Wednesday , August 23 2017
Home / شہر کی خبریں / ہندو مذہب کی کتابوں میں نبی کریمؐ آخری الزماں کی آمد کا ذکر خیر

ہندو مذہب کی کتابوں میں نبی کریمؐ آخری الزماں کی آمد کا ذکر خیر

کل ہند مجلس تعمیر ملت کا جلسہ رحمتہ للعالمینؐ ، جگدیش چندر ، خالد المعینا اور دیگر کے خطابات
حیدرآباد ۔ 25 ۔ دسمبر : ( دکن نیوز ) : جگدیش چندر ( آئی اے ایس ) موظف ڈائرکٹر ای ٹی وی نے کہا کہ ہندو مذہب کی کتابوں میں نبی کریم ؐ آخری الزماں کی آمد کا ذکر خیر موجود ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بے پناہ صلاحیتیں دے کر اس دنیا میں روانہ کیا ۔ جس کی وجہ سے آپؐ ایک دوسرے کے مذاہب ، انسانیت ، خیر خواہی میں دلچسپی لیتے اور ایسے ایسے کام اپنے ہاتھوں سے انجام دیتے کہ ان کے دل پگھل جاتے ۔ اس لیے مسلمانوں پر جو ذمہ داری رب کائنات نے ڈالی ہے کہ قرآن کے پیغام کو عام کریں چاہے ایک ہی آیت کیوں نہ ہو بڑی اہم بات ہے ۔ آج وقت کا تقاضہ ہے کہ اس کتاب قرآن مجید کا مطالعہ کیا جائے ۔ اس لیے کہ حالات کیسے ہی کیوں نہ ہو ۔ قرآن جیسی عظیم المرتبت کتاب کے اصولوں پر چل کر ہی سیکولر اقدار کی بقاء ، ترقی اور دہشت گردی کے خاتمہ میں کردار ادا کیا جاسکتا ہے ۔ یہ وہ عظیم المرتبت اور طاقتور کتاب ہے جس میں ہر مسئلہ کا حل موجود ہے ۔ ان خیالات کا اظہار جگدیش چندر ’ ہندوستانی معاشرہ کی تعمیر میں مسلمانوں کا حصہ ‘ کے موضوع پر 66 ویں یوم رحمتہ للعالمینؐ سے کیا ۔ جو کل ہند مجلس تعمیر ملت کے زیر اہتمام 12 ربیع الاول کو نظام کالج گراونڈ پر منعقد ہوا ۔ محمد عبدالرحیم قریشی صدر کل ہند مجلس تعمیر ملت نے نگرانی کی ۔ قاری محمد عظیم الدین کی قرات کلام پاک اور تشکیل انور رزاقی کی نعت سے جلسہ کا آغاز ہوا ۔ اس کے علاوہ سید تجمل حسین ، قاری شاہ نواز ہاشمی ، قاری محمد انیس نے نعت شریف سنانے کی سعادت حاصل کی ۔ مہمان مقرر جگدیش چندر نے سیرت سرور عالمؐ کی حیات طیبہ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آپ کی تعلیمات میں علم کو بڑی اہمیت دی گئی ۔ اس لیے مسلمانان ہند جہاں بھی رہے اپنی زبان اردو کے فروغ میں کام کیا اور وہ اپنی تہذیب کو پروان چڑھاتے ہوئے اس ملک میں صدیوں سے سیکولر ڈھانچے کی بقاء میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔ خالد المعینا سابق چیف ایڈیٹر عرب نیوز نے ’ موجودہ بحران کا حل تعلیمات اسلامی کی روشنی میں ‘ کے موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے انگریزی زبان اور زبان اردو میں تقریر کی اور کہا کہ حضرت محمد مصطفیؐ کو اللہ نے رحمتہ للعالمینﷺ بنا کر مبعوث کیا ۔ اس سے یہ حقیقت عیاں ہوگئی کہ آپ صرف مسلمانوں کے نبی و رسول نہیں ہے بلکہ اس کائنات کے ذرہ ذرہ کے نبی و رسولؐ ہیں ۔ آپ کی تعلیمات کو اپنانا ہے اور اس کو دوسروں تک پہنچانا بھی ہے تو انہیں حجتہ الوداع کے خطبہ کو ضرور ذہن میں رکھنا ہوگا ۔ امین و صادق کے لقب سے عرب کے سماج و معاشرہ میں یاد کیے جانے والے اس رسولؐ نے دنیا کے کونے کونے میں وحدانیت اور رسالتؐ ، آخرت کے درس کو پہنچانے میں کوئی کسر باقی نہ رکھا ۔ آپؐ نے یتیم ، یسیر ، محتاج ، غریبوں ، مسکینوں کے ساتھ مساویانہ سلوک برتاؤ کیا یہاں تک کہ آپؐ نے دشمن کو بھی معاف کر کے ایک مثال قائم کی ہے ۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے ’ موجودہ حالات میں مسلم نوجوانوں کی ذمہ داری سیرت طیبہ کی روشنی میں ‘ کے موضوع پر کہا کہ آپؐ کو رب کائنات نے نبوت کے عظیم منصب پر سرفراز فرمایا اور آپؐ نے توحید کی صدا لگائی تو اس وقت نوجوانوں کی بڑی تعداد نے آپؐ کا ساتھ دینے کا اعلان کیا جن کی عمریں 18 تا 27 سال کے درمیان تھیں اور آپؐ نے ان نوجوانوں کو لے کر ڈھارس بندھائی اور انہیں اللہ کے انعام و کرام جو روز قیامت دئیے جانے والے ہیں واقف کروایا ۔ انہوں نے کہا کہ آج کئی نوجوان روزگار کی تلاش میں تو ہیں لیکن وہ محنت ، تعلیم کی طرف راغب نہیں ہورہے ہیں انہیں چاہئے کہ وہ دوسروں کا سہارا بننے کے لیے اپنے میں محنت ، خود داری ، وقت کی پابندی پیدا کریں ۔ نوجوانوں کو چاہئے کہ جو بھی مصیبتیں آئیں ان پر صبر کریں ، مشتعل نہ ہو ۔ دعوت دین دراصل ہمارا اولین ہدف ہونا چاہئے ۔ اس سے مسائل ختم ہوتے ہیں اور انسانیت فیض حاصل کرسکتی ہے ۔ جناب عبدالرحیم قریشی صدر کل ہند مجلس تعمیر ملت و اسسٹنٹ جنرل سکریٹری کے ہاتھوں ساوینر کی رسم اجرائی عمل میں آئی ۔ انہوں نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ اسلام اور نبی کریم ؐ نے عمل کے ذریعہ جو نیکی کا تصور پیش کیا وہ رہتی دنیا تک کے لیے مشعل راہ ہے ۔ اگر مسلمان نبی کریم ؐ کے عمل کے ایک ایک نمونے کو واقف کروانے کا فیصلہ کریں گے تو اس دنیا میں امن و امان ، عدل ، روا داری قائم ہوگی اور یہ دنیا تناؤ سے دور ہوگی ۔ ڈاکٹر محمد متین الدین قادری ، ضیا الدین نیر نائب صدر اقبال اکیڈیمی ، ڈاکٹر سراج الرحمن نے بھی مخاطب کیا ۔ عمر احمد شفیق نے کارروائی چلائی ۔۔

TOPPOPULARRECENT