Wednesday , September 20 2017
Home / شہر کی خبریں / ہندوستان کے تکثیری کردار پر مولانا ابوالکلام آزاد کا یقین

ہندوستان کے تکثیری کردار پر مولانا ابوالکلام آزاد کا یقین

موجودہ مباحث میں مولانا کے تذکرہ سے گریز افسوسناک، پروفیسر انور معظم کا لکچر
حیدرآباد ۔ 8 ۔ جنوری : ( پریس نوٹ ) : مولانا ابوالکلام آزاد کو اس بات کا پختہ یقین تھا کہ ہندوستان ایک ہمہ لسانی ‘ مذہبی اور ثقافتی سرزمین ہے۔ ممتاز دانشور پروفیسر انور معظم نے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں آج اٹھارواں یوم تاسیس لکچر دیتے ہوئے اس خیال کا اظہار کیا۔ ’’مولانا آزد کا تصور ہند‘‘ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے انھوں نے اس امر پر افسوس ظاہر کیا کہ موجودہ دور کے سیاست داں ‘ ہندوستان کی تہذیب اور اس کی شناخت کی تعریف متعین کرنے کی کوشش کررہے ہیں جس کے وہ قطعی اہل نہیں ہیں۔ یہ کام اردو یونیورسٹی جیسی جامعات کے ماہرین تعلیم کا ہے۔ ڈاکٹر محمد اسلم پرویز وائس چانسلر نے تقریب کی صدارت کی۔ پروفیسر انور معظم نے جو شعبہ اسلامیات عثمانیہ یونیورسٹی کے سابق صدر ہیں ‘افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی شناخت پر جاری بحث میں مولانا آزاد یا ان کے نظریات کا کوئی حوالہ نہیں ہے۔ مولانا آزاد شائد وہ پہلی شخصیت اور ہندوستان کے اولین مفکر ہیں جنہوں نے ’’ہندوستان کے وجود‘‘ کو کُلی طور پر قبول کیا۔ مولانا آزاد کے اس نظریہ میں ہندو‘ مسلمان‘ سکھ ‘ عیسائی‘ جین وغیرہ تمام فرقوں کی ثقافتی یا مـذہبی شناخت شامل ہے۔ پروفیسر انور معظم نے جو مذاہب کے تقابلی مطالعہ کے ممتاز اسکالر ہیں‘ مولانا آزاد کے نظریہ ہند کا موازنہ ہندوستان کے دیگر دو اہم اور باہم مسابقتی نظریات سے کیا۔ ڈاکٹر محمد اسلم پرویز نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ ہندوستان ہمیشہ ایک تکثیری ملک ہی رہے گا۔ انہوں نے مذہب کی روادرانہ اور لچکدار مفاہمت کی ضرورت ظاہر کی۔

TOPPOPULARRECENT