Thursday , August 17 2017
Home / Top Stories / ہندوستان کو چینی مارکٹس میں مزید رسائی دینے کی ضرورت

ہندوستان کو چینی مارکٹس میں مزید رسائی دینے کی ضرورت

مساویانہ باہمی تجارت کی وکالت ، گوانگڈو اور کانچی پورم کا دوسری صدی عیسوی سے راست سمندری رابطہ : پرنب مکرجی
گوانگ ژھو۔ 25 مئی (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان نے چین کے ساتھ ’’مزید مساویانہ‘‘ باہمی تجارت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ادویات، انفارمیشن ٹیکنالوجی، آئی ٹی سے متعلقہ خدمات اور دیگر ہندوستانی پیداوار کیلئے چین میں عظیم تر مارکٹ کی فراہمی کی خواہش کی ہے۔ صدرجمہوریہ پرنب مکرجی نے اپنے چار روزہ دورۂ چین کے دوسرے دن ہند۔ چین تجارتی فورم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’تجارتی توازن اگرچہ بدستور چین کے حق میں سازگار ہے اور ہم مزید مساویانہ انداز میں ہماری تجارت میں توسیع کی امید رکھتے ہیں‘‘۔ صدر مکرجی نے جنوبی چین کا صنعتی مرکز سمجھے جانے والے شہر میں مزید کہا کہ ’’ہندوستان اپنی پیداوار کے لئے چین میں عظیم مارکٹ دیکھنا پسند کرتا ہے، بالخصوص ادویات، دواسازی، آئی ٹی اور آئی ٹی سے متعلقہ خدمات کے علاوہ زرعی اشیاء کے شعبہ جن میں ہمیں فطری مہارت حاصل ہے۔ چین میں ان کی مارکٹنگ کیلئے حوصلہ مند مواقع فراہم کئے جائیں‘‘۔2015-2016ء میں چین اور ہندوستان کے درمیان تجارتی خسارہ 44.7 ارب امریکی ڈالر تک بڑھ گیا ہے۔

سرکاری اعداد کے مطابق چین کو ہندوستان کی برآمدات 7.56 ارب امریکی ڈالر تھیں جبکہ اسی مدت کے دوران چین سے ہندوستان میں درآمدات 52.26 ارب امریکی ڈالر تک بڑھ گئیں۔ 2014-15ء میں تجارتی خسارہ 48.48 ارب امریکی ڈالر رہا۔ صدر پرنب مکرجی نے مزید کہا کہ چین کی اقتصادی کامیابیاں ہندوستان کے لئے سیکھنے سمجھنے کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’نئی صدی کے آغاز کے ساتھ ہی ہماری باہمی تجارت میں بتدریج اضافہ ہوا ہے۔ سال 2000ء میں ہند۔ چین باہمی تجارت محض 2.91 ارب امریکی ڈالر تھی جو گزشتہ سال 71 ارب امریکی ڈالر تک پہونچ گئی۔ چینی صوبہ گوانگ ڈوانگ جہاں شہر گورنگ ژھو واقع ہے۔ اس کمیونسٹ ملک کا ایک اہم صنعتی تجارتی و اقتصادی گڑھ تصور کیا جاتا ہے، جس کی معیشت ایک کھرب امریکی ڈالر پر مبنی ہے اور وہ چین کا ایک طاقتور برآمدی گڑھ بھی تصور کیا جاتا ہے۔ اس صوبہ کے گجرات اور مہاراشٹرا سے ’’سسٹر پراونس‘‘ تعلقات ہیں۔ صدر پرنب مکرجی نے یاد دلایا کہ عیسائی دور کے آغاز سے قبل دوسری صدی عیسوی سے گوانگ ڈوانگ اور کانچی پورم کے درمیان راست سمندری راستہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ چین اور ہند کے لئے اب سازگار وقت آگیا ہے کہ وہ ایسے قدیم تعلقات اور رابطوں کو دوبارہ سرگرم کریں اور ایک نئے دور کیلئے ہاتھ ملائیں۔

TOPPOPULARRECENT