Monday , June 26 2017
Home / شہر کی خبریں / !!ہندوستان کے مسلمان صرف 6 ماہ بیف کا استعمال ترک کردیں تو کیا ہوگا؟ مودی حکومت گر جائیگی

!!ہندوستان کے مسلمان صرف 6 ماہ بیف کا استعمال ترک کردیں تو کیا ہوگا؟ مودی حکومت گر جائیگی

ہم پر الزام ہے اور اگر سچ ہے تو…
!!ہندوستان کے مسلمان صرف 6 ماہ بیف کا استعمال ترک کردیں تو کیا ہوگا؟ مودی حکومت گر جائیگی
حیدرآباد ۔ 17 جون (سیاست نیوز) مودی حکومت گذشتہ تین برسوں کے دوران صرف بلند بانگ دعوے ہی کرتی رہی ہے۔ اپوزیشن قائدین سے لیکر عوام خاص طور پر کسان ببانگ دہل یہ کہنے لگے ہیں کہ تین برسوں میں مودی جی نے صرف درجنوں ملکوں کے بیرونی دورہ کرتے ہوئے ساری دنیا کے سفر سے متعلق اپنی خواہش پوری کرلی۔ ان کی حکومت نے ملک کی ترقی کیلئے کوئی ٹھوس کام نہیں کیا۔ ہاں حکومت کی ناکامیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے لوجہاد، گھرواپسی، ذبیحہ گاؤ پر پابندی اور طلاق ثلاثہ کے غیر ضروری مسائل چھیڑ دیئے اور سب سے اہم بات یہ ہیکہ ان تمام مسائل و تنازعات کے ذریعہ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا اور بتایا جارہا ہے یہ بات روزروشن کی طرح عیاں ہے کہ آر ایس ایس ہندوستان کو ایک ہندو ملک بنانے کی خواہاں ہے اور اس کیلئے ایک سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے کیونکہ آر ایس ایس اور اس کی تمام ذیلی تنظیمیں اچھی طرح جانتی ہیں کہ ملک کو ایک ہندو ملک میں تبدیل کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ مسلمان ہی ہیں اور وہ مسلمان ہی تھے جن سے انگریز بھی خوف کھاتے تھے۔ انہیں بھی اندازہ تھا کہ مسلمان اپنے وطن کیلئے جانوں کے نذرانے پیش کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ بہرحال مسلمانوں کے حوصلے پست کرنے ان میں مایوسی کا رجحان پیدا کرنے کیلئے ایک منصوبہ بند انداز میں گاؤکشی کا مسئلہ اٹھایا گیا تاکہ بھولے بھالے ہندوؤں کے مذہبی جذبات کا استحصال کرتے ہوئے ان کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت بھردیں اور ذہنوں میں غلط فہمیاں پیدا کریں۔ سنگھ پریوار اس بات کا زور و شور سے پرچار کررہی ہیکہ گائے ہندوؤں کی ماتا ہے اور مسلمان گائے کا گوشت کھاتے ہیں جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ہندوستان کی آبادی فی الوقت 11-1 ارب کے نشانے کو چھو چکی ہے۔ اس میں مسلمان سرکاری اعداد و شمار کے مطابق زائد از 14 فیصد ہیں اور یہ بھی حقیقت ہیکہ ملک میں دلت، قبائل اور دوسرے پسماندہ طبقات کے علاوہ عیسائی بھی بڑے جانور کا گوشت استعمال کرتے ہیں۔ گائے کی چمڑی اتارنے کے پیشے سے بھی دلت و قبائل وابستہ ہیں۔ دنیا بھر میں گائے کا گوشت درآمد کرنے والوں میں 99 فیصد ہندو ہیں اور یہ ہندوساہوکار سیٹھ اور صنعتکار بڑے پیمانے پر گائے کا گوشت یعنی بیف بیرونی ممالک بشمول ملائیشیا، مصر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب و دیگر خلیجی ملکوں کے ساتھ ساتھ ویتنام کو درآمد کرتے ہیں جس سے انہیں اور حکومت ہند کو لاکھوں کروڑوں کی آمدنی ہوتی ہے۔ جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ سنگھ پریوار ہندوستان کو ایک ہندو راشٹرا بنانے کے خفیہ ایجنڈہ پر کاربند ہے اور ذبیحہ گائے کے بہانے وہ ملک میں فرقہ پرستی کا زہر گھول رہا ہے۔ ایسے میں اگر مسلمان صرف 6 ماہ تک بھی بڑے جانور چاہے وہ بیل یا بھینس کا گوشت ہی کیوں نہ ہو استعمال ترک کرتے ہیں تو ملک کی معیشت پر کاری ضرب پڑے گی اور نریندر مودی حکومت اور اس کے حامی نام نہاد قوم پرست اپنے ہاتھوں اپنے برے انجام کو پہنچیں گے۔ ویسے بھی 6 ماہ تک بیف نہ کھانے سے مسلمانوں کا کوئی نقصان نہیں ہونے والا ہے۔ وہ بکرے کا گوشت، مرغی اور مچھلی وغیرہ کا استعمال کرسکتے ہیں یہاں تک کہ مسلمان ایک منظم طور پر بکروں، دنبوں، مرغیوں اور مچھلیوں وغیرہ کی افزائش شروع کرتے ہوئے اپنی معیشت بھی مستحکم بنا سکتے ہیں۔ تب فرقہ پرستوں کیلئے بکروں، مرغیوں اور مچھلیوں کو اپنا پتا یا ماتا کہنا ممکن نہیں رہے گا ورنہ فی الوقت سارے ہندوستانی مودی حکومت اور فرقہ پرستوں پر ہنس رہے ہیں۔ کل ساری دنیا ہنسے گی ویسے بھی ملک دشمن عناصر نے ہمارے وطن عزیز کو فرقہ پرستی،توہم پرستی اور جانوروں کے نام پر انسانوں کے قتل کے ذریعہ بدنام ہی کردیا ہے۔ اکثر لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال اٹھتے ہیں کہ مسلمانوں کے 6 ماہ یا ایک سال تک (بڑے جانور کا گوشت) نہ کھانے سے کیا اثر پڑے گا؟ اس کا جواب یہ ہیکہ مودی حکومت آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیموں کے دباؤ میں آ کر ذبیحہ گاؤ اور مویشیوں بشمول گائے، بیل، بھینس وغیرہ کی ذبیحہ کیلئے خریدوفروخت پر پابندی کیلئے نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے لیکن اس کا یہ فیصلہ خود مودی حکومت کیلئے گلے کی ہڈی بن گیا ہے۔ پہلے ہی سے علحدگی کی خواہاں شمال مشرقی ریاستوں میں عوام نے ذبیحہ گاؤ اور گائے کا گوشت کھانے پر پابندی قبول کرنے سے انکار کردیا۔ دوسرے یہ کہ دنیا میں گائے کے گوشت کی درآمد میں ہندوستان اور برازیل پہلے نمبر پر ہیں۔ دنیا میں ایکسپورٹ کئے جانے والے گوشت کا 20 فیصد حصہ ہندوستان درآمد کرتا ہے جس سے ملک کے بیرونی ذخائر میں 5 ارب ڈالرس سے زائد کا اضافہ ہوتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ سال ہندوستان نے 23,646 کروڑ روپئے کا بیف ایکسپورٹ کیا۔ حکومت کے دوغلے پن کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہیکہ ایک طرف وہ مویشیوں کے ذبیحہ پر پابندی عائد کررہی ہے دوسری طرف گائے کا گوشت ایکسپورٹ کرنے والی کمپنیوں کو جن کے مالکین ہندو ہیں، ڈائمنڈ ٹرافی جیسے ایوارڈس عطا کررہی ہے۔ حال ہی میں ہندوستانی وزارت کامرس نے مہاراشٹرا کی الانا اینڈ سنس پرائیویٹ لمیٹیڈ اور دوسری کمپنی کو یہ ایوارڈس عطا کئے۔ اہم بات یہ ہیکہ ان کمپنیوں کے نام الکبیر، الحمد رکھے گئے ہیں تاکہ نہ صرف ملک کے ہندوؤں بلکہ مسلم ملکوں کو بھی دھوکہ دیا جاسکے۔ گاؤرکھشکوں کے نام پر ملک میں غنڈہ گردی کا بازار گرم کرنے والوں کے آقاؤں کو یہ بھی اچھی طرح معلوم ہیکہ ہندوستان کی لیدر انڈسٹری (چمڑے کی صنعت) 13 ارب ڈالرس مالیتی ہے جبکہ گائے، بھینس، بیل وغیرہ کی ہڈیوں اور سنگھوں کو بھی برتن سے لیکر دواسازی کے شعبوں میں بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔ واضح رہیکہ بیف کی صنعت 22 لاکھ، لیدر ا ور یون (جانوروں کی ہڈیوں کی صنعت) سے 40 لاکھ لوگ جڑے ہوئے ہیں۔ ان میں مسلمانوں کی نہیں بلکہ ان ہندوؤںکی اکثریت ہے جنہیں ملک کے اقتدار پر قابض5 فیصد برہمن، دلت کتنے ہیں۔ آپ کو بتادیں کہ فٹ ویر اور لیدر گارمینٹس کی تیاری اور ایکسپورٹ میں ہندوستان کو دنیا میں دوسرا مقام حاصل ہے۔ فٹ ویر کے معاملہ میں ہندوستان کو دنیا میں 9 واں مقام حاصل ہے۔ اگر ذبیحہ گاؤ پر پابندی عائد کی جاتی ہے تو ایک محتاط انداز کے مطابق سالانہ 30 ارب ڈالرس (بیرونی زرمبادلہ) کا نقصان ہوگا جبکہ60 تا 70 لاکھ لوگوں کے روزگار سے محرومی کے نتیجہ میں اندرون ملک معیشت پر جو منفی اثرات مرتب ہوں گے اس سے معیشت تباہ و برباد ہوجائے گی۔ سب سے زیادہ کسان متاثرہوں گے۔ وہ بھی تین برسوں کے دوران ہزاروں کی تعداد میں کسانوں نے خودکشی کرلی ہیں۔ خود غریب کسان دانے دانے کیلئے ترس رہے ہیں۔ ایسے میں وہ ناکارہ گائے، بیل اور بھینس کا کیا کریں گے؟ جبکہ فی یوم ایک جانور کے چارہ پر 100 روپئے کے مصارف آتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ پہلے ہی قرض کے بوجھ تلے دبے کسانوں پر سالانہ 36500 روپئے کا اضافی بوجھ عائد ہوگا۔ ویسے بھی کسانوں نے اس بوجھ سے بچنے ایک نہیں دو نہیں 53 لاکھ آوارہ گایوں کو سڑکوں اور گلیوں میں مرنے کیلئے چھوڑ دیا ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT