Thursday , September 21 2017
Home / Top Stories / ہندوستان کو ’’ہندو راشٹرا‘‘ بنانا زعفرانی طاقتوں کی کوشش: مایاوتی

ہندوستان کو ’’ہندو راشٹرا‘‘ بنانا زعفرانی طاقتوں کی کوشش: مایاوتی

BSP Chief Mayawati at the press conference in new Delhi on Tuesday Express photo by Prem Nath Pandey 22 sep 15

بنیاد پرست اور فرقہ پرست طاقتیں مذہبی خطوط پر ملک کو توڑنے سرگرم، دستور ہند میں تمام مذاہب کیساتھ یکساں سلوک

لکھنو۔9 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) ریاست اترپردیش اور مرکز میں جب سے سماج وادی پارٹی اور بی جے پی کو اقتدار ملا ہے، بنیاد پرست طاقتیں مضبوط ہورہی ہیں۔ بہوجن سماج پارٹی کی صدر مایاوتی نے آج عوام کو خبردار کیا کہ وہ زعفرانی طاقتوں سے چوکنا رہیں۔ زعفرانی ٹولہ ہندوستان کو ’’ہندو راشٹرا‘‘ بنانے کی کوشش کررہا ہے جہاں عوام الناس کے مفادات محفوظ نہیں رہیں گے۔ بہوجن سماج پارٹی کے بانی کانشی رام کی برسی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مایاوتی نے کہا کہ بنیاد پرستیں اور فرقہ پرست طاقتیں جب سے مرکز اور اترپردیش میں اقتدار سنبھالی ہیں، اپنے مقاصد کو من مانی طریقہ سے روبہ عمل لارہی ہیں۔ انہوں نے عوام کو خبردار کیا کہ ان کا یہ انتباہ سیاسی فائدے کے لئے نہیں ہے۔ مایاوتی نے دعوی کیا کہ اقتدار کو آنے کے بعد سے بی جے پی اور اس کی حلیف پارٹیاں ملک کو ’’ہندو راشٹرا ‘‘کی جانب لیجانے کی کوشش کررہے ہیں۔ دستور ہند نے ملک میں موجود تمام مذاہب کے عوام کو یکساں حق دیا ہے۔ لہٰذا اس ملک کو ہندو راشٹرا کا موقف نہیں دیا جاسکتا۔ اگر بی جے پی اور آر ایس ایس نے ہندوستان کو ہندو راشٹرا بنادیا تو میں دلتوں اور آدی واسیوں سے یہ کہنا چاہتی ہوں کہ اس ہندو راشٹرا میں ان کے مفادات اور زندگیاں محفوظ نہیں رہیں گی۔ آر ایس ایس پر شدید تنقید کرتے ہوئے مایاوتی نے کہا کہ دستور ہند میں تحفظات پر نظرثانی کرنے کے بہانے ترمیم کرتے ہوئے پسماندہ طبقات کو فراہم کردہ کوٹہ سہولتوں کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مرکز ایسا کوئی منصوبہ رکھتی ہے تو اس کے مخالف کوٹہ اقدام کے خلاف ملک گیر احتجاج شروع کیا جائے گا۔ مایاوتی خاموش نہیں بیٹھے گی۔ اگر حکومت دلتوں اور آدواسیوں کے حق کو چھینے گی تو مایاوتی پورے ملک میں احتجاج کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ میری اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے تمام دلت اور آدی واسی ہمیشہ چوکس اور تیار رہیں۔ مایاوتی نے کہا کہ این ڈی اے حکومت نے مسلمان اور سکیولر عوام خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگے ہیں جبکہ بی جے پی قائدین اور ارکان پارلیمنٹ دستور میں ترمیم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ تاہم وزیراعظم نریندر مودی نے ان وزراء اور ارکان پارلیمنٹ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ دستور میں ترمیم کی جائے گی ان کی یہ کوشش قابل مذمت ہے۔ ملک میں مودی حکومت آنے کے بعد کئی مصنفین کا قتل کیا گیا، ادیبوں کی زندگی کو خطرات سے دوچار کردیا گیا، کئی مصنفین نے انہیں دیئے گئے ایوارڈس کو واپس کیا ہے۔ ایسی فرقہ پرست طاقتیں ہی ملک کے امن کو تباہ کررہی ہیں۔ ان فرقہ پرست طاقتوں نے ہی ہندوستان میں پاکستان کے مقبول گلوکار غلام علی کے پروگرام کو روک دیا۔ مایاوتی نے کہا کہ میں آپ تمام کو یہ بھروسہ دینا چاہتی ہوں کہ ریاست میں بی ایس پی حکومت کے اقتدار پر واپس آنے کے بعد وہ یہاں غلام علی کو مدعو کرے گی اور ریاست میں فرقہ وارانہ بھائی چارہ کی فضاء قائم کی جائے گی۔ حکومت مہاراشٹرا پر تنقید کرتے ہوئے کہ اس نے صرف مہاراشٹرا کے شہریوں کو آٹو رکشا پرمنٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ آیا اترپردیش اپنے عوام کے ساتھ اس طرح کے امتیازات کو برداشت کرے گا؟ یو پی کی عوام اپنی روٹی روزی کے لئے مہاراشٹرا جاتے ہیں۔ بہار میں مودی کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دادری واقعہ کے بعد انہوں نے اکسانے والے بیانات دیئے ہیں۔ مایاوتی نے کہا کہ وزیراعظم کو مجبوراً صدر جمہوریہ اور نائب صدر جمہوریہ کی جانب سے برسر عام سکیولر ہندوستان کی رواداری اور مہذب معاشرے کی روایات کو اجاگر کرنے کے بعد مودی نے اپنی تقریر میں ہندو مسلمانوں کو مل جل کر رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ مودی کا یہ بیان صرف سیاسی نوعیت کا ہے اس میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ سماج وادی پارٹی صدر ملائم سنگھ کے بیان کو کہ دادری واقعہ ایک سازش تھی، انہوں کہا کہ اس طرح کے بیانات سے کچھ ہونے والا نہیں ہے۔ جب تک وہ اعظم خاں جیسے لوگوں کے خلاف کارروائی نہیں کریں گے۔ ان کی حکومت آئی تو سازش کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔

TOPPOPULARRECENT