Friday , September 22 2017
Home / Top Stories / ہندوستان کی آبادی کا قیمتی اثاثہ علم و ہنر کے بغیر بوجھ بن جائیگا

ہندوستان کی آبادی کا قیمتی اثاثہ علم و ہنر کے بغیر بوجھ بن جائیگا

2020ء کے دوران ملک میں 27 سال عمر کے نوجوانوں کی اکثریت رہے گی : پرنب مکرجی
بنگلورو۔ 5 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) صدرجمہوریہ پرنب مکرجی نے آج خبردار کیا کہ خاطر خواہ فنی مہارت کے فروغ کے بغیر ہندوستان میں آبادی کا بیش بہا اثاثہ صرف آبادی کا ’’بوجھ‘‘ بن جائے گا۔ پرنب مکرجی نے یہاں انڈین انسٹیٹیوٹ آف سائنسیس کے سالانہ جلسہ تقسیم اسناد سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہمارے پاس جواں سال آبادی کا قیمتی اثاثہ ہے لیکن یہ ایک چیلنج بھی ہے کہ انہیں روزگار فراہم کیا جائے۔ جب تک ہم اس کے بارے میں نہ سوچیں، مجھے ڈر ہے کہ آبادی کی یہ دولت کہیں آبادی کے بوجھ میں تبدیل نہ ہوجائے۔ قائدین اور منتظمین کو یہ سوچنا ہوگا کہ اس مسئلہ سے کس طرح نمٹا جائے۔ صدر مکرجی نے کہا کہ ’’ہنرمند ہند‘‘ سے متعلق حکومت کی مساعی کی وہ تہہ دل سے حمایت کرتے ہیں۔ اس مساعی کے تحت 2030ء تک 500 ملین افراد کو ہنرمند بنانے کا منصوبہ ہے۔ اس مقصد کا حصول نمایاں اہمیت کا حامل ہے۔ صدر ہند نے کہا کہ 2020ء تک امریکہ میں عوام کی اوسط عمر 46 سال، یوروپ میں 42 سال اور جاپان میں 48 سال ہوگی، لیکن ہندوستان میں عوام کی اوسط عمر صرف 27 سال ہوگی چنانچہ نوجوانوں کی اس کثیر تعداد کے ساتھ ہمیں ملازمتوں کے مارکٹ پر قابض ہونے کا موقع فراہم ہوگا۔ صدر پرنب مکرجی نے کہا کہ آئی ٹی شعبہ میں بعض ملکوں کی تحفظ پسندی کے بارے میں شکایت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہندوستان مستقبل میں ایسے چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے تیار ہوچکا ہے۔

TOPPOPULARRECENT