Tuesday , August 22 2017
Home / Top Stories / ہندوستان کی نیوکلئیر سپلائرس گروپ میں شمولیت کو اوباما کی تائید

ہندوستان کی نیوکلئیر سپلائرس گروپ میں شمولیت کو اوباما کی تائید

The Prime Minister, Shri Narendra Modi meeting the President of United States of America (USA), Mr. Barack Obama in Oval Office, at White House, in Washington DC, USA on June 07, 2016.

وزیر اعظم مودی کے ساتھ کئی مسائل پر صدر امریکہ کا تبادلہ خیال ۔ دونوں ملکوں کی باہمی شراکت داری کو نئی بلندیوں تک پہونچانے کا عزم ۔ مشترکہ پریس کانفرنس

واشنگٹن 7 جون ( سیاست ڈاٹ کام ) صدر امریکہ بارک اوباما نے نیوکلئیر سپلائرس گروپ میں ہندوستان کی شمولیت کی آج تائید کی جبکہ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ باہمی تعلقات کو نئی بلندیوں تک لیجانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا ۔ وائیٹ ہاوز میں ایک گھنٹہ طویل بات چیت کے بعد میڈیا سے نریندرمودی کے ساتھ مشترکہ خطاب کرتے ہوئے اوباما نے کہا کہ یہ فطری بات ہے کہ ہندوستان اور امریکہ اپنی شراکت داری میں گہرائی اوروسعت پیدا کریں کیونکہ دونوں دنیا کی دو بڑی جمہوریتیں ہیں ۔ مودی نے کہا کہ دونوں قائدین نے کئی مسائل خاص طور پر باہمی معاشی تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہونچانے کے تعلق سے تبادلہ خیال کیا ہے ۔ دونوں قائدین نے جن دوسرے مسائل پر تبادلہ خیال کیا ہے ان میں دہشت گردی ‘ صاف توانائی ‘ ماحولیاتی تبدیلی ‘ علاقائی سلامتی اور سائبر سکیوریٹی شامل ہیں۔ میڈیا سے اپنے خطاب کے دوران اوباما نے کہا کہ دونوں قائدین نے سیول نیوکلئیر معاہدہ میں ہوئی پیشرفت کا جائزہ لیا ہے ۔ صدر امریکہ نے کہا کہ انہوں نے ہندوستان کو نیوکلئیر سپلائرس گروپ کا حصہ بنانے کی حمایت کی ہے جبکہ چین اس کی مخالفت کر رہا ہے ۔ اوباما نے واضح کیا کہ ہندوستان کو ایسی ٹکنالوجی کی ضرورت ہے جو اس کی ترقی اور خوشحالی کیلئے اہمیت کی حامل ہو۔ بعد ازاں مودی نے کہا کہ وہ شکر گذار ہیں کہ ان کے دوست صدر اوباما نے این ایس جی میں ہندوستان کی شمولیت کی تائید و حمایت کی ہے ۔ بارک اوباما نے کہا کہ نیوکلئیر مواد اور ٹکنالوجی کے عدم پھیلاؤ پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ہے ۔ انہوں نے نیوکلئیر سکیوریٹکی چوٹی کانفرنس میں وزیر اعظم کی موثر شرکت پر بھی زور دیا ہے ۔ صدر اوباما نے کہا کہ روایتی سکیوریٹی چیلنجس کے علاوہ نئے چیلنجس جیسے سائبر سکیوریٹی پر بھی بات چیت کے دوران تبادلہ خیال ہوا ہے ۔ یہ اطلاع دیتے ہوئے کہ دونوں نے اہمیت کے حامل علاقائی مسائل پر بھی تبادلہ خیال کیا ہے اوباما نے کہا کہ امریکہ اور ہندوستان امن و ترقی کا ویضن رکھتے ہیں اور پیچیدہ مسائل کو سفارتی طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے ۔ مودی نے کہا کہ ہندوستان اور امریکہ دنیا کی دو بڑی جمہوریتیں ہیں اور انہیں درپیش چیلنجس سے نمٹنے کندھے سے کندھا ملا کر کام کرنا چاہئے کیونکہ یہ خطرہ نہ صرف ملکوں کو بلکہ ساری دنیا کو درپیش ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ دو سال سے ہندوستان اور امریکہ ماحولیاتی تبدیلی ‘ نیوکلئیر سلامتی اور دہشت گردی جیسے عالمی مسائل پر مل کر کام کر رہے ہیں ۔ انہیں فخر ہے کہ نہ صرف دوستوں کی طرح بلکہ دو ملکوں کی طرح اس مسئلہ پر ایک دوسرے سے کندھے سے کندھا ملا کر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔

TOPPOPULARRECENT