Wednesday , September 20 2017
Home / مضامین / ہندو دہشت گردی یا زعفرانی دہشت گردی

ہندو دہشت گردی یا زعفرانی دہشت گردی

غضنفر علی خان
گذشتہ ہفتہ پارلیمان میں مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’’ان کی حکومت کو دہشت گردوں سے نمٹنے میں اس لئے دشواری ہورہی ہے کہ سابقہ یو پی اے حکومت نے دہشت گردی کو ’’ہندو دہشت گردی‘‘ کا بھی نام دیا تھا ۔ بنیادی بات یہ ہے کہ کوئی مذہب دہشت گردی نہیں سکھاتا ۔ ہر عقیدہ ، ہر مذہب نوع انسان کو مہر و محبت کا سبق دیتا ہے ۔ اخوت اور بھائی چارہ کی تعلیم دیتا ہے ۔ اس کے باوجود یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی مذہب میں چند ایک افراد انتہا پسندی کا راستہ اختیار کرتے ہوئے دہشت گردی کی راہ پر چل نکلتے ہیں ۔ کسی مذہب میں دہشت گردوں کی موجودگی اس سارے مذہب کی دہشت گردی نہیں کہلاسکتی ۔ دہشت گردوں میں مذہب اسلام کے ماننے والے مٹھی بھر افراد ہوں گے ان کی وجہ سے سارے دین اسلام کو تمام مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دینا بالکل غلط ہے ۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ بین الاقوامی سطح پر اور خود ہمارے ملک میں یہ منفی رجحان پایا جاتا ہے ۔ یو پی اے حکومت میں ایک مرحلہ پر وزیر داخلہ پی چدمبرم نے پہلی مرتبہ ’’زعفرانی دہشت گردی‘‘ کی اصطلاح استعمال کی تھی ۔ ان کے بعد کانگریس حکومت کے ایک وزیر داخلہ سشیل کمار شنڈے نے بھی اسکا ذکر کیا تھا ۔ مالیگاؤں کے بم دھماکہ کے بعد زعفرانی دہشت گردی استعمال میں آئی اور رفتہ رفتہ عام ہوتی گئی ۔

سوال یہ ہے کہ زعفرانی دہشت گردی کیا ہندو دہشت گردی کہلائے گی ؟ یا صحیح بات یہ ہے کہ ہندو دھرم کے ماننے والوں میں وہ انتہا پسند افراد جو گیروا (زعفرانی) رنگ کے کپڑے پہنتے ہیں ، انھیں زعفرانی دہشت پسند کہا جاتا ہے ۔ اس میں بھی ایک نزاکت ہے کہ اس قسم کی وضع قطع اور رنگ کا استعمال کرنے والا ہر فرد  دہشت گرد نہیں ہوتا ۔ ان میں وہ ہزاروں سادھو اور سنت بھی شامل ہیں ،جو دھرم کی سیوا کرتے ہیں یا جنھوں نے کم و بیش دنیا ترک کردی ہے ۔ اس لحاظ سے ہر زعفرانی ہندو بھی اسی طرح دہشت گرد نہیں ہوتا جس طرح سے ہر عام مسلمان نہیں ہوتا ۔ پھر زعفرانی دہشت گردی کی اصطلاح آئی کہاں سے ؟۔ دراصل زعفرانی دہشت گرد سے مراد وہ انتہا پسند ، سخت گیر لوگ ہیں جو اپنے بیانات سے بھی دہشت پھیلاتے ہیں ۔

ان میں وشوا ہندو پریشد سرفہرست ہے ۔ دہشت گردی صرف بم دھماکہ کرنے ہی کو نہیں کہتے بلکہ ان بیانات اور دعوؤں کو بھی دہشت گردی کی وسیع تر تعریف میں لایا جاسکتا ہے ، جن سے ہندوستانی سماج میں اقلیتی طبقات میں بے چینی پیدا ہوتی ہے ۔ ان میں احساس عدم تحفظ پیدا ہوتا ہے ۔ وشوا ہندو پریشد نے ایک سے زیادہ بار ایسے بیانات دیئے ہیں ، جن سے اقلیتی طبقات بالخصوص مسلمانوں میں غیر محفوظ ہونے کا احساس شدید تر ہوگیا ۔ ابھی کچھ ہی دنوں پہلے کی بات ہے کہ وشوا ہندو  پریشد کے سکریٹری اشوک سنگھل نے کہا تھا کہ 2020 تک سارا ہندوستان اور 2030 تک ساری دنیا ہندو مذہب ماننے لگے گی ۔ اگرچیکہ یہ کسی طرح سے ممکن نہیں ہے ۔ لیکن ایسے واقعات بھی سارے ملک میں ہوئے ہیں جن میں زبردستی یا پھر لالچ دے کر اقلیتی طبقہ کے سینکڑوں افراد کو ہندو دھرم میں شامل کرلینے کا دعوی کیا گیا تھا ، لیکن ان لوگوں نے پھر اپنے آبائی مذہب کو اختیار کرلیا ۔ یہ دعوی بھی کیا گیا تھا کہ اترپردیش کے شہر علی گڑھ اور اعظم گڑھ اور دیگر مقامات پر ایسے کیمپ قائم کئے جائیں گے جہاں مسلمانوں کو ہندو دھرم میں دوبارہ داخل کیا جائے گا  ۔گھر واپسی کی مہم کیا بلا ہے ؟ کیا یہ دہشت گردی نہیں بلکہ لوگوں کولالچ دے کر ان کی کم علمی اور کم فہمی کا ناجائز فائدہ اٹھا کر انہیں مختلف قسم کی لالچ دے کر یا بعض وقت انھیں ڈرا دھمکا کر تبدیلیٔ مذہب کے لئے مجبور کیا جائے ۔ اس قسم کی دہشت گردی ہورہی ہے اور اس کے پیچھے زعفرانی تنظیموں کا ہاتھ ہے اور ان تنظیموں کو آر ایس ایس یا پھر بی جے پی کی علانیہ طرز پر پشت پناہی حاصل ہے ۔ یعنی باقاعدہ طور پر نہ سہی بے قاعدہ طور پر ہی زعفرانی دہشت گردی کو حکومت کی سرپرستی حاصل ہے ۔ ہر ایسے واقعہ پر مودی حکومت کی خاموشی یا دیدہ دانستہ طور پر چشم پوشی صاف طور پر ظاہر ہورہی ہے ۔ یہ دہشت گردی کی ایک بدلی ہوئی شکل ہے ۔ بم دھماکوں میں جانیں جاتی ہیں ۔ لیکن تبدیلیٔ مذہب کی کارروائی یا گھر واپسی کی مہم کی وجہ سے توایمان کی دولت ہی چلی جاتی ہے ۔ جو کم از کم مسلمانوں کے لئے ’’متاعِ بے بہا‘‘ ہے ۔ کسی ہندو کے لئے ہندو دھرم ترک کرنا اتنا ہی تکلیف دہ ہے جتنا کہ کسی مسلمان کے لئے اپنا دین چھوڑنا۔ دین دھرم کی تبدیلی گھر واپسی کی بات کرنے والوں کو کیا امن پسند ، وطن دوست کہا جاسکتا ہے ۔ یہ عناصر بھی اتنے ہی خطرناک ہیں جو بم دھماکے کرتے ہیں ۔ یہ بھی صحیح ہے کہ یہ کلیہ تمام مذاہب کے ماننے والے پر لاگو ہوتا ہے ۔ اس قسم کی دہشت گردی کو زعفرانی دہشت گردی کہنا کیسے غلط ثابت ہوگا ؟ مذاہب کے درمیان بھائی چارہ کے فضا کو ختم کرنے والے سب سے برے اور سب سے زیادہ فسطائی ہیں ، یہ اتنے بڑے وطن دشمن ہیں جتنے بڑے ممبئی کے حملہ کے وطن دشمن عناصر ہیں ، خواہ ان کا تعلق ہمارے پڑوسی ملک سے کیوں نہ ہو ان کے جرم کو کبھی معاف نہیں کیا جاسکتا۔

دہشت گرد کا کوئی مذہب ہی نہیں ہوتا وہ معصوموں کا خون کرتا ہے بے گناہ لوگوں کی جان لیتا ہے ۔ اس لئے کسی بھی مذہب سے اسکا رشتہ جوڑنا سراسر ناانصافی ہے ۔ دہشت گردی درحقیقت انتہا پسندی سے پیدا ہوتی ہے ۔ سماج میں جب تک انتہا پسندی رہے گی تب تک دہشت پسندی بھی رہے گی ۔ ہمارے ہندوستانی معاشرہ میں ابھی ان لوگوں کا غلبہ ہے جو اعتدال پسند ہیں جن کے سوچنے کے انداز میں تحمل پسندی ہے ، جو دوسرے کے عقائد کا بھی احترام کرتے ہیں ۔ لیکن اپنے عقیدہ پر مضبوطی سے قائم رہتے ہیں ۔ ہر فرقہ ہر عقیدہ کے ماننے والوں میں انتہا پسند عناصر شرپسند افراد موجود ہوتے ہیں لیکن ان کی کارستانی کی وجہ سے سارے فرقہ کو نہ تو بدنام کیا جاسکتا ہے نہ کوئی ناانصافی کی جاسکتی ہے ۔ کچھ واقعات ہوئے ہیں جن میں ہندو دھرم سے تعلق رکھنے والے افراد بم دھماکہ کی دہشت گردی میں ملوث پائے گئے خاص طور پر مالیگاؤں ، سمجھوتہ ایکسپریس دھماکہ ، مکہ مسجد کا بم دھماکہ اس میں انتہا پسند ہندو تنظیموں کے افراد ملوث پائے گئے ان کے خلاف قانونی کارروائی بھی چل رہی ہے ۔ ہمیں شہر کے پولیس عہدیداروں کی تحقیقات سے بھی یہ ثاتب ہوا ہے کہ بعض ہندو انتہا پسندگروہوں نے یہ دھماکے کئے ۔ ابھی تحقیقات جاری ہیں۔ ان واقعات کے بعد ممبئی کے عہدہ داروں نے یہ کہا تھا کہ بعض واقعات میں ایسی تنظیمیں شامل ہیں یا کم از کم ان کے ملوث ہونے کے امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا ۔ اس پس منظر میں سابق یو پی اے حکومت کے مرکزی وزیر داخلہ پی چدمبرم اور پھر سشیل کمار شنڈے نے یہ لفظ استعمال کئے تھے ۔ اصلیت یہ ہے کہ تمام واقعات میں نہ سہی چند اہم اور بڑے دھماکہ کی وارداتوں میں نہ صرف آر ایس ایس ، وشوا ہندو پریشد کے عناصر شامل تھے ، بلکہ ابھی تک ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی ہورہی ہے ۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ دہشت گردی میں صرف ہندو عناصر ملوث ہیں ہاں البتہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ گمراہ اور ہندو دھرم سے ناواقف بعض افراد نے ایسی وارداتیں مبینہ طور پر انجام دیں ۔ اس پر موجودہ وزیر داخلہ کا یہ کہنا کہ ’’ہندو دہشت گردی‘‘ کا لفظ استعمال کرکے کانگریس نے ان کی حکومت کے لئے مشکلات کھڑی کردی ہیں ۔ ایک بالکل ناقابل فہم بات ہے ۔ اگر بی جے پی حکومت غیر جانبدار رہے تو اسکو مشکلات پیش نہیں آنی چاہئے ۔ دہشت گرد مسلم ہوں کہ ہندو مفاد عامہ کا تقاضہ ہے کہ اس کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے ۔ سابقہ حکومت کا کوئی بیان آج کی حکومت کے لئے کیسے رکاوٹ کھڑی کرسکتا ہے  ۔ راج ناتھ سنگھ اگر انصاف پسند اور معقولیت پسند وزیر داخلہ ہیں تو انھیں اس بات سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہئے کہ ماضی میں کس نے کیا کہا تھا ۔ راج ناتھ سنگھ کی بات دراصل ’’عذر لنگ‘‘ ہے ۔ وہ ایسا کہہ کر اپنی ذمہ داری سے بچنا چاہتے ہیں ۔ دہشت گرد ملک کے دشمن ہوتے ہیں ان میں مذہب کی بنیاد پر تفریق نہیں کی جاسکتی ۔

TOPPOPULARRECENT