Friday , October 20 2017
Home / دنیا / ہندوستان کے خطوط پر پاکستان کیساتھ نیوکلیئر سمجھوتہ ناممکن

ہندوستان کے خطوط پر پاکستان کیساتھ نیوکلیئر سمجھوتہ ناممکن

نیوکلیئر اسلحہ کو دہشت گردوں سے بچانے کی ضرورت پر زور ، نواز شریف ۔ اوباما بات چیت کے بعد امریکہ کا بیان

واشنگٹن ۔ 23 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ نے ہندوستان کے ساتھ طئے شدہ سیول نیوکلیئر سمجھوتہ کے خطوط پر پاکستان کے ساتھ کسی نیوکلیئر سمجھوتہ کے امکانات کو آج واضح طور پر مسترد کردیا اور اس ضمن میں امریکی ذرائع ابلاغ کی بعض قیاس آرائیوں کو قطعی غلط اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔ صدر بارک اوباما نے گذشتہ روز وائیٹ ہاؤز میں پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کی ملاقات کے بعد ایک سینئر امریکی عہدیدار نے کہاکہ ’’مجھے واضح طور پر کہنے دیجئے کہ پاکستان کے ساتھ 123 سمجھوتہ پر ہم نے بات چیت نہیں کی ہے اور نہ ہی ہم نے سیول نیوکلیئر برآمدات کی راہ ہموار کرنے کے نیوکلیئر سپلائرس گروپ میں پاکستان کو کوئی استثنیٰ دیا ہے‘‘۔ اس امریکی عہدیدار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر امریکی میڈیا میں شائع شدہ ان اطلاعات کی تردید کی کہ پاکستان کے ساتھ کسی نیوکلیئر سمجھوتہ پر امریکہ غور کررہا ہے۔ اس عہدیدار نے مختلف سوالات پر جواب دیا کہ ’’نیوکلیئر سمجھوتہ جیسی کوئی بات نہیں ہے جس کا میڈیا میں تذکرہ کیا گیا ہے۔ میڈیا میں اطلاعات بھی گشت کررہی تھیں کہ پاکستان کے ساتھ بھی ایک سیول نیوکلیئر سمجھوتہ کیا جاسکتا ہے جیسا 10 سال قبل ہندوستان کے ساتھ کیا گیا تھا‘‘۔

 

اس اعلیٰ امریکی عہدیدار نے مزید کہا کہ ’’مجھے واضح طور پر یقین دلانے دیجئے کہ پاکستان کے ساتھ 123 سمجھوتہ سے متعلق صحافت کے الزامات بالکل غلط ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے سیول نیوکلیئر تعاون میں اپنی دلچسپی ظاہر کرچکا ہے اور اس نے توانائی کی قلت کے سماجی و اقتصادی مضمرات کا تذکرہ کیا۔ دونوں ممالک کے قائدین نے پاکستان میں نیوکلیئر سلامتی پر تبادلہ خیال کیا۔ امریکی عہدیدار نے کہا کہ ’’ہم پاکستان سے اس کے نیوکلیئر پروگرام اور پیشرفت پر طویل عرصہ سے مذاکرات میں مصروف ہیں۔ نیوکلیئر اسلحہ کے تحفظ و سلامتی پر ہمیں گہری تشویش ہے، جس سے پاکستان کو واقف کیا جاچکا ہے‘‘۔ امریکہ سمجھتا ہیکہ پاکستان بھی اپنے نیوکلیئر اسلحہ کے ذخیرہ کو لاحق خطرات سے پوری طرح باخبر ہے۔ بالخصوص اس کی سرزمین پر سرگرم دہشت گردوں اور دیگر انتہاء پسندوں سے سنگین خطرہ لاحق ہے جو پہلے بھی پاکستانی فوجی تنصیبات کو حملوں کا نشانہ بنا چکے ہیں۔ امریکہ نے آج واضح طور پر کہہ دیا ہیکہ ہند ۔ پاک امن مساعی میں اس وقت تک اپنے طور پر کوئی رول ادا کرنا نہیں چاہتا تاوقتیکہ یہ دونوں ممالک اس سے مشترکہ طور پر اس کی خواہش نہ کریں۔ امریکی انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے اس موقف کی وضاحت کی اور کہا کہ مسائل کی یکسوئی کا بہترین طریقہ یہی ہیکہ دونوں پڑوسی ممالک راست مذاکرات کریں۔ انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے ہندوستانی صحیفہ نگاروں سے کہاکہ ’’صدر (بارک) اوباما اور ان کے رفقاء نے وزیراعظم (نواز شریف) اور ان کی ٹیم سے لائن آف کنٹرول کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ پاکستان اکثر یہ درخواست کرتا رہا ہیکہ اس مسئلہ میں امریکہ کو بھی شامل ہونا چاہئے‘‘۔ عہدیدار نے کہا کہ ’’اجلاس کے دوران ہم نے اپنا موقف واضح کردیا کہ ہندوستان اور پاکستان کی جانب سے کسی خواہش کی صورت میں ہی ہم شامل ہوسکتے ہیں۔ امریکہ کی پالیسی میں یہ کوئی تبدیلی نہیں ہے۔

TOPPOPULARRECENT