Sunday , September 24 2017
Home / ہندوستان / ہندوستان کے بارے میں دولت اسلامیہ کا منصوبہ

ہندوستان کے بارے میں دولت اسلامیہ کا منصوبہ

تنہا آدمیوں کی تلاش ، شاخوں کی ضرورت نہیں ، آئی بی کی رپورٹ
نئی دہلی ۔ 15 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) دولت اسلامیہ کی نظریں طویل عرصہ سے ہندوستان پر ہیں۔ عالمی اسلامی کونسل کے ایک حصہ کے طور پر وہ ہندوستان کو بھی شامل کرنا چاہتا ہے جبکہ شاخیں قائم کرنے کے سلسلہ میں دولت اسلامیہ میں گرماگرم بحث جاری ہے۔ محکمہ سراغ رسانی (انٹلیجینس بیورو آئی بی) کی اطلاع کے بموجب پتہ چلا ہیکہ دولت اسلامیہ ہندوستان میں فی الحال حملوں کیلئے تنہا آدمیوں کو استعمال کرنا چاہتا ہے۔ تمام مواد کی نگرانی کی گئی۔ اس سے معلوم ہوا کہ دولت اسلامیہ بڑے پیمانے پر اپنے نظریات پر مبنی متن تنہا آدمیوں کے درمیان گشت کروا رہا ہے۔ سب سے زیادہ تعداد میں تنہا آدمیوں کو ہندوستان اور امریکہ میں نشانہ بنایا گیا ہے۔ دولت اسلامیہ کا لٹریچر اب تنہا آدمیوں کو سربراہ کیا جارہا ہے۔ اس مواد کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہیکہ ہندوستانی نوجوان تربیت حاصل کرتے اور دہشت گرد حملے کرتے ہیں جن کا مقصد تباہی پھیلانا اور یہ پیغام دینا ہیکہ دولت اسلامیہ جہاں چاہے کارروائی کرسکتا ہے۔ اس کی ویب سائیٹس پر بم سازی کے طریقے بھی بتائے جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں نوجوانوں پر زور دیا جاتا ہیکہ وہ بندوقیں حاصل کریں اور فضائی حملے کریں۔ چنانچہ حکومت ہند نے دولت اسلامیہ کے مواد کی تشہیر کرنے والے دو ویب سائیٹس اور فیس بک کے صفحہ پر امتناع عائد کردیا ہے۔ آئی بی کی رپورٹ کے بموجب دولت اسلامیہ جانتی ہیکہ انہیں کشمیر سے کئی نوجوان حاصل ہوسکتے ہیں۔ دیگر علاقوں سے اتنی زیادہ تعداد میں نہیں۔ تاہم اس کی کوشش آسام، جموں و کشمیر اور مہاراشٹرا میں جاری ہیں۔ شمال مشرقی ریاستوں پر بھی زور دیا جارہا ہے۔ دولت اسلامیہ کا احساس ہیکہ اس کی تشہیر جاری ہے چنانچہ ایسے حملوں کیلئے اسے ہندوستانی نوجوان جو تنہا ہوں، حاصل ہوسکتے ہیں۔ دہشت گرد گروپس نے چند سال سے اپنا طریقہ کار تبدیل کردیا ہے۔ وہ آج شاخیں قائم نہیں کرتے کیونکہ اس کیلئے عمارت اور مواصلات کی ضرورت پیش آتی ہے اور سراغ رساں محکمہ ان پر نظر بھی رکھتے ہیں۔ 11 ستمبر کے حملہ کے بعد دولت اسلامیہ کی کارروائی میں مزید تیزی آ گئی ہے۔ امریکہ کے حالیہ حملوں میں اس کا ثبوت ملتا ہے۔ تنہا افراد نے حملے کئے تھے۔ تاہم اس کی ذمہ داری القاعدہ نے قبول کی تھی۔ ون انڈیا نیوز سورس سے اس کی اطلاع ملی ہے۔

TOPPOPULARRECENT