Saturday , September 23 2017
Home / Top Stories / ہندوستان کو دہشت گردی ‘ فسادات و نفرت سے پاک بنا نا ضروری

ہندوستان کو دہشت گردی ‘ فسادات و نفرت سے پاک بنا نا ضروری

آر ایس ایس کی حمایت والی راشٹریہ مسلم منچ کی علما کانفرنس ۔ مسلمانوں میںتعلیم و روزگار کی ضرورت پر زور

لکھنو 8 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) آر ایس ایس کی حمایت سے منعقدہ ایک علما کانفرنس میں آج اس بات پر زور دیا گیا کہ مسلمانوں میں تعلیم اور روزگار کی ضرورت ہے ۔ اس کانفرنس میں مسلمانوں پر زور دیا گیا کہ وہ چند سیاسی قائدین کے مفادات کی تکمیل کا ذریعہ نہ بنیں۔ آر ایس ایس کی تائید والے مسلم راشٹریہ منچ نے آل انڈیا علما کانفرنس کا اہتمام کیا تھا جس میں دہشت گردی اور فرقہ وارانہ فسادات جیسے مسائل پر بھی اظہار خیال کیا گیا ۔ کانفرنس میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اسلام کو جہاد کے نام پر رسوا کیا جا رہا ہے ۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور جمیعت العلما ہند نے اس کانفرنس میں شرکت نہیں کی ۔ راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ ( آر ایس ایس ) کے کیندریہ پرچارک اندریش کمار نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی ؐ کے پیام امن کو دنیا بھر میں پہونچایا جائے ۔ انہوں نے ہندوستانی مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ اس پیام کو عام کرنے میں اہم رول ادا کریں۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے منچ کے کنوینر محمد افضل نے کہا کہ مسلمانوں کے تمام طبقات بھلے وہ دیوبندی ہوں ‘ شیعہ ہوں ‘ سنی ہوں یا بریلوی ہوں ایک پلیٹ فارم پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے اور مسلمانوں اب صرف ووٹ بینک نہیں رہیں گے ۔ انہوں نے مسلمانوں سے کہا کہ وہ سابق صدر جمہوریہ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کے اصولوں کی پابندی کریں۔ حضرت مولانا قاسم نے کہا کہ جہاد کے نام پر اسلام کو رسوا کیا جا رہا ہے اور یہ کام وہ لوگ کر رہے ہیں جو جہاد کے معنی نہیں سمجھتے ۔ انہوں نے کہا کہ جہاد کے معنی روشنی بکھیرنے کے ہیں اور یہ باطل کے خلاف جدوجہد کے ہیں۔ اس کانفرنس میں ریاستی دارالحکومت کا کوئی اہم مسلم لیڈر یا نمائندہ موجود نہیں تھا ۔ کرناٹک کے مولانا ابراہیم نے کہا کہ کوئی بھی شخص صرف نام سے مسلمان نہیں ہوسکتا ۔ جو کوئی انسانیت کے خلاف سرگرم ہو وہ حقیقی مسلمان نہیں ہوسکتا ۔

مولانا حیدر نے الزام عائد کیا کہ سیاستدانوں نے مسلمانوں کو آر ایس ایس کے خلاف اور ہندووں کو مسلمانوں کے خلاف اشتعال دلایا ہے ۔ آر ایس ایس لیڈر اندریش کمار نے کہا کہ مسلمانوں ہندوستان کیلئے جئیں گے اور ہندوستان کیلئے مریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ اب مسلمان اپنے ملک کیلئے جانیں قربان کردینگے کسی دوسرے ملک کیلئے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو دہشت گردی ‘ فسادات ‘ تشدد اور نفرت سے پاک بنانے کی ضرورت ہے ۔ اندریش کمار نے کہا کہ ملک میں بے شمار فسادات ہوئے ‘ لاتعداد افراد ہلاک ہوئے لیکن اس سے کوئی مقصد پورا نہیں ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اب بھی روزگار ‘ تعلیم اور ترقی سے دور ہیں۔ کیا ہم یہاں صرف چند مٹھی بھر قائدین کے سیاسی مفادات کا ذریعہ بننے کیلئے موجود ہیں ؟ ۔ برسر اقتدار سماجوادی پارٹی کا نام لئے بغیر انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایک مخصوص سیاسی جماعت مسلمانوں کو اپنا ووٹ بینک سمجھتی ہے لیکن اب زیادہ وقت تک ایسا نہیں رہیگا۔ اندریش کمار نے کہا کہ جس طرح عوام نے جدوجہد آزادی میں 1942 میں ہندوستان چھوڑدو کا نعرہ بلند کیا تھا اسی طرح انہیں دہشت گردی ‘ فسادات ‘ تشدد اور نفرت سے پاک ہندوستان کیلئے پیام دینا چاہئے ۔ جب اندریش کمار اس کانفرنس میں آئے تو کچھ نوجوانوں نے سیاہ جھنڈیاں دکھاتے ہوئے مظاہرہ کرنے کی کوشش کی ۔

TOPPOPULARRECENT