Saturday , September 23 2017
Home / ہندوستان / ہندو لڑکی کے ساتھ نظر آنے پرمسلم نوجوان کو برہنہ کر کے زد و کوب

ہندو لڑکی کے ساتھ نظر آنے پرمسلم نوجوان کو برہنہ کر کے زد و کوب

منگلورو ۔ 25 ۔ اگست (سیاست ڈاٹ کام) ایک مسلم نوجوان کو برہنہ کرکے برقی پول سے باندھ کر برسر عام زد و کوب کیا گیا۔ دائیں بازو سے وابستہ گروپس نے یہ کارروائی محض اس لئے کی کہ وہ شخص ہندو لڑکی کی مدد کر رہا تھا۔ پولیس نے بتایا کہ واقعہ کل رات عطاور میں پیش آیا جہاں 28 سالہ شاکر کو برہنہ کر کے بری طرح زد و کوب کیا گیا اور پھر ہجوم نے اسے برقی کھمبے سے باندھ دیا۔ ہجوم کا کہنا تھا کہ وہ ایک لڑکی کے ساتھ کار میں مو جود تھا۔ شاکر جو کلور کا ساکن ہے، اور یہ لڑکی دونوں ایک ہی سپر مارکٹ میں کام کرتے ہیں۔ سوشیل میڈیا پر اس واقعہ کے بارے میں تصاویر تیزی سے پھیلنے اور مقامی چیانلس پر اس خبر کو نمایاں طور پر پیش کرنے کے ساتھ ہی پولیس اس مقام پر پہنچ گئی اور شاکر کو ہاسپٹل منتقل کیا گیا۔ منگلورو سٹی پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے 15 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ شاکر نے دعویٰ کیا کہ اس لڑ کی نے اس سے رقم طلب کی تھی

 

اور جب وہ نقد دینے کیلئے جارہا تھا ، اس پر حملہ کردیا گیا ۔ ابتداء میں اسے دو افراد نے زد و کوب شروع کی اور دیکھتے ہی دیکھتے گروپ جمع ہوگیا۔ تاہم اس لڑکی نے ویمنس پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کراتے ہوئے کہا کہ اسے ہراساں اور بلیک میل کیا جارہا تھا۔ اس لڑکی نے متضاد موقف اختیار کرتے ہوئے سارے واقعہ کو ایک الگ شکل دیدی اور کہا کہ شاکر نے زبردستی اسے اپنی کار میں کھینچنے کی کوشش کی تھی۔ اس لڑکی نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ شاکر جو اس کے ساتھ سپر مارکٹ میں کام کرتا ہے، گزشتہ چند ماہ سے فون پر میسیجس بھیجا کرتا تھا ، اس نے کئی مرتبہ بدسلوکی بھی کی۔ اس نے بتایا کہ شاکر یہ کہتے ہوئے بلیک میل کر رہا تھا کہ ویڈیو کلپ موجود ہے جس میں وہ اس کی کار میں بیٹھی ہوئی ہے۔ کرناٹک اور بالخصوص ضلع دکشن کنڑا میں عوام کے مختلف گروپس کی جانب سے قانون کو نظرانداز کرتے ہوئے اس طرح کے واقعات میں اضافہ پر تشویش بڑھ گئی ہے۔ لوگ عام طور پر خود پولیس کا رول ادا کر رہے ہیں اور برسر عام قانون کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT