Sunday , September 24 2017
Home / مضامین / ہندو قوم پرستی یا ہندوستانی قوم پرستی ؟

ہندو قوم پرستی یا ہندوستانی قوم پرستی ؟

غضنفر علی خان
قوم پرستی بنیادی طور پر ہر انسان میں ودیعت کیا ہوا جذبہ ہے  ۔اس جذبہ کو سماج کے کسی گروہ میں پیدا کرنے (زبردستی) کی ہر کوشش کا وہی حشر ہوتا ہے جو آر ایس ایس کے مجوزہ نعرے ’’بھارت ماتا کی جئے‘‘ کا ہوا ہے ۔ ہر کسی کو اپنے وطن سے محبت ہوتی ہے ۔ یہ ایک فطری جذبہ ہے ۔ اس کو کسی سماجی میکانزم یا سوشیل انجینئرنگ سے پیدا نہیں کیا جاسکتا ۔ آر ایس ایس کے اشاروں پر کام کرنے والی بھارتیہ جنتا پارٹی اس نعرے کو لے کر ملک میں ایک نئی اور لاحاصل بحث چھیڑ دی ہے ۔ بی جے پی کا ملک کی تحریک آزادی میں کوئی حصہ نہیں تھا ، اس سے سب ہی واقف ہیں ، لیکن اس سچائی سے کم از کم آج کی نوجوان نسل واقف نہیں ہے کہ جد وجہد آزادی میں یہی بی جے پی کے لیڈروں نے یہی آر ایس ایس کے قائدین نے انگریزوں کی غلامی قبول کرلی تھی ۔ کئی ایک نے روپوشی اختیار کرلی تھی ۔ کچھ اور نے پردے کے پیچھے رہ کر انگریز حکمرانوں کے ایوان اقتدار میں دبکی نامہ داخل کیا تھا کیونکہ یہ لوگ تحریک آزادی کے مجاہدین کی طرح انگریزوں کے ظلم و ستم کو ان کی اذیتوں کو برداشت نہیں کرسکتے تھے ۔ مجاہدین آزادی اس وقت بھی ’’انقلاب زندہ باد‘‘ جے ہند اور ہندوستانی چھوڑ دو کے نعرے لگارہے تھے ۔ کسی اور نے نہیں آزادی کے قابل احترام لیڈر سبھاش چندر بوس نے یہ کہتے ہوئے آزادی کا نعرہ لگایا تھا کہ ’تم مجھے خون دو میں تمہیں آزادی دوں گا‘‘ ۔ سبھاش چندر بوس یا ان کے ماننے والوں نے کبھی انگریزوں سے ساز باز نہیں کیا تھا ۔ کبھی ان کی (سبھاش چندر بوس) بنائی ہوئی انڈین آرمی نے کسی انگریز حکمران کے آگے سرتسلیم خم نہیں کیا تھا ۔ سبھاش چندر بوس ہی نے ہندوستانیوں کو ’’جے ہند‘‘ کا نعرہ دیا تھا جو بعد میں بدلی ہوئی شکل ’’میرا بھارت مہان‘‘ اختیار کرگیا ۔ کبھی قومی رہنما گاندھی جی نے جو انگریزوں کے سخت دشمن اور ہندوستان کے سب سے بڑے دوست تھے ’’بھارت ماتا کی جئے‘‘ کا نعرہ نہیں لگایا تھا ۔

پنڈت جواہر لال نہرو کے علاوہ ملک کے تمام وزرائے اعظم نے یوم آزادی کے موقع پر تاریخی لال قلعہ کی فصیل پر قومی پرچم بلند کرنے کے بعد ’’جے ہند‘‘ ہی کا نعرہ لگایا ۔ اس نعرے سے بڑھ کر وطن پرستی  کے جذبہ کا اور کیا اظہار ہوسکتا ہے ۔ اس فضول بحث کے دوران یہ سوال بھی ابھر آیا ہے کہ کیوں آج بی جے پی کو بھارت ماتا یاد آئی ۔ ماتا یا ماں تو وہ دولت ہوتی ہے جس کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔ بی جے پی نے ثابت کردیا وطن سے اسکی محبت بھی مصلحتوں کی تابع ہے ۔ ممتا کسی غرض کی پابند نہیں ہوتی وہ تو ہر وقت ہر دور میں باقی رہتی ہے ۔ تختہ دار پر بھی وطن سے محبت کرنے والے مجاہدین ہندوستان زندہ باد ، جئے ہند کے نعرے لگاتے مجاہدین آزادی ، مادر وطن کی محبت کسی مخصوص حالات میں نہیں ہوئی ۔ آج اچانک بی جے پی کو وطن کی مٹی ، وطن کی یاد ، اسکی ممتا کی یاد ستارہی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ملک کی پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ بی جے پی کے پاس ملک کے عوام کو بہکانے یا بہلانے کے لئے نہ تو کوئی کارگر نعرہ رہا اور نہ وزیراعظم نریندر مودی کی عوامی مقبولیت باقی رہی ۔ مودی حکومت کا دامن خالی ہے وہ اپنے کمزور ہاتھوں سے مادر وطن کا دامن تھام کر ووٹ کی بھیک مانگ رہی ہے ۔ بھارت ماتا کی جئے نعرہ اس کی دانست میں پارٹی کے لئے ووٹ حاصل کرسکتا ہے لیکن ملک کے عوام بی جے پی حکومت اور نریندر مودی ووٹوں سے مایوس ہوچکے ہیں ۔ اب قوم پرستی کا کارڈ کھیل کر بی جے پی یہ سمجھ رہی ہے کہ وہ مجوزہ اسمبلی چناؤ میں کامیاب ہوجائے گی ۔ ایک بات بہت کم لوگ سمجھ رہے ہیں کہ بھارت ماتا کی جئے کا نعرہ قوم پرستی کی علامت نہیں ہے ۔اب جبکہ مودی کا Charishma ختم ہوچکا ہے اس لئے قوم پرستی یا نیشنلزم سے بی جے پی اور سنگھ پریوار کیا مراد رکھتے ہیں اگر نیشنلزم یا قوم پرستی مادر وطن ہندوستان سے محبت اور اس کے لئے جان ومال کی قربانی دینا ہے (اگر ضرورت پڑے تو) تو پھر 125 کروڑ ہندوستانی باشندوں میں سے کسی ایک کی وطن پرستی پر شک کرنے کا بی جے پی ، آر ایس ایس یا سارے سنگھ پریوار کو کوئی حق نہیں ہے ۔ لیکن اگر قوم پرستی سے مطلب ’’ہندو قوم پرستی‘‘ ہے جس کی خود وزیراعظم مودی نے تشریح کی تھی ہندو قوم کو سارے ہندوستان سے عظیم تر سمجھنا ہے تو اس کو کوئی تسلیم نہیں کرے گا ۔قارئین کو یاد ہوگا کہ تقریباً دو سال پہلے وزیراعظم نے مشہور خبررساں ایجنسی رائٹر کی ایک ٹیم کو انٹرویو کے دوران خود اعتراف کیا تھا کہ ’’وہ ہندو نیشنلسٹ لیڈر ہیں‘‘ ۔ اس انٹرویو میں انھوں نے گجرات کے مسلم کش فسادات میں شہید ہونے والے مسلمانوں کی ’’کتے کے بچوں‘‘ سے مثال دی تھی ۔ اگر قوم پرستی یا نیشنلزم کا مطلب یہ ہے کہ ملک میں کسی ایک ہی دھرم کا بول بالا رہے اسی کا غلبہ رہے تو ملک کے عوام ایسی قوم پرستی کو قبول نہیں کریں گے ۔

جس کی تازہ مثال شرومنی اکالی دل (امرتسر) کے صدر سمرنجیت سنگھ مان نے دی ہے ، صاف طور پر کہا کہ ’’سکھ برادری بھارت ماتا کی جئے یا وندے ماترم نہیں کہہ سکتی‘‘۔ انھوں نے اسکی دلیل بھی پیش کی کہ سکھ دھرم میں کسی بھی شکل میں خواتین کی پوجا یا پرستش نہیں کی جاسکتی ہے ۔ سکھوں کی مذہبی روایات کے مطابق مذہبی اقلیت ’’واہے گروجی کا خالصہ واہے گروجی کی فتح‘‘ کی ہی تائید کرتے ہیں ۔ ہندو نیشنلزم جس کے ٹھیکیدار آر ایس ایس اور سنگھ پریوار بنا ہواہے لیکن ان حالات میں سکھ برادری کو بھی ملک کا وفادار نہیں سمجھے گی ۔ کیا انتہا پسند عناصر یہ فراموش کرسکتے ہیں کہ سکھوں نے ملک کی بے پناہ خدمت انجام دی ۔ فوج میں اعلی مناصب پر فائز ہیں ، اعلی ترین سیاسی عہدوں کو بھی سکھوں نے رونق بخشی ہے ۔ کسی بھی ہندوستانی سماجی گروہ کو کسی بھی مذہبی ، لسانی یا ثقافتی اقلیت کو اس کے عقیدہ کے خلاف نعرہ لگانے پر مجبور نہیں کیاجاسکتا اور اس کی کوئی ضرورت بھی نہیں ہے کیونکہ ملک کی تمام اقلیتیں بشمول مسلم اقلیت مادر وطن ہندوستان سے محبت کرتی ہیں ۔ وقت پڑنے پر مسلمانوں نے اپنی جانوں کی قربانی دے کر وطن کی حفاظت کی ہے ۔تحریک آزادی میں تو مسلمانوں کی خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔ اس وقت جبکہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے لیڈر انگریزوں کے پاس جاکر اپنی وفاداریوں کی قسمیں کھارہے تھے ۔ تحریراً انگریزوں سے وعدہ کررہے تھے کہ وہ ملک کی آزادی کی تحریک میں حصہ نہیں لیں گے اس وقت ملک کے مسلمان اور خاص طور پر علماء پھانسی کے پھندے اپنے گلوں میں ڈال کر مادر وطن پر قربان ہورہے تھے ۔ یہ کوئی fiction نہیں بلکہ ہماری عصری تاریخ کے سچے واقعات ہیں ۔ بھارت ماتا کی جئے زبان سے کہنا اور بات ہے لیکن مادر وطن کے لئے اپنی جان عزیز اپنی متاع بے بہا لٹادینا ایک علحدہ بات ہے ۔ دونوں میں فرق یہ ہے کہ اور طبقات کی طرح مسلمانوں نے ملک کی آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ وہ اس جد وجہد میں کسی سے پیچھے نہیں تھے اور نہ آج ہیں ۔ فرق یہ ہے کہ بھارت ماتا کی جئے کا نعرہ لگانے پر اصرار کرنے والے صرف اپنی ’’نوک زبان‘‘ سے یہ نعرہ لگاتے ہیں جبکہ وطن سے حقیقی محبت رکھنے والے تمام ہندوستانی بشمول مسلمان دل وجان سے یقین رکھتے ہیں کہ یہ ہمارا ملک ہے اور اس کی حفاظت ہمارا فرض ہے ۔ ہم خود کو قربان کرسکتے ہیں لیکن اپنے وطن کی آبرو سے کوئی کھلواڑ کرے اس کو ہم برداشت نہیں کرسکتے ۔ تمام طبقات ہندوستانی قوم پرستی Nationalism سے سرشار ہیں لیکن بی جے پی اور آر ایس ایس صرف ہندو نیشنلزم ہی کو قوم پرستی سمجھتی ہے جو سب کے لئے ناقابل قبول ہے ۔

TOPPOPULARRECENT