Saturday , April 29 2017
Home / Top Stories / ہندو دھرم قبول کرنے مسلم خاتون کی دھمکی، علیگڑھ میں انوکھا واقعہ

ہندو دھرم قبول کرنے مسلم خاتون کی دھمکی، علیگڑھ میں انوکھا واقعہ

علیگڑھ ۔ 12 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) اترپردیش میں علیگڑھ کے جمال پور ٹاؤن میں آج اس وقت کشیدگی پھیل گئی جب ایک ہندو تنظیم کے کارکنوں نے ایک مسلم خاتون کے معاملہ میں مداخلت کی۔ یہ خاتون اپنے سسرالی گھر میں داخلہ سے روک دیئے جانے کے بعد چار سالہ لڑکی کے ساتھ گھر کے باہر پڑی انصاف کا مطالبہ کررہی تھی۔ 30 سالہ ریحانہ نے کہا کہ وہ خود اپنے اور اپنی چار سالہ بیٹی کیلئے انصاف چاہتی ہے لیکن اس سے انکار کی صورت میں وہ کوئی بھی انتہائی قدم اٹھانے سے گریز نہیں کرے گی جس میں ہندو مذہب میں شمولیت بھی شامل ہے۔ پولیس کے مطابق ریحانہ کا تعلق پڑوسی ضلع بلند شہر سے ہے۔ 2012ء میں اس کی شادی محمد شریف سے ہوئی تھی لیکن ازدواجی زندگی میں جھگڑوں کے سبب وہ اپنی بیٹی کے ساتھ میلے چلی گئی تھی۔ صلح و مفاہمت کی تمام کوششیں ناکام ہوجانے کے بعد ریحانہ اپنی بیٹی اور سارے خاندان کے ساتھ گذشتہ روز شوہر کے گھر گئی تھی جہاں اس کو گھر میں داخل ہونے نہیں دیا گیا۔ چنانچہ وہ اور اس کا خاندان گھر کے دروازہ کے روبرو بیٹھ گیا جنہیں دیکھ کر اس مسلم اکثریتی محلہ میں ایک ہجوم جمع ہوگیا۔ اس دوران ہندو مہاسبھا کے چند سرکردہ مقامی لیڈر بھی پہنچ گئے اور تیقن دیا کہ وہ اس کے مسئلہ کی یکسوئی کی کوشش کریں گے، جس سے اس کو انصاف مل سکتا ہے۔ اس مقام پر ہندو قائدین کی موجودگی سے کشیدگی پیدا ہوگئی اور فی الفور پولیس نے وہاں پہنچ کر صورتحال پر کنٹرول کرلیا۔ ہندو کارکنوں نے شام میں اس خاتون کی ہندو مہاسبھا کی قومی جنرل سکریٹری پوجا شکون سے ملاقات کروائی۔ ریحانہ نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ تین طلاق کے مسئلہ سے اس کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ علیگڑھ کے پولیس سپرنٹنڈنٹ اتل سریواستوا نے پی ٹی آئی سے کہا کہ وہ اس مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔ بعدازاں ریحانہ اور اس کے ارکان خاندان بلند شہر واپس چلے گئے لیکن یہ دھمکی بھی دی کہ اگر مسئلہ حل نہیں ہوا تو احتجاج کیلئے دوبارہ علیگڑھ پہنچ جائیں گے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT