Friday , June 23 2017
Home / Top Stories / ہندوستان کو سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کی توقع

ہندوستان کو سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کی توقع

ویٹو اختیارات بھی ملنے چاہئے ، اصلاحات کی تائید، سشماسوراج کا راجیہ سبھا میں بیان

نئی دہلی ۔ 6 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان کو اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی مستقل نشست حاصل ہونے کا یقین ظاہر کرتے ہوئے وزیرامور خارجہ سشماسوراج نے کہا کہ نئے ارکان کو بھی وہی حقوق حاصل ہوں گے جو موجودہ مستقل ارکان کو حاصل ہیں جن میں ویٹو اختیارات بھی شامل ہیں۔ راجیہ سبھا میں وقفہ سوالات کے دوران سشماسوراج نے کہا کہ ہندوستان میں وہ تمام صلاحیتیں پائی جاتی ہیں، جن کے ذریعہ اسے سلامتی کونسل کا مستقل رکن بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ موجودہ چار مستقل ارکان امریکہ، برطانیہ، فرانس اور روس نے بھی ہندوستان کی تائید کی ہے۔ پانچواں رکن چین ہے جس نے برسرعام ہندوستان کی مخالفت نہیں کی۔ سشماسوراج نے اس یقین کا اظہار کیا کہ ہندوستان بہت جلد سلامتی کونسل کا صدر رکن بن جائے گا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ہندوستان کو ویٹو اختیارات بھی رہیں گے، انہوں نے کہا کہ ہم وہی ذمہ داریاں پوری کرنا چاہیں گے جو اس وقت موجودہ مستقل ارکان کو تفویض کی گئی ہے۔ ہم پرانے اور نئے ارکان کے درمیان تفریق نہیں چاہتے۔ ہم نہیں چاہتے کہ دو علحدہ گروپس بنائے جائیں اور انہیں فرسٹ کلاس و سیکنڈ کلاس مستقل ارکان میں تقسیم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے یہ واضح کردیا ہیکہ بحیثیت مستقل ارکان اسے وہی ذمہ داری دی جائے جو موجودہ مستقل ارکان کی ہے۔ سشماسوراج نے کہا کہ ہندوستان سفارتی سطح پر اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کررہا ہیکہ سلامتی کونسل میں نہ صرف توسیع ہو بلکہ اصلاحات بھی لائی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نہ صرف مستقل بلکہ کونسل کے غیرمستقل ارکان کی تعداد میں بھی اضافہ کا خواہاں ہیں۔ ایوان میں پیش کئے گئے جواب میں سشماسوراج نے کہا کہ جہاں تک نئے ارکان کو ویٹو اختیارات کا تعلق ہے، 69 ویں جنرل اسمبلی کے بین سرکاری مذاکرات کے دوران امریکہ اور برطانیہ نے نئے ارکان کو ویٹو اختیارات کی مخالفت کی تھی۔ فرانس نے تائید کی جبکہ روس اور چین نے اس مسئلہ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
تجارت میں بدعنوانیاں ، ہندوستان 9 ویں مقام پر
ممبئی ۔ 6 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) تجارتی امور میں رشوت اور بدعنوانیوں کے معاملہ میں ہندوستان 41 ممالک کی فہرست میں 9 ویں مقام پر ہے۔ EMEIA کی سروے رپورٹ میں بتایا گیا کہ78 فیصد افراد نے کہاکہ تجارتی امور میں بڑے پیمانے پر بدعنوانیوں اور رشوت کا عمل جاری ہے۔ ہندوستان 2015ء میں چھٹے مقام پر تھا لیکن اب یہ 9 ویں مقام پر چلاگیا ہے۔ رپورٹ میںکہاگیا ہیکہ ہندوستان میں شفاف حکمرانی کیلئے اقدامات اور ریگولیٹری قواعد کی وجہ سے صورتحال میں کسی قدر بہتری آئی ہے۔ بتایا گیا ہیکہ تقریباً 41 فیصد ہندوستانی اپنا کیریئر شروع کرنے کیلئے رشوت یا بدعنوانی میں ملوث ہوتے ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT