Sunday , May 28 2017
Home / مضامین / ہندو راشٹر نظریہ کا ہندوستانی قوم پرستی کی سیاست پر غلبہ کیا یہ ہندووں کیلئے ٹھیک ہے ؟

ہندو راشٹر نظریہ کا ہندوستانی قوم پرستی کی سیاست پر غلبہ کیا یہ ہندووں کیلئے ٹھیک ہے ؟

رام پنیانی
ہندو نیشنلسٹ سیاست کا اصل مقصد ہندو راشٹر ہے ۔ ہندو نیشنلسٹ سیاست کو ہندوتوا بھی کہا جاتا ہے ۔ ہندو ازم کے یکسر برخلاف ہندوتوا ہندوازم کے نام میں سیاست ہے جو برہمن ازم کے ساتھ چلتی ہے ۔ مختصر یہ کہ ہندوتوا ایک ایسی سیاست ہے جو ذات پات اور جنس کے امتیاز پر مبنی برہمنی اقدار کے ساتھ چلتی ہے ۔
ہندوتوا ۔ ہندو قوم کا نظریہ عصر حاضر کا ہے جو اسلامی قوم پرستی کے متوازی بن کر ابھرا ہے اور یہ در اصل ہندوستانی قوم پرستی کے نظریہ کے خلاف ہے ۔ ہندوستانی قوم پرستی کا نظریہ سامراجی دور میں شروع ہوا تھا اور اسے تمام مذاہب ‘ مختلف ذاتوں ‘ زبانیں بولنے والوں اور مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والوں کی اجتماعی قوم پرستی سمجھا جاتا تھا اور یہ آزادی ‘ مساوات اور برادری کے اقدار پر مبنی رکھا گیا تھا ۔ ہندو قوم پرستی کا نظریہ در اصل ہندو زمینداروں ‘ راجاوں اور ان سے تعلق رکھنے والے مذہبی عناصر سے شروع ہوا تھا ۔ چونکہ ہندوستانی قوم پرستی میں تمام لوگوں کیلئے مساوات کی بحث شامل تھی اس سے سابقہ حکمرانوں کو سماجی طور پر خطرہ محسوس ہوا ۔ اب ان کی سماجی مارعات کو خطرہ لاحق ہے اور ایسے میں یہ لوگ ’’ ہندو ازم خطرہ میں ہے ‘‘ کا نعرہ لگا رہے ہیں۔ یہی اسی طرح کا نعرہ ہے جو مسلم زمینداروں اور نوابوں نے لگایا تھا جب ان کا سماجی موقف متاثر ہونا شروع ہوا تھا ۔ انہوں نے بھی ’’ اسلام خطرہ میں ہے ‘‘ کا نعرہ لگایا تھا ۔ ہندو قوم پرستی کا تصور در اصل منو سمرتی اور ویدوں کے دور سے شروع ہوا تھا جہاں ذات پات کا نظام سماج کی جڑوں میں گھسا ہوا تھا ۔ جب قومی تحریک کے ذریعہ اراضی اصلاحات پر زور دیا گیا تھا حالانکہ اس پر کبھی بھی مناسب عمل آوری نہیں ہوئی ‘ ہندو قوم پرستی سابقہ روایتوں اور نظام سے بھی شروع ہوئی تھی اور وہ سماجی عدم مساوات کے اپنے ایجنڈہ کو پوشیدہ رکھتی ہے ۔ اس میں سابقہ باوقار وقتوں کو بحال کرنے پر زور دیا جاتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت دلتوں اور خواتین کی حالت انتہائی ابتر تھی ۔
قومی تحریک میں ہندووں کی اکثریت کی ضروریات کو اجاگر کیا گیا تھا جو جمہوری اصولوں کیلئے جدوجہد پر مبنی تھا اور اس کے اقدار کو آزادی ‘ مساوات اور برادری کی شکل میں ہندوستانی دستور میں شامل کیا گیا تھا ۔ ہندو نیشنلسٹس ان اقدار کے مخالف ہیں اور وہ ہندوستانی دستور کے بھی مخالف رہے ۔ دستور میں نہ صرف جاگیردارانہ بندشوں سے تمام شہریوں کی آزادی کی بات کہی گئی ہے بلکہ یہ ہندووں کے ایک بڑے طبقہ کو آزادی دلانے کا راستہ بھی ہے ۔ اس میں اعلی ذات والے شامل نہیں ہیں جو اپنی اہمیت سے محروم ہوسکتے ہیں۔ بیشتر ہندووں نے آزادی کی جدوجہد میں حصہ لیا تھا تاہم ان میں سے صرف چند ایسے تھے جنہوں نے ہندو راشٹر کے نظریات کو زندہ رکھا تھا اور اس سارے عمل میں اس کو برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی جس کا مقصد تمام افراد بشمول ہندووں کی اکثریت کو آزادی سے ہمکنار کرنا تھا ۔ جو لوگ ہندووں کی اکثریت کے کاز کیلئے جدوجہد کرتے ہیں انہوں نے ہندو راشٹر کی مخالفت کی تھی ۔ امبیڈکر نے واضح کیا تھا
’’ یہ افسوس کی بات ہے کہ مسٹر جناح کو مسلم قوم پرستی کا حامی اور چمپئن بننا چاہئے ایسے وقت میں جبکہ ساری دنیا قوم پرستی کی برائیوں کی مذمت کر رہی ہے ۔ لیکن کیا وہ کافی نہیں ہے جو ہندووں اور مسلمانوں میں یکساں ہو ؟ ۔ اگر اسے آگے بڑھایا جاتا ہے تو ان کو ایک طرح کے لوگوں میں بدلا جاسکتا تھا ۔ اگر ہندو راج ایک حقیقت بنتا ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ہمارے ملک کیلئے سب سے بڑا سانحہ ہوگا ‘‘۔ ان دو خیالات سے سنگھ پریوار کے نیشنل ازم کا تقابل کیا جائے اور اپنا نتیجہ بھی آخذ کیا جاسکتا ہے ۔
اپنے وقت کے ایک بڑے ہندو ‘ گاندھی جی نے واضح کیا تھا
میں نے ساری زندگی ہندوستان کی بہتری کیلیء کام کیا ہے ۔ یہاں ہر فرد کو مساوی موقف حاصل ہے چاہے اس کا مذہب کوئی بھی ہو ۔ ملک مکمل ’ سکیولر ‘ ہونے کا پابند ہے اور مذہب کو قومیت کا امتحان قرار نہیں دیا جاسکتا بلکہ یہ اس کے ماننے والے اور خدا کے مابین شخصی معاملہ ہے اور مذہبی ہر شہری کا شخصی مسائلہ ہے ۔ اسے سیاست یا قومی امور سے جوڑا نہیں جاسکتا ( ہریجن : 31 اگسٹ 1947  ) ۔
آزادی کے بعد ہندو قوم پرستی کے حامیوں کی تعداد حالانکہ بہت کم رہی تھی لیکن انہوں نے ہندوستانی قوم پرستی کے اہم ستون کو توڑنے کیلئے اپنی کوششوں کو جاری رکھا ۔ انہوں نے مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت پھیلانا جاری رکھا ۔ یہی نفرت آئندہ وقتوں میں فرقہ وارانہ تشدد کی بنیاد بنی ۔ جب ہندووں کی اکثریت عصری تعلیم اور عصری صنعتوں کے ذریعہ ایک ماڈرن ہندوستان کی تعمیر کیلئے قومی پالیسیوں کے ساتھ کام کر رہی تھی اس وقت ہندو نیشنلسٹس‘ ان پالیسیوں کی مکمل مخالفت کرتے رہیت ھے ۔ ہندووں کی اکثریت کو جہاں روٹی ‘ گھر ‘ ملازمت اور عزت کے مسائل درپیش تھے ہندو نیشنلسٹس سماج کو مذہبی خطوط پر تقسیم کرنے کیلئے جذباتی مسائل کو اٹھا رہے تھے ۔ اس کا نتیجہ ہندو ازم اور ہندووں کے نام پر جذباتی کیفیت کی صورت میں سامنے آیا ۔ ان کے نتیجہ میں ہندووں کو درپیش حقیقی مسائل کو پس پشت ڈالا جا رہا ہے اور ان کی بجائے شناخت کے مسائل ابھر رہے ہیں۔
جب بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے کو اقتدار ملا تھا تو اس نے پورو ہت ‘ ( Priesthood ) اور کرم کانڈ جیسے طریقوں کو بحال کرتے ہوئے اندھی عقیدت کا راستہ بحال کردیا ۔ ہندووں کو اندھی عقیدت کے پنجوں سے باہر نکالنے کی ضرورت ہے جبکہ یہ پالیسیاں پسماندگی اور رکاوٹوں کی اقدار میں شدت پیدا کر رہی ہیں اور اس سے اوسط ہندو کی حقیقی ضروریات کی اہمیت بھی گھٹ رہی ہے ۔
تین سال قبل مودی۔ بی جے پی ۔ آر ایس ایس حکومت نے اقتدار حاصل کیا تھا ۔ اس وقت سے شناخت کے مسائل کو اٹھایا جا رہا ہے ۔ غذا ‘ تعلیم اور صحت سے متعلق حقوق کی اہمیت کو کم کرنے اور انہیں نظر انداز کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اراضی اصلاحات کے نام پر کسانوں کی اراضیات ہڑپنے کی کوششیں ہو رہی ہیں‘ کسی طرح وہ اس میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔ اراضی اصلاحات قانون لانے کی کوششوں کو ہندووں کے مفادات کے خلاف سمجھا جاتا ہے ۔ ہندو قوم پرستوں نے جو لیبر اصلاحات نافذ کی ہیں ان سے بحیثیت مجموعی مزدوروں کی زندگیاں تلف ہوئی ہیں۔ نوٹ بندی کو کالا دھن رکھنے والوں کیلئے جھٹکا قرار دیا گیا تھا لیکن اس کے حقیقی متاثر اوسط ہندو رہے ہیں جو خاموشی میں اس کا شکار ہوگئے ۔ سماجی منظر نامہ پر کئی جذباتی مسائل کا غلبہ ہے جن میں رام مندر ‘ بھارت ماتا کی جئے ‘ وندے ماترم ‘ گائے کا تحفظ ‘ لو جہاد اور گھر واپسی جیسے مسائل شامل ہیں۔ ہندو نیشنلسٹ ایجنڈہ کی وجہ سے اس طرح کا کلثر فروغ پا رہا ہے ۔ ان پالیسیوں سے در اصل کارپوریٹ شعبہ کو ‘ اعلی اور درمیانی طبقہ کے افراد کو ہی فائدہ پہونچتا ہے اور اوسط ہندو تکلیف اور پریشانی سے متاثر ہے ۔
سماج کا بھی نقصان ہو رہا ہے کیونکہ محبت اور یکجہتی کے قدیم اقدار کو تباہ کیا جا رہا ہے ۔ غربت ‘ ناخواندگی ‘ بھوک اور صحت کے مسائل کو پالیسی سازی میں کہیں پیچھے کردیا گیا ہے ۔ یہ سب کچھ بحیثیت مجموعی ہندووں کے مفادات کے مغائر ہے ۔ اوسط ہندو اس ایجنڈہ کا سب سے بڑا شکار ہو رہا ہے ۔
[email protected]

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT