Friday , September 22 2017
Home / ہندوستان / ہندو لڑکیوں کے تبدیلی مذہب پر انتقام

ہندو لڑکیوں کے تبدیلی مذہب پر انتقام

مسلم شخص کے قتل پر 2افراد کے خلاف عمر قید کی سزا برقرار
نئی دہلی۔/20اکٹوبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) سپریم کورٹ نے تملناڈو کے ضلع کوئمبتور میں دو ہندو لڑکیوں کو مسلم بناکر شادی کرنے والے مسلم شخص کے قتل کے الزام میں  2افراد کے خلاف عمر قید کی سزا کو برقرار رکھا ہے۔ جسٹس ایف ایم آئی خلیفۃ اللہ اور جسٹس اومیش للت پر مشتمل بنچ نے سال 2002ء میں ایک مسلمان سلطان میراں کو چاقو گھونپ کر ماردینے پر کمل اور وشواناتھن کے خلاف مدراس ہائی کورٹ کے سزائے عمر قید کے فیصلہ کو برقرار رکھا ہے۔ سپریم کورٹ بنچ کا کہنا تھا کہ ہمارے نقطہ نظر میں کیس غیر ارادی قتل کا نہیں ہے بلکہ مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کیلئے منصوبہ بند طریقہ سے سلطان کو ہلاک کردیا گیا لہٰذا زیریں عدالت کو یہ اختیار ہے کہ ملزمین کو سخت سزا دے۔ عدالت العالیہ نے مدراس ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف ملزمین کی عرضیوں پر سماعت کے بعد یہ تاثرات پیش کئے جس نے ٹرائیل کورٹ میں دی گئی عمر قید کی سزا کی توثیق کی۔ٹرائیل کورٹ نے سال 2003میں قانون تعزیرات ہند کے دفعہ 302( قتل ) کے تحت ملزمین کو سزائے عمر قید با مشقت کے ساتھ 10ہزار روپئے کا جرمانہ عائد کیا تھا جبکہ استغاثہ کے اس نظریہ سے اتفاق کیا کہ قتل کے پس پردہ تبدیلی مذہب کار فرما تھا۔ ملزمین نے سلطان کو یہ دھمکی دی تھی کہ اس کی تبدیلی مذہب کی مہم سے ہندو مذہب کو خطرہ پیدا ہوگیا ہے اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو اسے پھر اپنی جان کی حفاظت کرلینی چاہیئے۔ اس دھمکی کے ایک ماہ بعد سلطان نے ایک اور ہندو لڑکی کو مسلمان بناکر شادی کرلی تھی جس پر برہم ہو کر کمل اور اس کے دوست وشواناتھن نے سلطان کو ایک اسنوکر کلب کے باہر چاقو گھونپ کر ہلاک کردیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT