Sunday , October 22 2017
Home / شہر کی خبریں / ہندوستان کے دیگر ممالک سے تعلقات کا جائزہ لینے کی ضرورت

ہندوستان کے دیگر ممالک سے تعلقات کا جائزہ لینے کی ضرورت

انڈیا ان ورلڈ افیئرس دی نیکسٹ ڈیکیڈ کتاب کا رسم اجراء ، پروفیسر کوثر اعظم و دیگر کا خطاب
حیدرآباد۔29اکٹوبر ( سیاست نیوز) عثمانیہ یونیورسٹی سنٹر فار انٹرنیشنل پروگرام میں آج ’’ انڈیا ان ورلڈ افیئرس دی نیکسٹ ڈیکیڈ ‘‘ نامی کتاب کا رسم اجراء عمل میں آیا ۔ اس کتاب کی اشاعت مختلف ادارہ جات بشمول او یو سی آئی پی کے ذریعہ عمل میں لائی گئی ۔ پروفیسر کوثر جے اعظم نے کتاب کے متعلق تفصیلات سے واقف کرواتے ہوئے کہا کہ یو پی اے دور حکومت میں منعقدہ ایک کانفرنس کے بعد اب این ڈی اے دورحکومت میں اس کتاب کی اشاعت عمل میں آرہی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستان کی خارجہ پالیسی اور ہندوستان کے دیگر ممالک سے تعلقات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔ اس موقع پر منعقدہ گول میز کانفرنس سے خطاب کے دوران انہوں نے بتایا کہ نئے طرز پر جاری خارجہ پالیسی کا جائزہ لیتے ہوئے ہندوستان کو عالمی اُمور میں اپنا نظریہ پیش کرنا ہوگا ۔ پروفیسر کوثر اعظم نے اس موقع پر کتاب کی اشاعت میں اعانت کرنے والے اداروں آئی سی ڈبلیو اے ‘ یو ایس ای آئی ایف ‘ یو ایس آئی ایس ‘ منوہر پبلیشر کا شکریہ ادا کیا ۔ اس موقع پر پروفیسر کروناکر ‘ پروفیسر بی رمیش بابو ‘ پروفیسر کے سرینواسلو ‘ پروفیسر سدھیر جیکب جارج ‘ پروفیسر اوشا ویاسلو ‘ پروفیسر آدرش شرما ‘ پروفیسر ای ناگیشور راؤ اور  پروفیسر سری لتا کے علاوہ دیگر موجود تھے ۔ پروفیسر رمیش بابو نے ہندوستان کی تیز رفتار خارجہ پالیسی میں تبدیلی کو قابل غور قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی ترجیحات میں پڑوسیوں سے تعلقات بہتر بنانا ہونی چاہیئے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت پڑوسی ممالک سے تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش میں مصروف ہے ۔ مسٹر ٹی ہنومان چودھری نے فوری طور پر پُرامن ماحول کی فراہمی کیلئے پڑوسی ممالک سے تعلقات کو مستحکم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ پروفیسر سدھیر جیکب نے کہا کہ ملک کو اندرون خلفشار سے بچانے اور پُرامن ماحول کی فراہمی کے علاوہ انسانی حقوق کو پامال ہونے سے محفوظ رکھنے کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب تک انسانی حقوق کی پامالی اور اندرون ملک بدامنی پائی جائے گی اُس وقت تک ہندوستان عالمی سطح پر دیگر ممالک کی قیادت نہیںکرپائے گا ۔ پروفیسر اوشا ویاسلو نے اس موقع پر اپنے خطاب کے دوران ہندوستان میں تیزی سے فروغ پارہے آئی ٹی صنعت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ قومی مفادات کے تحفظ کیلئے سابق حکومت نے امریکہ کے ساتھ  نیوکلیئر معاہدہ کیا تھا جس کی اُس وقت مخالفت کی گئی تھی ۔ پروفیسر چنا بسوایا نے بھی اس امر کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ نیوکلیئر معاہدہ پر مخالفت کرنے والے آج اس مسئلہ پر موقف تبدیل کرتے نظر آرہے ہیں ۔ ابتداء میں پروفیسر اے کروناکر ڈائرکٹر او یو سی آئی پی نے خیرمقدمی خطاب کیا ۔ آخر میں پروفیسر کے سرینواسلو نے شرکاء کی جانب سے پیش کی گئی رائے اور سوالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اندرون ملک قیام امن اور ہم آہنگی کے فروغ کے ذریعہ خارجہ پالیسی میں مزید استحکام پیدا کیا جاسکتا ہے ۔ کیونکہ ہندوستانی جمہوریت دنیا بھر میں مثالی جمہوریت تصور کی جاتی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT