Tuesday , October 17 2017
Home / Top Stories / ہندوستان کو آئی ایس آئی ایس سے کوئی خطرہ لاحق نہیں

ہندوستان کو آئی ایس آئی ایس سے کوئی خطرہ لاحق نہیں

سیکوریٹی اور انٹلیجنس ایجنسیاں ہمہ وقت چوکس، وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کا بیان
نئی دہلی ۔ 4 ۔ مئی (سیاست ڈاٹ کام) حکومت نے آج راجیہ سبھا میں کہا ہے کہ ہندوستان میں آئی ایس آئی ایس کے بعض واقعات پیش آئے لیکن ہمارا ملک تشویشناک صورتحال سے دوچار نہیں ہے کیونکہ مسلمان زندگی کے اقدار پر کاربند ہیں اور وہ، دہشت گرد تنظیم کے حربوں اور ہتھکنڈوں کو کامیاب ہونے نہیں دیں گے ۔ وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے یہ ایقان ظاہر کیا کہ ہندوستان میں خطرناک دہشت گرد تنظیم کی سرگرمیوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا اور مستقل میں بھی ایسا کوئی اندیشہ نہیں ہے۔ ہندوستان میں آئی ایس آئی ایس کی سرگرمیوں  میں وسعت اور کسی مسلم تنظیم کے ملوث ہونے کے سوال پر جواب دیتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ مسلم برادری، ہندوستانی تہذیب اور روایتوں کی پاسدار ہے اور ملک میں فی الحال آئی ایس آئی ایس کی سرگرمیوں سے کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے اور میرا یہ ایقان ہے کہ ہندوستان میں آئی ایس آئی کی سرگرمیوں میں مستقبل قریب میں بھی کوئی اضافہ نہیں ہوگا کیونکہ مسلم برادری خود اس تنظیم کے نظریات اور عقائد کے یکسر خلاف ہے اور اس کے گھناؤنے عزائم کو ہرگز کامیاب ہونے نہیں دیں گے۔ قبل ازیں مملکتی وزیر داخلہ کرن رجیجو نے کہا کہ ہندوستان میں آئی ایس آئی ایس سے متاثر بعض سرگرمیاں پائی جاتی ہیں لیکن صورتحال تشویشناک نہیں ہے کیونکہ مرکزی اور ریاستی سطح پر سیکوریٹی اور انٹلیجنس ایجنسیاں چوکس اور چوکنا ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آئی ایس آئی ایس سے متعلق بعض کیسس درج کرتے ہوئے چند ایک گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں جو کہ زیر تحقیقات ہیں لیکن فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ہمارا ملک آئی ایس آئی ایس کے خطرہ سے نمٹنے کا اہل ہے۔ کیسوں اور گرفتاریوں کی تعداد پر وضاحت کرتے ہوئے مسٹر کرن رجیجو نے فی الحال 6 کیسس زیر تحقیقات ہے اور جس کی تفصیلات پیش کرنا ممکن ہیں ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) انتہائی پیشہ وارانہ طریقہ سے کیسوں کی تحیققات کر رہی ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ کوئی بے قصور کو ہراساں و پریشان نہ کیا جائے۔ اس سوال پر کہ کوئی مسلم لیڈر یا تنظیم مذکورہ کیسوں میں ملوث ہے، مرکزی وزیر نے کہاکہ کوئی تنظیم ملوث نہیں ہے کیونکہ مسلم قائدین اور تنظیمیں آئی ایس آئی ایس کی کھلے عام مخالفت کر رہی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT