Saturday , August 19 2017
Home / مضامین / ہندوستان کی کم عمر پائلٹ عائشہ عزیز امید کی کرن

ہندوستان کی کم عمر پائلٹ عائشہ عزیز امید کی کرن

ظفر آغا
کبھی کبھی زحمت رحمت بن جاتی ہے۔ اگر قومیں مشکل میں پڑ جائیں تو اکثر وہ اپنی مصیبتوں سے سبق لے کر اپنے بھلے کی راہ خود ہی بنالیتی ہیں۔ اس بات سے انکار قطعاً نہیں کیا جاسکتا ہے کہ جدید انڈسٹریل دور دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے انتہائی مشکل دور ہے۔ ظاہر ہے کہ اس پر آشوب دور کا سامنا ہندوستانی مسلمانوں کو بھی ہے۔ 1857 میں مغلیہ سلطنت کے زوال کے وقت سے اب تک ہندوستانی مسلمان جن مصیبتوں اور مشکلات کا ذکر کرتے ہیں۔ یہ وہ واقعات اور سانحے ہیں جو کسی بھی قوم کی عقل گم کرنے کیلئے کافی تھے۔ چنانچہ ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ بھی وہی ہوا۔ اس ملک کا مسلمان عقل کھوبیٹھا اور جب مجموعی طور پر کسی قوم کی عقل ہی گم ہوجاتی ہے تو پھر اس کا زوال مزید تیز تر ہوجاتا ہے، تب ہی تو چند سال قبل سچر کمیٹی رپورٹ نے مسلمانوں کے سیاسی، سماجی اور معاشی حالات کی جو غمازی کی وہ حیرت ناک تھی۔ 1857 تک جو قوم اس برصغیر کی حاکم تھی وہی قوم سچر کمیٹی رپورٹ تک غلامی کی کگار پر پہونچ چکی تھی۔ لب لباب یہ ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کے اِرد گرد زوال اور پسماندگی کی بس اب ایک دیوار بچی ہے جس کو گرانا ان کے بس کی بات نظر نہیں آتی ہے، کیونکہ ان کے پاس نہ تو کوئی ڈھنگ کی قیادت ہے اور نہ ہی کسی قسم کا کوئی جدید ادارہ جو قومی سطح پر اس کی مصیبت حل کرنے کے لئے کوئی راستہ تلاش کرسکے۔

ایسی مایوسی اور بے بسی کے عالم میں اگر کہیں کوئی اُمید کی کرن نظر آتی ہے تو وہ مانند آفتاب نظر آتی ہے، تب ہی تو پچھلے ہفتےsiasat.com انگریزی پورٹل پر ایک خبر پڑھ کر دل خوشی سے اُچھل پڑا۔ خبر یوں تھی کہ بنگلورو کی ایک انتہائی کم سن مسلم لڑکی  نے اس ملک کی سب سے کم عمر پائیلٹ بننے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔ ذرا سوچیئے کہ ایک کم سن مسلم بچی پائلٹ بن گئی۔ ہمارے گھروں میں پہلے تو آج بھی لڑکیوں کا اسکول تک پہونچنا ہی مشکل تھا، اگر اسکول اور پھر پوری تعلیم مکمل ہوئی تو اس کا نوکری کرنا کارِدرد ہے کیونکہ ہمارے پاس صنفِ نازک خود اپنے پیروں پر کھڑی ہوہی نہیں سکتی ہے۔ گھر کی چہاردیواری، بچے پیدا کرنا اور بچے پالنا ہی بس اس کی ذمہ داری ہے۔ دھیرے دھیرے یہ طرز بدلنا شروع ہوا۔ پچھلی ایک دہائی میں اِرد گرد کے ماحول نے مسلم معاشرہ پر بھی اثر ڈالا اور لڑکیوں نے خود پڑھائی کو اپنایا۔ اکثر لڑکیاں ٹیچر جیسی نوکریوں میں بھی جانے لگ گئیں لیکن اب بھی ہمارے معاشرے میں کسی مسلم لڑکی کا مرد کے ساتھ کاندھے سے کاندھا ملاکر معاشی طور پر زندگی میں ترقی کرنا اب بھی معیوب سمجھا جاتا ہے۔

ایسے حالات میں بنگلورو کی ایک کم سن مسلم لڑکی نے پائیلٹ بن کر کمال کردیا ہے۔ یوں تو چند مسلم لڑکیاں پہلے سے بھی پائیلٹ ہیں مثلاً حیدرآباد کی شادی شدہ خاتون کو خود ایڈیٹر روز نامہ ’’سیاست‘‘ جناب زاہد علی خاں نے پائیلٹ کی فیس دلاکر اس کو پائیلٹ بنوانے میں شاندار رول ادا کیا تھا اور وہ لڑکی اب ایک ماہر پائیلٹ ہے۔ اسی طرح میرے اپنے خاندان میں میرے ایک عزیز کی لڑکی عرصہ سے ہوائی جہاز اُڑا رہی ہے لیکن بنگلورو کی جو مسلم لڑکی ابھی ابھی پائیلٹ بنی ہے اس کی داستان حیران کن ہے اور وہ کچھ یوں ہے کہ اس کا نام عائشہ  ہے، اس نے محض دسویں کلاس پاس کرنے کے بعد پائیلٹ ٹریننگ کی Ground Classes لینی شروع کردی۔ پھر اس کو پانچ امتحانات پاس کرنے پڑے۔ سولہ سال کی عمر پوری ہوتے ہی اس کو اکٹوبر 2013 میں Student Pilot کا لائسنس مل گیا لیکن کچھ مالی پریشانیوں کے سبب اس کو ابھی کمرشیل لائسنس پائلٹ ملنے میں دِقت آگئی، اس لئے وہ ابھی ہلکے ہوائی جہاز جیسے 152 سینا اُڑا رہی ہے لیکن وہ اپنی اس کامیابی کیلئے اپنے والد اور تمام گھروالوں کو ذمہ دار ٹھہراتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ بہت پہلے ہی میں نے جب اپنے والد سے فرمائش کی کہ وہ پائیلٹ بننا چاہتی ہے تو اس کے والد نے بس دسویں کلاس پاس ہوتے ہی اس کو پائیلٹ ٹریننگ میں داخلہ دلوادیا اور اس طرح وہ مسلم لڑکی ہواؤں میں پرواز کرنے لگی۔

خدا اسی طرح مسلم لڑکے اور لڑکیوں کو مشکل سے مشکل اور نایاب سے نایاب پروفیشن کی صف اول میں جگہ دے، اور ہم یہ دعا کیوں نہ مانگیں کیونکہ یہی اصل اسلامی تعلیم اور سنت رسولؐ ہے ۔ یہ اسلام ہی تھا جس نے قرآن میں حکم دے دیا کہ خاندان کی املاک میں عورت کا بھی حق ہے، یعنی یہ اس بات کا اقرار تھا کہ عورت کی اپنی معاشی ضروریات ہیں اور اس کے لئے اس کو اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کی ضرورت ہے۔ رسول اکرم ؐ کی زوجہ اول حضرت خدیجہ ؓ  خود ایک مشہور و معروف تاجر تھیں یعنی گویا عورت کا اپنے پیروں پر کھڑا ہونا سنت رسولؐ ہے۔ اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حیات مبارکہ میں اپنی ازواج مطہرات ؓ سمیت مدینہ کی عورتوں کو میدان جنگ میں لے جاتے تھے جہاں وہ نرسنگ کے فرائض ادا کرتی تھیں۔

الغرض ! ساتویں صدی کے دورِ رسول ؐ کے مدینہ پر نگاہ ڈالیں تو مسلم عورت کم و بیش زندگی کے ہر شعبہ میں مرد کے کاندھے سے کاندھا ملاکر جدوجہد کرتی نظر آتی ہے۔ ان حقائق سے آج بھی کوئی انکار نہیں کرسکتا ہے۔ اس لئے مسلم عورت کو چہاردیواری میں قید کرنا سنت رسولؐ اور قرآنی روح کے خلاف ہے۔ لیکن پھر یہ کیا ہوا کہ دوسرے معاشروں کی طرح مسلم عورت بھی گھروں تک سمٹ کررہ گئی۔ آج مسلم عورتوں کو جو گھروں تک محدود کردیا گیا،  زمین دارانہ نظام کا نتیجہ ہے۔ زمین دارانہ نظام میں عورت کا گھر کے باہر نکلنا اور کسی طرح کی کمائی کرنا غیر مہذب بات تسلیم کی جاتی ہے۔ یہ کام مَردوں کا ہے اور عورتیں گھروں میں بند رہ کر بچے پیدا کریں اور ان کو پالنے کے ساتھ ساتھ گھر گرہستی کی ذمہ داری نبھانے کے فرائض ادا کرتی ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ زمیندارانہ قدروں کو ہی اصل اسلامی قدریں تصور کرلیا گیا۔ بس اسی بات نے غضب ڈھادیا، تب ہی تو آج ان دقیانوسی قدروں کو اسلامی قدریں سمجھ کر مسلم معاشرہ قدامت پرستی کا شکار ہے اور دنیا سے الگ تھلگ پسماندگی کے غار میں دھنستا جارہا ہے۔

ایسے ماحول میں بنگلورو کی کم سن مسلم لڑکی کا پائیلٹ بن جانا ہندوستانی مسلم معاشرہ کے لئے بہت ہی قابل فخر بات ہے۔ ہم اپنی جانب سے اور اپنے قارئین کی جانب سے اس لڑکی کو اس کے والدین کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ اس لڑکی کی طرح دیگر مسلم لڑکیاں سنت رسولؐ پر عمل کرتے ہوئے مشکل سے مشکل پروفیشنس میں اپنا نام روشن کریں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم قارئین سے اپیل کرتے ہیں کہ اگر اس لڑکی کو ڈگری حاصل کرنے میں کوئی معاشی پریشانی ہورہی ہے تو ایڈیٹر’سیاست‘ جناب زاہد علی خاں کے توسط سے اس کی بھرپور مدد بھی کریں۔ انشاء اللہ اس طرح آہستہ آہستہ معاشرتی تبدیلی  ہندوستانی مسلمانوں کیلئے رحمت ثابت ہوگی اور سب کی سب ملی جلی جدوجہد سے ہندوستانی مسلمانوں کی زحمت کم سے کم ہوتی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT