Wednesday , October 18 2017
Home / Top Stories / ہندوستان کی تیز تر ترقی ممکن بشرطیکہ مانسون اچھا ہو: ارون جیٹلی

ہندوستان کی تیز تر ترقی ممکن بشرطیکہ مانسون اچھا ہو: ارون جیٹلی

دیہی آمدنی بڑھنے پر معیشت کی ترقی تیز تر ہوگی۔ کالے دھن پر حکومتی اقدامات جاری۔ لوک سبھا میں فینانس بِل منظور

نئی دہلی 5 مئی (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان جس کو پہلے ہی دنیا کی تیز ترین ترقی پذیر بڑی معیشت ہونے کا موقف حاصل ہے، وہ اِس سال مزید تیزی سے ترقی کرسکتا ہے بشرطیکہ اچھے مانسون کی پیش قیاسیاں درست ثابت ہوں، وزیر فینانس ارون جیٹلی نے آج یہ بات کہی۔ فینانس بِل 2016 پر مباحث کا جواب دیتے ہوئے جیٹلی نے غیر نقروی زیورات پر عائد ایک فیصد اکسائز ڈیوٹی کو واپس لئے جانے کو خارج از امکان قرار دیتے ہوئے کہاکہ یہ ٹیکس چھوٹے تاجروں اور فنکاروں پر لاگو نہیں ہوتا بلکہ صرف وہی جیویلرس کے لئے ہے جن کا سالانہ کاروبار زائداز 12 کروڑ روپئے ہے۔ انھوں نے کہاکہ اگر کانگریس کو اِس اکسائز ڈیوٹی پر اعتراضات ہیں تو وہ کیرالا میں جہاں اُس کی حکمرانی ہے، صرافہ بازار پر 5 فیصد ویاٹ کو برخاست کرتے ہوئے اِس ضمن میں پہل کرسکتی ہے۔ جیٹلی جنھوں نے 28 فروری کو اپنے پیش کردہ فینانس بِل میں بعض ترامیم اور اُن کے ساتھ مطالبات زر اور تصرف بِل پیش کئے، اُنھوں نے گزشتہ دو سال کے دوران بی جے پی حکومت کی جانب سے کئے گئے اقدامات کا حوالہ دیا جو چھوٹے ٹیکس دہندگان کو راحت پہنچانے اور ٹیکس کی پیچیدگیوں کو گھٹانے کے سلسلہ میں کئے گئے ہیں۔

کالے دھن کے بارے میں وزیر فینانس نے کہاکہ حکومت کی کوششیں 71 ہزار کروڑ روپئے کے غیر منکشف اثاثہ جات کو ریکارڈ پر لانے کے لئے جاری ہیں۔ تاہم انھوں نے زرعی آمدنی کو ٹیکس جال کے تحت لانے کا امکان مسترد کرتے ہوئے کہاکہ زراعت پر مبنی بڑی آمدنی شاذ و نادر ہوتی ہے اور اُن لوگوں سے ٹیکس حکام مناسب طور پر نمٹ لیں گے جو دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی کو پوشیدہ رکھنے کے لئے زراعت کی آڑ لیتے ہیں۔ یہ فینانس بِل جو بجٹ عمل کا دوسرا آخری حصہ ہے، اُسے ترامیم کے ساتھ ندائی ووٹ کے ذریعہ منظور کرلیا گیا۔ وزیر فینانس نے کہاکہ جہاں عالمی منظر بدستور موہوم ہے وہیں ہندوستان دنیا بھر میں تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشت ہے لیکن ہم تسلیم کرتے ہیں کہ ہندوستان میں مزید تیز تر ترقی کی گنجائش موجود ہے۔ قحط سالی کے دو سال بعد اگر بہتر مانسون کی پیش قیاسی اِس سال درست ثابت ہوتی ہے تو اِس سے زراعت بہتر ہوگی اور دیہی آمدنی بڑھے گی۔ جیٹلی نے کہاکہ ہندوستانی معیشت سرمایہ کاری، اعظم ترین بیرونی راست سرمایہ اور شہری طلب کے بل بوتے پر وسعت پارہی ہے۔ اگر دیہی طلب میں اضافہ ہوتا ہے تو معیشت تیز تر ترقی کرسکتی ہے۔ ہندوستان معیشت کی شرح ترقی 2015-16 ء میں 7.6 فیصد رہی اور یہ رواں مالی سال 7.5 فیصد ہونے کی توقع ہے۔ تازہ پیش قیاسیوں کے مطابق ہندوستان میں خشک سالی کے دو سال بعد اوسط سے زیادہ بارش ہونے کی توقع ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ اچھے مانسون سے چاول، گیہوں، شکراور کپاس کے دوسرے بڑے پیداوار ملک کو کاشتکاری کے اعتبار سے بہت مدد ملے گی۔ کالے دھن کے بارے میں وزیر فینانس نے مزید کہاکہ حکومت نے گزشتہ سال ایک قانون متعارف کرایا کہ غیر معلنہ بیرونی اثاثہ جات کے حاملین ازخود اپنے اثاثوں کا اعلان کرتے ہوئے ٹیکس ادا کردیں۔

TOPPOPULARRECENT