Saturday , August 19 2017
Home / شہر کی خبریں / ہندوستان کی تاریخ میں مولانا آزاد کی عظمت اور اہمیت ہمیشہ برقرار رہے گی

ہندوستان کی تاریخ میں مولانا آزاد کی عظمت اور اہمیت ہمیشہ برقرار رہے گی

اُردو یونیورسٹی میں سمپوزیم ، جناب اے جی نورانی اور دیگرکے خطابات
حیدرآباد ۔ 5 ۔ نومبر : ( پریس نوٹ ) : ’’مولانا آزاد کو آج ان کے صحیح تناظر میں دیکھنا ہوگا۔ مغربی ممالک میں ان کے لیڈروں کے کارناموں کو آج تنقیدی نقطہ نظر سے دیکھا جارہا ہے۔ اسی طرح مولانا کے کارناموں کو بھی دیکھا جانا چاہئے۔ اس سے ان کی عظمت میں کمی نہیں ہوگی۔ مولانا نے ہندوستانی سیاست کو وہ قوت بخشی جس کے لیے وہ ہمیشہ یاد کیے جائیں گے۔ سیدھے اور سچے راستے پر چلنا ان کا شیوہ تھا۔ وہ ایک عظیم مفکر، مدبر، اسکالر، ادیب، صحافی، عالم دین اور سیاست داں تھے۔ ان کی شخصیت ہمہ جہت تھی۔ ان کے ہر پہلو پر آج کام کرنے اور انہیں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار آج یہاں اردو یونیورسٹی میں مولانا آزاد تقاریب کے سلسلے میں منعقدہ سمپوزیم میں ملک کے نامور مفکر اور تاریخ داں جناب اے جی نورانی نے کیا۔ وہ یہاں ’’تفہیم آزاد عصری تناظر میں‘‘ موضوع پر خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا آزاد نے اپنے شروعاتی دنوں ہی سے مختلف ممالک کا دورہ کیا۔ وہ وہاں کی آزادی کی تحریکوں کو دیکھ چکے تھے۔ وہ اسلام کے اُس اصول پر کاربند تھے کہ کسی برائی کو ہوسکے تو ہاتھ سے روکیے، اس کے خلاف آواز اٹھایئے اور اگر یہ بھی نہیں ہوسکتا ہے تو اسے اپنے طور پر برا سمجھئے۔ مولانا آزاد انگریزوں کو ہاتھ سے تو نہیں روک سکتے تھے، لہٰذا انہوں نے ان کے خلاف آواز اٹھائی اور مختلف اخبارات مثلاً لسان الصدق،الہلال، البلاغ کے ذریعہ یہی کام کیا۔ جناب نورانی نے کہا کہ مولانا آزاد کہا کرتے تھے کہ مذاہب الگ ہوسکتے ہیں لیکن تعلیمات کے اعتبار سے ان کی روح ایک ہے۔ لہٰذا سبھی مذاہب کا احترام کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ آج مولانا کی تعلیمات کو سمجھنا اور زیادہ ضروری ہوگیا ہے ان کی معنویت بڑھ گئی ہے۔ پروفیسر کے آر اقبال احمد، انچارج وائس چانسلر نے صدارتی خطاب میں کہا کہ مولانا ہمیشہ ملک کے سیکولر کردار کو برقرار رکھنے میں پیش پیش رہے۔ آج کے تناظر میں مولانا کی اہمیت اور زیادہ بڑھ گئی ہے۔ وہ سبھی مذاہب کا احترام کرتے تھے وہ سبھی کمیونٹی اور طبقے کے افراد کو لے کر چلتے تھے۔ وہ تحریک آزادی میں گاندھی جی کے شانہ بشانہ چلتے رہے اور ملکی سالمیت، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور لوگوں میں اتحاد و اتفاق پیدا کرنے کے لیے سینہ سپر رہے اور ہمیشہ عالمی بھائی چارے پر زور دیا۔ سمپوزیم کے دوسرے اجلاس میں جناب عرفان انجینئر نے کہا کہ مولانا آزاد تنقیدی نگاہ رکھتے تھے۔ وہ تقلید سے بچتے رہے اسی لیے آزاد تخلص اپنایا۔ ان کا اخبار الہلال اور البلاغ تحریک آزادی کے لیے کام کرتا رہا۔ مولانا آزاد نے ہمیشہ ہندو – مسلم اتحاد کے لیے کام کیا اور گنگا جمنی تہذیب کو فروغ دیا۔ وہ متحدہ قومیت کے نظریہ کے حامی تھے اور ملک کی تقسیم کے خلاف تھے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا آزاد نے ہمیشہ سیکولر ایجوکیشن، مشترکہ قومی اقدار اور ہندوستانی تہذیب و ثقافت پر زور دیا۔ پروفیسر عائشہ فاروقی نے کہا کہ مولانا آزاد ایک غیر معمولی اور چیلنج کو قبول کرنے والے مفکر و مدبر تھے۔ وہ ہمارے لیے مشعل راہ تھے۔ پروفیسر وہاب قیصر، ڈی ڈی ای نے ’’فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور مولانا آزاد‘‘ کے عنوان سے اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہر زمانہ میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی اہمیت باقی رہی ہے۔ مولانا آزاد ہمیشہ ملک کے اتحاد کے لیے کام کرتے رہے۔ پروفیسر آمنہ کشور، کو آرڈینیٹر پروگرام نے سمپوزیم کے عنوان پر روشنی ڈالی اور مہمانوں کا خیر مقدم کیا۔ محترمہ سلمیٰ اشرف، ریسرچ فیلو، آزاد چیئر نے مہمانوں کا تعارف پیش کیا اور کاروائی چلائی۔ بعد میں یونیورسٹی گیسٹ ہائوز میں جناب اے جی نورانی کے ساتھ طلبہ کی تبادلہ خیال نشست کا انعقاد عمل میں آیا۔ اس کے علاوہ انتاکشری جبکہ شعبۂ انگریزی کے طلبہ نے مولانا آزاد کی تحریروں پر مبنی ’’آزاد لاگز‘‘ پیش کیے۔

TOPPOPULARRECENT