Tuesday , August 22 2017
Home / شہر کی خبریں / ہندوستان کی آزادی میں اردو اخبارات کا رول ناقابل فراموش

ہندوستان کی آزادی میں اردو اخبارات کا رول ناقابل فراموش

حیدرآباد۔/14اگسٹ، ( پریس نوٹ ) ہندوستان کی آزادی میں اردو اخبارات و رسائل نے جو رول ادا کیا ہے وہ ناقابل فراموش ہے۔ مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی، بی اماں اور مولانا حسرت موہانی کے ذکر کے بغیر تاریخ آزادی ہند مکمل نہیں ہوتی۔ اردو کے صحافیوں اور قلمکاروں نے جس مجاہدیانہ اور حریت پسندانہ انداز میں اپنی تحریروں کے ذریعہ ہندوستانیوں میں آزادی کا صور پھونکا اس سے انگریزوں کی نیند حرام ہوگئی۔ ڈاکٹر اسلام الدین مجاہد اسوسی ایٹ پروفیسر و صدر شعبہ سیاسیات اردو آرٹس کالج13اگسٹ کو مسدوسی ہال مغلپورہ میں بزم جوہر کے مذاکرے سے ’’ آزادی ہند میں صحافت کا رول ‘‘ کے زیر عنوان مخاطب تھے۔ مسعود فضلی صدر انجمن ترقی اردو حیدرآباد نے کہا کہ آزادی کے 70سال بعد بھی ہندوستان میں اقلیتیں غیر محفوظ اور خوف کی زندگی گذاررہی ہیں۔ڈاکٹر راہی نے اپنے کلیدی نوٹ میں کہا کہ آج کی صحافت میں غیر جانبداری کا فقدان پایا جاتا ہے۔ صحافت سیاسی خانوں میں بٹ چکی ہے اور کسی نہ کسی نظریہ اور ازم کی ترجمان ہوکر رہ گئی ہے۔
آج ملک میں فرقہ پرستی کا دور دورہ ہے سیکولر جماعتوں اور طاقتوں کو متحدہ طور پر امن و سلامتی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی برقراری کیلئے آگے آنا ہوگا۔ مذاکرے کے فوری بعد ڈاکٹر نادرالمسدوسی کی صدارت میں مشاعرہ ہوا۔ مشاعرہ میں ڈاکٹر سلیم عابدی مہمان خصوصی تھے۔ ان کے علاوہ ڈاکٹر راہی، مزمل قدیری، احمد قاسمی، لطیف الدین لطیف گولکنڈوی، زعیم زمرہ، زاہد ہریانوی، باقر تحسین، انیس احمد انیس، ڈاکٹر فرید الدین صادق، علی عادل، جہانگیر احساس، یوسف روش، سید رضا منظور اور روبینہ شبنم بختیار نے کلام سنایا۔

TOPPOPULARRECENT