Wednesday , September 27 2017
Home / ہندوستان / ہندو سینا نے رام کے بیانر پر شاہ آباد میں فرقہ وارانہ بے چینی پیدا کرنے گوبر پھینکا تھا: پولیس

ہندو سینا نے رام کے بیانر پر شاہ آباد میں فرقہ وارانہ بے چینی پیدا کرنے گوبر پھینکا تھا: پولیس

شاہ آباد (گلبرگہ) 20 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) شاہ آباد پولیس نے توثیق کی کہ 7 ملزمین میں سے پولیس نے 6 اشرار کو حراست میں لے لیا ہے اور اُنھوں نے مبینہ طور پر اعتراف کیا ہے کہ اُن کا تعلق سری رام سینا اور دیگر دائیں بازو کی تنظیموں سے ہے۔ ایک ملزم ہنوز مفرور ہے۔ گرفتار شدہ 6 ملزمین میں سے 5 کا تعلق اکثریتی فرقہ سے ہے جن کے نام 19 سالہ ابھیشک، 21 سالہ سرینواس، 22 سالہ ونود، 24 سالہ نلیش، 25 سالہ تمنا اور 22 سالہ بابا ہیں۔ ان کا مقصد عاشورہ کے دوران فرقہ وارانہ بے چینی پیدا کرنا تھا۔ ایک ملزم شیوا نے مبینہ طور پر فیس بُک پر مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز مواد شائع کیا تھا جسے مسلم فرقہ کی شکایت پر بعد میں گرفتار کرلیا گیا۔ جوابی جذبات بھڑکانے کے لئے جو شیوسینا، وی ایچ پی اور رام سینا کے کارکن ہیں، اِن تینوں تنظیموں نے اکثریتی فرقہ کو ہندو جذبات مجروح کرنے کا خاطی قرار دیتے ہوئے پروپگنڈہ شروع کردیا تھا۔ لیکن پولیس نے اِن کے مقاصد کو بے نقاب کردیا اور خاطی گمراہ اشرار ثابت ہوئے جن کا تعلق اسی فرقہ سے تھا۔ گلبرگہ کے ایس پی ششی کمار نے اپنے ایک بیان میں ذرائع ابلاغ سے کہاکہ ایک نوجوان نے قابل اعتراض مواد مسلم فرقہ کے بارے میں شائع کیا تھا۔ اُسے مسلم فرقہ کے اعتراض اور ایف آئی آر درج کروانے پر گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ملزم نے ایسا فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے کے لئے کیا تھا لیکن پولیس نے اندرون دو گھنٹے اُسے گرفتار کرلیا۔ 12 اکٹوبر کو 6 تا 8 افراد جن کا تعلق مختلف تنظیموں سے تھا، فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے کے لئے کارروائیوں کا منصوبہ بنارہے تھے۔ ایس پی نے کہاکہ وہ یہ کہنا نہیں چاہتے کہ رام سینا کے کارکنوں نے ایسا کیا ہے۔ ان کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ بعض افراد جو اپنے آپ کو سری رام سینا کے کارکن ظاہر کرتے ہیں، اِس کارروائی کے خاطی ہیں۔ اِن افراد نے یہ سمجھ کر ایسا کیا تھا کہ ان کی شناخت اور گرفتاری نہیں ہوسکے گی اور بڑے پیمانے پر فرقہ وارانہ کشیدگی پھیل جائے گی لیکن پولیس نے سخت محنت کرتے ہوئے اِس واقعہ کا پتہ چلا لیا۔ اُنھوں نے پولیس کی ٹیم اور دونوں فرقوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے اِن سے کہاکہ پولیس کے محکمہ پر بھروسہ رکھیں۔

TOPPOPULARRECENT