارکان پارلیمنٹ عوام کے نمائندہ ہوتے ہیں اور پارلیمنٹ عوام کے ارادوں کی عکاس ہوتی ہے۔ کانگریس نے کہا کہ جب سنگین مظالم ہورہے تھے تو وزیراعظم کو عوام کی نمائندگی کی یکسوئی کرنی چاہئے تھی۔

حکومت کو کون جوابدہ بنا سکتا ہے۔ کیا وزیراعظم کی غیرحاضری جمہوریت کے مندر کی توہین کی علامت نہیں ہے۔ متعدد مواقع ایسے ہیں جبکہ وزیراعظم پارلیمنٹ کی عمارت میں موجود تھے لیکن انہوں نے ایوان کے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔ ماضی میں وزرائے اعظم نے پارلیمنٹ کے اجلاسوں میں شرکت کو اپنا مقصد قرار دیا تھا۔ زبانی خدمت کے بجائے مودی کو چاہئے تھا کہ پارلیمنٹ کو حقیقی وقت دیتے اور اس کے واسطہ سے 125 کروڑ ہندوستانیوں کی خدمت کرتے۔ انہیں وہ احترام دیتے جس کے کہ عوام مستحق ہیں۔ کانگریس کا یہ تبصرہ آج پارٹی کی ویب سائیٹ پر شائع کیا گیا ہے۔ انہوں نے اپنی تقریروں میں گاؤرکھشکوں پر تنقید کی لیکن گاؤ رکھشا کے بنانے دلتوں اور اقلیتوں پر مظالم کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ انہوں نے صرف ریاستی حکومتوں کو ہدایت دی کہ وہ نقلی گاؤرکھشکوں کے خلاف سخت کارروائی کریں۔ بعدازاں وزیراعظم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس کارروائی سے ان کا کوئی تعلق نہیں تھا کیونکہ یہ ریاستی حکومتوں نے کی تھی۔

TOPPOPULARRECENT