Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / ہندوستان کے جمہوری نظام میں کسی بھی مذہب میں مداخلت کی عدم اجازت

ہندوستان کے جمہوری نظام میں کسی بھی مذہب میں مداخلت کی عدم اجازت

تلنگانہ ویدیاونتولہ ویدیکا کی گول میز کانفرنس ، کودنڈا رام ، حامد محمد خاں و دیگر کا خطاب
حیدرآباد۔4نومبر(سیاست نیوز) ہندوستان کا جمہوری نظام کسی بھی مذہب میںمداخلت کی ہر گز اجازت نہیںدیتا۔ اگر کوئی غلطی کرتا ہے تو اس کو سزا دینے کا ہمیںاختیار نہیں ہے ۔ قانون ‘ دستور عین کے مطابق غلطی کے مرتکب انسان کو سزا دینے کا لائحہ عمل دستور ہند کے معماروں نے تیار کیا ہے جس کے مطابق ہی ہمیں کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس میں کبھی قسم کی تبدیلی یا مداخلت غیر دستوری اور غیر قانونی اقدام ہوگا۔ اور اس قسم کے واقعات قومی سالمیت او رجمہوری نظام کے لئے سنگین خطرہ ثابت ہورہے ہیں۔ چیرمن تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی پروفیسر کودنڈارام نے آج یہاں سندریاو گیان کیندرم میںاظہار خیال پر پابندی اور دانشوروں کا رول کے عنوان سے منعقدہ گول میز کانفرنس سے خطاب کے دوران یہ بات کہی۔ تلنگانہ ویدیا ونتولا ویدیکا( ٹی وی وی ) کے زیراہتمام منعقد ہ اس گول میز کانفرنس میں مولانا حامد محمد خان صدر جماعت اسلامی ہند تلنگانہ ‘ اڑیسہ کے علاوہ شریمتی شاردہ گوڑ‘وائی وی ستیہ نارائنہ‘ پرتروپتی یادیہ‘ صدر تحریک خیر امت منیرالدین مجاہد‘رام گری پرکاش‘سنتوش کمار‘ایس سواروپا‘ صدرنشین ایچ اے ایس انڈیامولانا سید طارق قادری‘ مولانا نصیر الدین‘ حیات حسین حبیب‘ رشید خان آزاد‘ملکا ارجن‘ ای بھیم رائو‘ پی سرینواس‘ وی لالیہ‘ ڈی نا گ راجو‘ کے ویراسوامی‘ وی شانتی پرکاش‘ پی ونئے کمار‘ صغرا بیگم‘ شیخ صادق علی کے علاوہ پچاس سے زائد تنظیموں کے سربراہان اور ذمہ داران نے بھی اس گول میز کانفرنس میں شرکت کے ذریعہ قومی سطح پر بڑھتی عدم روادری اور فرقہ پرستی کی شدید مذمت کی ۔ کودنڈارام نے کہاکہ آزادی کے بعد ہندوستان کو کس سمت لے جانا ہے اس کے تعین کے لئے مجاہدین جنگ آزادی نے دستور ہند کو تیار کیاہے جس کا واحد مقصد اظہار خیال کی مکمل آزادی ‘ فرقہ پرستی کے ساتھ سختی کیساتھ نمٹنا‘ پچھڑے‘ پسماندہ طبقات کی ترقی ‘ تمام مذاہب ‘ اقوام اور طبقات کے ساتھ یکساں سلوک کی راہ ہموار کرتے ہوئے جمہوری ہندوستان کے خواب کو شرمندہ تعبیر بنانے کاکام کیا گیا ہے۔پروفیسر کودانڈارام نے کہاکہ ترقی کے بجائے فرقہ پرستی کے ذریعہ ملک کی آب وہوا کو مکدر بنانے کی ہر کوشش کے خلاف تلنگانہ کی عوام متحد ہوکر جمہوریت کے دشمنوں کے خلاف محاذ آرائی کریگی۔مولانا حامد محمد خان نے دادری او رسون پیٹ جیسے واقعات کے بعد ہندوستان کے سکیولر ذہن کے حامل دانشوروں کے اقدامات کی ستائش کی ۔ جناب حامد محمد خان نے کہاکہ فرقہ پرستی او رشدت پسندی کی مذہب اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ صیہونی طاقتیں آئی ایس آئی ایس کی پشت پناہی کررہی ہیں جن کا واحد اسلام اور مسلمانو ںکو بدنام کرنا اور بین الاقوامی سطح پر اسلام کی شبہہ کو متاثر کرنا ہے۔ وائی وی ستیہ نارائنہ نے کہا کہ آر ایس ایس جو کہ ملک او رسماج دشمن تنظیم ہے اس کے ساتھ حکومت کی کارکردگی پر مشتمل رپورٹ کا تبادلہ خیال کرنا گویا ہندوستان کے جمہوری نظام کے ساتھ کھلواڑ کے مترادف عمل ہے کیونکہ آر ایس ایس نے ہندوستان کی آزادی میںکوئی رول نہیںنبھایا اور نا ہی آر ایس ایس اور اس کی محاذی تنظمیں ہندوستان کے دستور کا احترام کرتی ہیں۔ شاردھا گوڑ نے اس گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پورے ملک میں مہنگائی نے عام آدمی کاجینا محال کررکھاہے جس پر سے عوام کا دھیان ہٹانے کے لئے بی جے پی اپنی فرقہ پرست محاذی تنظیموں کا سہارا لیکر فرقہ پرستی کا کارڈ کھیل رہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT