Wednesday , September 20 2017
Home / کھیل کی خبریں / ہندوستان ۔ آسٹریلیا رقابت کی تجدید ، آج پہلا ونڈے

ہندوستان ۔ آسٹریلیا رقابت کی تجدید ، آج پہلا ونڈے

زخمی سمیع کے اخراج پر کپتان دھونی کیلئے بولنگ میں متبادل محدود ۔ اسمتھ کی میزبان ٹیم کی بہت طاقتور بیٹنگ بڑا خطرہ
پرتھ ، 11 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان اپنی ٹیم کی ترکیب درست کرلینے کوشاں رہے گا جبکہ وہ پُراعتماد آسٹریلیا کے خلاف اپنی سخت رقابت کی تجدید پانچ میچ کی او ڈی آئی سیریز کے پہلے مقابلے میں کررہے ہیںجو کل یہاں کھیلا جائے گا، اور ایک طویل لمیٹیڈ اوورز شیڈول کے آغاز کا نقیب ہوگا جو ورلڈ T20 تک وسعت پائے گا۔ محدود اوورز کی اس مختصر سیریز میں پانچ او ڈی آئیز اور تین ٹوئنٹی 20 انٹرنیشنلز شامل ہیں۔ خطہ ’ڈاؤن اَنڈر‘ میں ان مقابلوں کے ساتھ انڈین ٹیم کی نمایاں آئی سی سی ورلڈ T20 کیلئے تیاریاں شروع ہوجائیں گی، جو مارچ؍ اپریل میں مقرر ہے۔ اگرچہ ہندوستان نے اپنے دونوں وارم اپ میچز …ایک T20 اور ایک 50 اوور کا میچ… دوسرے درجہ کے ویسٹرن آسٹریلیا XI کے خلاف جیت لئے، لیکن یہ بلاشبہ اُس نوعیت کے چیلنج کا بہترین اندازہ نہیں جس کا انھیں اسٹیو اسمتھ کے کھلاڑیوں کی طرف سے سامنا ہوگا۔ جہاں تک 50 اوور والے فارمٹ کا معاملہ ہے، ہندوستان کا کوئی خاص سال 2015ء نہیں گزرا جیسا کہ وہ متواتر دو سیریز بنگلہ دیش (بیرون وطن) اور جنوبی افریقہ (وطن میں) میں ہارے۔ کپتان ایم ایس دھونی نئے سال میں حالات بدلنا چاہیں گے لیکن انھیں اس حقیقت پر افسوس ہوگا کہ اُن کے ایک بہترین پیسر محمد سمیع اس سیریز میں کوئی گیند پھینکے جانے سے قبل ہی ہیمسٹرنگ انجری کے سبب تمام مقابلوں سے خارج ہوگئے ہیں۔ تاہم چند پہلو ضرور ہیں جو دھونی کو راحت پہنچا سکتے ہیں۔ یہ حقیقت کہ ڈیوڈ وارنر اور اُن کے ساتھ مچل اسٹارک شاید اس سیریز کے زیادہ تر حصے کیلئے عدم دستیاب ہوں گے ، نیز مچل جانسن اب ریٹائر ہوچکے ہیں؛ اس لئے جوش ہیزلووڈ، جوئل پیرس، اسکاٹ بولینڈ اور جمی فاکنر پر مشتمل آسٹریلیائی بولنگ اٹیک تجربے کے معاملے میں کمزور معلوم ہوتا ہے۔ جہاں تک خود ہندوستانی بولنگ کی بات ہے دھونی ممکنہ قطعی XI کی ترکیبوں پر سوچتے آئے ہیں۔ اُن کے سب سے تجربہ کار بولر ایشانت شرما نے دو پریکٹس میچز میں سے کوئی بھی نہیں کھیلا، لہٰذا یہ واضح نہیں کہ آیا کون اوپننگ میچ میں کھیلے گا۔ چونکہ واکا میں جو آسٹریلیا کی سب سے زیادہ باؤنس والی وکٹ ہے، تین پیسرز کا کھیلنا لگ بھگ یقینی ہے، اس لئے یہ امکانات روشن ہیں کہ لیفٹ آرم پیسر بریندر بلبیر سنگھ سرن کو اپنا انٹرنیشنل کریئر شروع کرنے کا موقع مل سکتا ہے اور وہ ایشانت اور اومیش یادو کا ساتھ دیں گے۔ دھونی نے گزشتہ روز یہاں پری میچ پریس کانفرنس میں بھی واضح کردیا کہ وہ عین ممکن ہے 3-2 کی ترکیب کے ساتھ میدان سنبھالیں گے یعنی تین پیس بولرز اور دو اسپنرز کے سواء اُن کے پاس کوئی اور متبادل نہیں ہے۔ کپتان کا بیان ہماچل پردیش کے رشی دھون کو خودبخود پہلے میچ کے منظر سے ہٹا دیتا ہے کیونکہ انھیں اس ٹیم میں آل راؤنڈر کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔ دراز قد سرن دونوں پریکٹس میچز میں متاثرکن نظر آئے جبکہ ان کے پاس پیس اور سوئنگ دونوں کی صلاحیت ہے۔ سرن کی بیٹسمن کو چکمہ دینے والی شارٹ گیند بھی ایشانت اور اومیش کے ٹیم انڈیا کیلئے مفید ثابت ہوسکتی ہے۔ دو تجربہ کار اسپن بولنگ آل راؤنڈرز روی چندرن اشوین اور رویندر جڈیجا مہمانوں کی طرف سے پانچ رخی بولنگ اٹیک کی تکمیل کریں گے۔ بیٹنگ کا شعبہ بڑی حد تک مستحکم دکھائی دیتا ہے جس میں روہت شرما اور شکھر دھون اوپنرز ہیں جس کے بعد وائس کیپٹن ویراٹ کوہلی نمبر 3 پر اور پھر اجنکیا رہانے نمبر 4 اور ہندوستانی کپتان نمبر 5 پر متوقع ہیں۔ مڈل آرڈر میں نمبر 6 کی پوزیشن پر منیش پانڈے یا گرکیرت سنگھ کی شکل میں نیا چہرہ رہے گا کیونکہ اسکواڈ میں سریش رائنا شامل نہیں کئے گئے ہیں۔ میزبانوں کی بات کریں تو اُن کا بیٹنگ شعبہ مہمانوں کیلئے بڑا خطرہ رہے گا جیسا کہ اسمتھ کی نظر اگر وکٹ پر کچھ دیر جم جائے تو انھیں روکنا ہرگز آسان نہیں ہوگا۔ وارنر جس قدر بھی دستیاب رہیں، بولروں کیلئے خطرہ ہوں گے۔ آرن فنچ اور گلن میکسویل کسی بھی بولنگ کی دھجیاں اُڑا سکتے ہیں۔ میزبانوں کے پاس سابق کیپٹن جارج بیلی بھی ہیں جو اس فارمٹ کے نہایت مسابقتی کھلاڑی ہیں اور اننگز کو سنبھال کر آگے بڑھانا انھیں بخوبی آتا ہے۔ فاکنر کی بیٹسمن کے طور پر صلاحیتوں کا ہندوستانیوں اور بالخصوص ایشانت کو اچھا اندازہ ہے، جن کی فاکنر نے 2013ء کی سیریز کے دوران بڑی دُرگت بنائی تھی۔ بہرحال دونوں ٹیمیں بھرپور کھیلیں تو دلچسپ مقابلہ ہوگا۔ (میچ کا آغاز :  08:50 IST)

TOPPOPULARRECENT