Wednesday , August 16 2017
Home / دنیا / ہندوستان کو رکنیت کی تائید ‘کالا دھن سے نمٹنے میں مدد کا تیقن

ہندوستان کو رکنیت کی تائید ‘کالا دھن سے نمٹنے میں مدد کا تیقن

صدر سوئٹزرلینڈ اور وزیراعظم مودی کی بات چیت ، مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب
جنیوا ۔6جون ( سیاست ڈاٹ کام ) این ایس جی کی  رکنیت کیلئے اپنے سفارتی دباؤ میں اضافہ کرتے ہوئے ہندوستان نے آج سوئٹزرلینڈ کی تائید کے حصول میںکامیابی حاصل کرلی ‘ جب کہ 48رکنی اعلیٰ سطحی نیوکلیئر سربراہ کنندہ گروپ کا اجلاس عنقریب منعقد کئے جانے والا ہے ۔ دونوں ممالک نے اتفاق رائے کیا کہ سوئٹزرلینڈ کی بینکوں میں ہندوستانیوں کے جمع کئے ہوئے کالا دھن کا پتہ چلانے میں باہمی تعاون میں اضافہ کیا جائے گا ۔ سوئٹزرلینڈ کے صدر جوہانگ شنیڈر امان نے اعلیٰ سطحی این ایس جی کی ہندوستان کو رکنیت کی تائید کا اعلان کیا ۔ قبل ازیں وزیراعظم نریندر مودی اور صدر سوئٹزرلینڈ نے کئی باہمی اور عالمی مسائل پر تبادلہ خیال کیا تھا ۔ سوئٹزرلینڈ این ایس جی کا ایک اہم رکن ہے اور اس گروپ کی رکنیت کی امیدواری میں ہندوستان کو سوئٹزرلینڈ کی تائید اہمیت رکھتی ہے کیونکہ چین نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ ہندوستان نیوکلیئر عدم پھیلاؤ معاہدہ کا دستخط کنندہ ملک نہیں ہے اس لئے اس گروپ کی رکنیت ہندوستان کو نہیں دی جاسکتی ۔ صدر سوئٹزرلینڈ نے مودی کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ہم نے این ایس جی رکنیت کیلئے ہندوستان کی امیدواری کی تائید کا تیقن دیا ہے ۔ قبل ازیں اپنے تبصرہ میں وزیراعظم نریندر مودی نے صدر سوئٹزرلینڈ کے ساتھ ملاقات کے دوران ہندوستان کی این ایس جی رکنیت کے معاملہ کو سمجھنے اور تائید کرنے کیلئے صدر سوئٹزرلینڈ کا شکریہ ادا کیا ۔ انہوں نے کہا کہ کالا دھن اور ٹیکس چوری کی لعنت دونوں ممالک کا مشترکہ مسئلہ ہے ۔  این ایس جی اتفاق رائے کہ اصول پر عمل کرتا ہے ۔ ایک رکن کی مخالفت بھی  ہندوستان کی رکنیت کی کوشش ناکام بناسکتی ہے ۔ امریکہ اور دیگر کئی این ایس جی کے رکن ممالک نے ہندوستان کی شمولیت کی تائید کی ہے کیونکہ نیوکلیئر عدم پھیلاؤ کا اس کا ریکارڈ بہت اچھاہے ۔ وزیراعظم امکان ہے کہ اس مسئلہ پر این ایس جی کے ایک اور اہم رکن میکسیکو کی قیادت سے بھی بات چیت کریں گے ۔ہندوستان نے این ایس جی کے رکن ممالک سے ربط پیدا کرنے کی اپنی سفارتی کوششوں میں شدت پیدا کردی ہے ۔ چین بھی این ایس جی کا ایک اہم رکن ہے جو ہندوستان کی رکنیت کا مخالف ہے ۔ سوئٹزرلینڈ کے صدر نے کہا کہ ان کا ملک یقینی طور پر ہندوستان کی این ایس جی کی رکنیت حاصل کرنے میں سرگرم حصہ ادا کرے گا ۔ انہوں نے نیوکلیئر ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ میں ہندوستان کے کردار کی ستائش کی ۔ بات چیت کے دوران مودی اور شنیڈر نے ہندوستانیوں کے سوئٹزرلینڈ کے بینکوں میں جمع کالا دھن کے مسئلہ کی یکسوئی کیلئے ہندوستان سے تعاون کرنے کا تیقن دیا ہے ۔ علاوہ ازیں دونوں ممالک تجارت ‘ سرمایہ کاری اور فنون کی تربیت میں بھی اپنی کوششوں میں اضافہ کریں گے ۔ دونوں ممالک نے اتفاق کیا کہ ایک دوسرے کی تائید کریں گے ‘ تاکہ ہندوستان کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی غیر مستقل رکنیت حاصل ہوسکے ۔ مودی نے کہا کہ خاطیوں کے ساتھ انصاف کیلئے دونوں ممالک نے بات چیت کے جلد آغاز اور خود کا معلومات کے تبادلے کا نظام قائم کرنے سے بھی اتفاق کیا ۔ صدر سوئٹزرلینڈ نے کہا کہ ٹیکس میں دھوکہ دہی اور ٹیکس چوری پر قابو پانے کیلئے دونوں ممالک کے تعاون میں کافی اضافہ ہوا ہے ۔یوروپی یونین کے ساتھ آزادانہ تجارت معاہدہ کرنے کیلئے مودی نے ہندوستان کی آمادگی کا اظہار کیا ۔ ہندوستان اور یوروپی آزاد تجارت اسوسی ایشن جس کے ارکان سوئٹزرلینڈ ‘ آئس لینڈ ‘ ناروے اور لشٹین اسٹیل شامل ہیں ۔ آزادانہ تجارت کے سلسلہ میں بات چیت ہوئی ۔ آزاد تجارت معاہدہ کے سلسلہ میں بات چیت کا آغاز 2008ء میں ہوا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT