Tuesday , August 22 2017
Home / دنیا / ہندوپاک کو راست امن مذاکرات کرنے امریکہ کا مشورہ

ہندوپاک کو راست امن مذاکرات کرنے امریکہ کا مشورہ

واشنگٹن ۔ 8 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ نے آج ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ ہندوپاک کو باہم کشیدگی دور کرنے کیلئے راست طور پر بات چیت کا آغاز کرنا چاہئے کیونکہ اس وقت صرف باتوں کی نہیں بلکہ عملی طور پر کچھ کر دکھانے کی ضرورت ہے۔ اگر دونوں ممالک باہمی تعاون سے اپنی کشیدگی دور کرتے ہیں تو یہ ایک تاریخی کارنامہ کہا جاسکتا ہے۔ یاد رہے کہ صرف کچھ گھنٹے قبل پاکستان نے دو رخی امن مذاکرات کو معطل قرار دیا تھا۔ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے نائب ترجمان مارک ٹونر نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو شروع سے ہی یہ ایقان رہا ہیکہ ہندوپاک کی بہتری اسی میں ہے کہ دونوں کے تعلقات معمول کے مطابق ہوجائیں۔ اگر کسی وجہ سے کشیدگی پیدا ہوتی ہے تو امریکہ ہمیشہ یہی کوشش کرتا رہا ہے اور کرتا رہے گا کہ ہندوپاک اپنے تعلقات بحال کریں۔ یہ بات صرف دو ممالک کی نہیں بلکہ دوحکومتوں کی  بھی ہے۔ ہندوپاک کے بہتر تعلقات اس خطہ کے امن وامان کیلئے بھی کارگر ثابت ہوں گے جو دونوں ہی ممالک کی حکومتوں اور عوام کیلئے فائدہ مند ثابت ہوگا۔ ٹونر نے یہ بات اس وقت کہی جب ایک رپورٹر نے پاکستان ہائی کمشنر عبدالباسط کے اس بیان پر سوال پوچھا تھا جہاں عبدالباسط نے کہا تھاکہ دونوں ممالک کے درمیان امن کے قیام کی کارروائی معطل ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر پر امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی ہے البتہ امن ، بات چیت کی نوعیت کا انحصار دونوں ممالک پر ہے۔ کشمیر کے موضوع پر بات چیت کا ایجنڈہ کیا ہونا چاہئے اس کا فیصلہ بھی دونوں ممالک کوہی کرنا پڑے گا۔ ٹونر نے ایک بار پھر کہا کہ کشمیر پر امریکہ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی ہے۔ البتہ دونوں ممالک ایک دوسرے سے قریب آنے کیلئے جوبھی اقدامات کریں گے امریکہ ان کی حوصلہ افزائی کرے گا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہیکہ عبدالباسط نے اس سلسلہ میں ایک سابق ہندوستانی بحریہ کے آفیسر کلبھوشن جادھو کا بھی حوالہ دیا جنہیں فی الحال جاسوسی کے الزام میں پاکستان میں گرفتار کیا گیا ہے۔ بہرحال جب اخباری نمائندوں نے اس گرفتاری کے بارے میں سوال کیا تو ٹونر نے کوئی جواب نہیں دیا اور صرف اتنا کہا کہ گرفتاری سے متعلق انہیں تفصیلات کا علم نہیں ہے۔

TOPPOPULARRECENT