Friday , October 20 2017
Home / کھیل کی خبریں / ہندوستان کو زیادہ اہمیت دینے کی ضرورت نہیں: شہناز شیخ

ہندوستان کو زیادہ اہمیت دینے کی ضرورت نہیں: شہناز شیخ

اسلام آباد، 15 سپٹمبر (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کے سابق اولمپین شہناز شیخ نے پاکستانی کھلاڑیوں کو انڈین ہاکی لیگ(آئی ایچ ایل) کے چوتھے ایڈیشن کا حصہ نہ بنانے پر ہندوستانی حکام پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پڑوسی ملک کی سیاست برصغیر میں کھیلوں کی روح کو تباہ کر رہی ہے اور پاکستان کو انہیں زیادہ اہمت دینے اور ان کے پیچھے بھاگنے کی ضرورت نہیں۔ رپورٹس کے مطابق ہندوستانی ہاکی کے حکام نے اپنے کرکٹ بورڈ کی روش پر چلتے ہوئے اپنی پاکستان مخالف مہم جاری رکھی اور انڈین ہاکی لیگ کیلئے کسی پاکستانی کھلاڑی سے رابطہ نہیں کیا۔ ہندوستانی کرکٹ بورڈ(بی سی سی آئی) بھی اپنی لیگ آئی پی ایل میں پاکستان کے کسی کھلاڑی کو شامل نہیں کرتا جس کیلئے دونوں ملکوں کے درمیان سیاسی تناؤ کو بہانہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز انڈین ہاکی لیگ کے چوتھے ایڈیشن کے آغاز کے موقع پر ہاکی انڈیا کے صدر نریندر بترا نے پاکستانی ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں کے ہندوستان میں جا کر کھیلنے پر پابندی عائد کرتے ہوئے پاکستان ہاکی فیڈریشن سے گزشتہ سال چمپینس ٹرافی میں پاکستانی کھلاڑیوں کے رویے پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا۔ انڈین ہاکی لیگ میں دنیا بھر سے کھلاڑی حصہ لیں گے اور مختلف فرنچائز کیلئے ان کی بولی 17 سپٹمبر کو ہو گی لیکن بولی کے عمل کیلئے کسی بھی پاکستانی کھلاڑی کو مدعو نہیں کیا گیا۔

پاکستانی ٹیم کے سابق کوچ شہناز شیخ نے سرکاری خبر رساں ایجنسی ’اے پی پی‘ سے گفتگو میں کہا :’’ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ ہندوستانی اسپورٹس باڈیز کو پاکستانی کھلاڑیوں سے کیا مسئلہ ہے اور وہ پاکستانی ہاکی اور کرکٹ کھلاڑیوں سے اتنا خوف کیوں محسوس کرتے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہندوستانی اسپورٹس حکام اپنا بچکانہ رویہ ترک کریں اور پاکستان کو بتائیں کہ آخر وہ چاہتے کیا ہیں کیونکہ ان کی سوچ برصغیر میں کھیلوں کی روح پر اثرانداز ہو رہی ہے۔ شہناز شیخ نے مزید کہا کہ ’’بلجیم میں منعقدہ ورلڈ ہاکی لیگ میں میری ہندوستانی ہاکی حکام سے ملاقات ہوئی تھی اور وہ پاکستانی کھلاڑیوں کو لیگ میں شامل کرنے کیلئے خاصے پرامید تھے لیکن انہوں نے ہمارے کھلاڑیوں کو نظرانداز کر دیا ہے جو بہت مایوس کن ہے‘‘۔ سابق اولمپین نے کہا کہ لیگ کیلئے پورے ایشیا سے لوگوں کو مدعو کیا گیا ہے لیکن کسی پاکستان کو نہیں جو کھیلوں کی روح کے منافی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستان نے ہمارے ساتھ ہمیشہ سرد مہری کا مظاہرہ کیا ہے اور ان کا حالیہ رویہ دراصل گزشتہ سال چمپینس ٹرافی میں پاکستان کے ہاتھوں شکست کا نتیجہ ہے۔ شہناز شیخ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اب پاکستان کو ہندوستان کے پیچھے بھاگنے یا انہیں زیادہ اہمیت دینے کی ضرورت نہیں، انڈیا ہی سب کچھ نہیں ہے اور دنیا میں اور بھی بہت سی بہتر ٹیمیں ہیں جو پاکستان سے کھیلنے کی منتظر ہیں۔ ہاکی کے اندرونی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وزارت بین الصوبائی رابطہ اور پاکستان اسپورٹس بورڈ کو چمپینس ٹرافی اور ایشین گیمز میں شاندار کارکردگی دکھانے پر کھلاڑیوں کو انعامات دینے چاہئیں۔ انہوں نے بتایا کہ ’’پالیسی کے مطابق فی کھلاڑی دس لاکھ روپے کی انعامی رقم دینا ہوتا ہے اور مجھے امید ہے کہ متعلقہ حکام کھلاڑیوں کو جلد ضرور انعامات سے نوازیں گے‘‘۔

TOPPOPULARRECENT