Wednesday , July 26 2017
Home / دنیا / ہندوستان کی فلسطین کی ناراضگی مول لیتے ہوئے اسرائیل سے قربت نامناسب : سفارتی مشیر

ہندوستان کی فلسطین کی ناراضگی مول لیتے ہوئے اسرائیل سے قربت نامناسب : سفارتی مشیر

۔14 تا 17 مئی محمود عباس کا دورۂ ہند، کئی یادداشت مفاہمت پر دستخط
رملہ ۔ 9 مئی (سیاست ڈاٹ کام) صدر فلسطین محمود عباس کے قریبی رفیق کے ایک اہم بیان کے مطابق ہندوستان اگر اسرائیل سے تعلق استوار کرنا چاہتا ہے تو اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے تاہم ہندوستان کو یہ بات بھی ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ اسرائیل کے ساتھ دوستی ’’فلسطینی جائز مقاصد‘‘ کے نقصان کی بنیاد پر نہیں ہونی چاہئے۔ یاد رہیکہ صدر فلسطین محمود عباس آئندہ ہفتہ ہندوستان کے دورہ پر آنے والے ہیں۔ اس موقع پر ایک سینئر فلسطینی عہدیدار ڈاکٹر ماجدی خالدی نے ہندوستان کے فلسطین کے ساتھ تعلقات کو تاریخی اور مستحکم قرار دیا اور کہا کہ فلسطینی شہری بھی ہندوستان کے ساتھ اپنے بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں اور اپنی ’’جدوجہد‘‘ کیلئے ہندوستان کے تعاون کے خواہاں ہیں۔ ہندوستان کو اسرائیل یا کسی بھی دیگر ملک کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ تاہم ہمیں جس بات نے پریشان کر رکھا ہے وہ یہ ہیکہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات فلسطین کی ناراضگی مول لے کر نہیں کی جانی چاہئے۔ فلسطین کے جائز مقاصد اور جدوجہد کی ہندوستان نے ہمیشہ تائید کی ہے جہاں فلسطین نے ہمیشہ یہی مطالبہ کیا کہ 1967ء میں جو اس کی سرحدیں تھیں انہیں بحال کیا جائے اور مشرقی یروشلم فلسطین کا دارالخلافہ ہو۔ خالدی، محمود عباس کے سینئر سفارتی مشیر ہیں۔ انہوں نے ایک انٹرویو کے دوران یہ تمام باتیں کیں۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ وزیراعظم نریندر مودی جاریہ سال صرف اسرائیل کے دورہ پر آئیں گے اور فلسطین نہیں جائیں گے تو اس کا جواب دیتے ہوئے خالدی نے کہا کہ یہ مودی جی کا فیصلہ ہے۔ ہندوستانی وزیراعظم بہتر طور پر جانتے ہیںکہ کب اور کہاں جانا ہے۔ یہ ان کا (مودی) فیصلہ ہے۔ محمود عباس کو نریندر مودی نے ہندوستان کے دورہ کی دعوت دی تھی جس کا احترام کرتے ہوئے محمود عباس 14 تا 17 مئی ہندوستان کا دورہ کریں گے جہاں متعدد یادداشت مفاہمت پر دستخط ہوں گے جن میں صحت، زرعی، اسپورٹس اور امور نوجوانان کے شعبوں پر زائد توجہ دی جائے گی۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT