Thursday , August 17 2017
Home / Top Stories / ’ہندوستان کی بیٹی‘ عظمی احمد براہ واگھا سرحد ہندوستان واپس

’ہندوستان کی بیٹی‘ عظمی احمد براہ واگھا سرحد ہندوستان واپس

وزیر خارجہ سشما سوراج سے ملاقات ۔ حکومت ہند سے ارکان خاندان کا اظہار تشکر۔ سشما سوراج نے پاکستانی حکام کا شکریہ ادا کیا

نئی دہلی / لاہور 25 مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) ایک نوجوان ہندوستانی خاتون ‘ جس نے الزام عائد کیا تھا کہ ایک پاکستانی شخص نے اسے بندوق کی نوک پر شادی کیلئے مجبور کیا تھا ‘ آج واگھا سرحد کے ذریعہ ہندوستان واپس آگئی جبکہ وزیر خارجہ سشما سوراج نے کہا کہ اس خاتون کو جن حالات سے وہاں گذرنا پڑا ہے اس کیلئے وہ افسردہ ہیں۔ عظمی احمد نامی خاتون کو ہندوستان کی بیٹی قرار دیتے ہوئے سشما سوراج نے اس کا ہندوستان میں خیر مقدم کیا ۔ انہوں نے ٹوئیٹ کیا کہ اسے ( عظمی ) کو جن حالات سے گذرنا پڑا ہے اس پر انہیں تکلیف ہے ۔ عظمی کی عمر 20 سال سے زائد ہے اور اس کا تعلق نئی دہلی سے ہے ۔ اسے اسلام آباد ہائیکورٹ نے کل ہندوستان واپس ہوجانے کی اجازت دی تھی ۔ عدالت میں عظمی نے درخواست دائر کی تھی کہ اسے ہندوستان واپس ہونے کی اجازت دی جائے کیونکہ اس کے شوہر طاہر علی نے اس کے امیگریشن کے دستاویزات چھین لئے تھے ۔ پاکستانی پولیس عملہ کی حفاظت میں ہندوستانی سفارتی عملہ کے ساتھ عظمی نے امرتسر کے قریب واگھا سرحد عبور کرلی ۔ پاکستانی رینجرس کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ ہندوستان خاتون خوش اور پر جوش تھی کہ وہ اپنے مادر وطن کیلئے روانہ ہورہی ہے ۔ میڈیا کو عظمی سے بات چیت کی اجازت نہیں دی گئی ۔ جب وہ ہندوستانی سرحد میں داخل ہوئی اس نے سرزمین کو چھوا ۔ کل ہائیکورٹ نے عظمی کو اس کے اصل امیگریشن دستاویزات حوالے کردئے تھے جبکہ ایک دن قبل اس کے شوہر طاہر نے یہ دستاویزات عدالت میں پیش کردئے تھے ۔ اس دوران عظمی کے افراد خاندان نے کہا کہ اسے امید نہیں تھا کہ عظمی اتنی جلدی ہندوستان واپس ہوجائیگی ۔ وہ آج صبح یہاں پہونچی ۔ عظمی کے بھائی وسیم احمد نے کہا کہ ہم کو امید نہیں تھی کہ وہ اتنی جلدی وطن واپس ہوجائیگی ۔ وہ خوش ہیں کہ اتنی جلدی حالات سازگار ہوگئے ۔

انہوں نے کہا کہ عظمی کی واپسی کیلئے ان کے خاندان کو زیادہ کچھ کرنا نہیں پڑا ۔ وسیم نے بتایا کہ وزیر خارجہ سشما سوراج نے فون پر بتایا تھا کہ عظمی نے پاکستان میں ہندوستانی سفارتخانہ سے رابطہ کیا تھا اور اس کی واپسی کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے ارکان خاندان کی جانب سے حکومت ہند سے اظہار تشکر کیا ۔ عظمی کے تعلق سے سمجھا جاتا ہے کہ وہ ملیشیا میں قیام کے دوران طاہر سے رابطہ میں آئی تھی اور وہاں اس سے محبت ہوگئی تھی ۔ اس نے الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان میں طاہر نے اس کو بندوق کی نوک پر شادی کیلئے مجبور کیا تھا ۔ اس دوران وزیرخارجہ سشما سوراج نے پاکستانی حکام اور عدلیہ سے اظہار تشکر کیا کہ اس نے ہندوستانی شہری عظمی احمد کی واپسی کو یقینی بنایا ہے ۔ وزیر موصوف نے کہا کہ جیسی ہی عظمی نے واگھا سرحد عبور کرتے ہوئے ہندوستان میں قدم رکھا انہیں راحت محسوس ہوئی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی تعلقات کی اپنی الگ جگہ ہے ۔ وزیر موصوف نے کہا کہ ہندوستان و پاکستان کے مابین کشیدہ تعلقات سے قطع نظر وہ یہ کہنا چاہتی ہیں کہ اگر عظمی آج ہندوستان واپس آئی ہے تو یہ پاکستانی دفتر خارجہ کی بڑی مدد کا نتیجہ ہے ۔ پاکستان کی وزارت داخلہ نے بھی اس معاملہ میں ہماری کافی مدد کی ہے ۔ سشما سوراج نے عظمی کے وکیل بیرسٹر شاہنواز مون اور جسٹس محسن اکبر کیانی ( اسلام آباد ہائیکورٹ ) کی بھی ستائش کی ۔ انہوں نے کہا کہ وکیل نے عظمی کے ساتھ اپنی بیٹی جیسا سلوک کیا جبکہ جج نے اس کیس کی انسانی بنیادوں پر سماعت کی اور اس کو ہندوستان ۔ پاکستان تعلقات کی نظر سے نہیں دیکھا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی جج سے طاہر نے کہا تھا کہ یہ کیس پاکستان کے وقار کا مسئلہ ہے لیکن جج نے سوال کیا تھا کہ یہ کس طرح ہند ۔ پاک مسئلہ ہے ۔ انہوں نے عظمی سے بھی اظہار تشکر کیا کہ اس نے ہندوستانی ہائی کمیشن میں یقین کا اظہار کیا تھا ۔

 

پاکستان موت کا کنواں ، دنیا میں ہندوستان جیسی کوئی جگہ نہیں:عظمیٰ
نئی دہلی ۔ /25 مئی (سیاست ڈاٹ کام) وزیر خارجہ سشما سواراج نے عظمیٰ احمد کی اپنی ماں سے ملاقات کو ’’دو ماؤں کی ملاقات‘‘ قرار دیا ۔ اپنی ماں سے بغلگیر ہوتے وقت عظمیٰ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ۔ بعد ازاں اس نے اپنی 3 سالہ دختر کو گود میں اٹھالیا ۔ پاکستان نے اپنے ہولناک تجربہ کا واقعہ دہراتے ہوئے عظمیٰ نے کہا کہ پاکستان طالبان کے علاقہ جیسا اور درحقیقت موت کا کنواں ہے ۔ پریس کانفرنس کے دوران وہ بار بار رو رہی تھی ۔ اس نے کہا کہ دنیا بھر میں ہندوستان جیسی کوئی اور جگہ نہیں ہے ۔

TOPPOPULARRECENT