Monday , August 21 2017
Home / Top Stories / ہندوستان کے مسلمانوں میں طلاق و خلع کا فیصد بہت کم

ہندوستان کے مسلمانوں میں طلاق و خلع کا فیصد بہت کم

دیگر اقوام کا فیصد بہت زیادہ، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی اور مفتی صادق محی الدین کا خطاب
حیدرآباد ۔ 22 اکٹوبر (سیاست نیوز) مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کنوینر تفہیم شرعیہ کمیٹی برائے خواتین و آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے کہا کہ ہندوستان کے تمام اقوام کے مقابلہ میں مسلمانوں کے ہاں طلاق و خلع کا فیصد بڑا کم ہے جبکہ ہندو، عیسائی اور دیگر اقوام کے ہاں معمولی معمولی باتوں پر طلاق و خلع کے واقعات کا ہونا معمولی بات ہے۔ اس تناظر میں مسلمانوں کے پرسنل لاء میں تبدیلی اور نئے نئے ترمیمات کے ساتھ باطل طاقتیں نئے نئے جال لے کر مسلمانوں کو بدنام کرتے ہوئے سیاسی فائدہ اٹھانے کی فکر میں ہے۔ ہر مسلک میں طلاق اصل کے اعتبار سے ممنوع ہے اور ضرورت کے اعتبار سے جائز ہے۔ وہ آج یہاں مدینہ ایجوکیشنل سنٹر نامپلی روبرو باغ عامہ میں ’’مسلم پرسنل لاء اور عصرحاضر کے مسائل‘‘ پر خواتین و طالبات سے مخاطب تھے۔ اس سمینار کا اہتمام مسلم ویمن انٹلکچول فورم نے کیا۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے خواتین پر زور دیا کہ فورم ہو یا دیگر خواتین تنظیمیں خواتین وطالبات میں شعور پیدا کرنے کی سعی و جہد کرے۔ اس موقع پر خالد سیف اللہ سے خواتین نے طلاق و خلع کے مسائل پر بہت سارے سوالات کئے، جس کا انہوں نے مدلل جواب دیا۔ مولانا مفتی سید صادق محی الدین فہیم نظامی نے قرآن و حدیث کی روشنی میں مسلم مطلقہ خواتین کا نان و نفقہ اور شرعی نقطہ پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے ملکی عدالتوں سے جاری فیصلوں کے تناظر میں کہا کہ جو خواتین طلاق اور خلع کی وجہ رشتہ ازدواج کے بندھن سے آزاد ہوچکی ہے اور شوہروں کی وفات کی وجہ سے بیوگی کی زندگی گذار رہی ہے انہیں نکاح کے بندھن میں جوڑ دیا جائے تاکہ معاشرہ اخلاقی اعتبار سے پاکیزہ رہے اور معاشی مسائل کے اعتبار سے بھی خودکفیل ہو۔ انہوں نے کہا کہ طلاق و خلع کے بعد عورت کو تنہا نہیں چھوڑ دینا چاہئے بلکہ اس کے ساتھ احسان کا رویہ اختیار کیا جائے۔ ایسی چیزیں اسے دیں جو اس کو کافی دنوں تک کام میں آسکے۔ انہوں نے ملک کی عدالتوں میں ان دنوں جو مقدمات زیردوران ہے، اس میں عورتیں اپنے شوہر کو بدنام کرنے یا بدلہ لینے کیلئے کہا کرتی ہیں۔ ان عدالتوں کا رخ کرنے کے بجائے اپنے مسائل اسلامی نقطہ نظر سے طئے کروانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ڈاکٹر قدوسہ سلطانہ پروفیسر ڈی سی ای ٹی نے پروجکٹر کی مدد سے ہندوستان اور بیرون میں طلاق کے طریقہ پر روشنی ڈالتے ہوئے اور اعداد و شمار و پروجکٹر کی مدد سے تفصیل بتائی اور کہا کہ طلاق کا اسلام نے مردوں کو حق دیا ہے لیکن اس کا وہ ناجائز استعمال کررہے ہیں۔ محترمہ رفعت سیما نے تعداد ازدواج اور محترمہ جلیلہ سلطانہ یاسمین ایڈوکیٹ نے یکساں سیول کوڈ کے عنوان پر مخاطب کیا۔ محترمہ ثمینہ سبحانی صدر ایم ڈبلیو آئی ایف نے شکریہ ادا کیا۔

TOPPOPULARRECENT