Sunday , August 20 2017
Home / شہر کی خبریں / ہندو میریج ایکٹ کے تحت طلاق کاکوئی چرچا نہیں

ہندو میریج ایکٹ کے تحت طلاق کاکوئی چرچا نہیں

مسلم طلاق پر واویلا مچانے والا میڈیا بھی خاموش، عدالت کے ذریعہ ایک جوڑے کی علیحدگی
حیدرآباد۔3مئی (سیاست نیوز) مسلم لڑکی کو واٹس اپ پر طلاق دی جائے تو قومی میڈیا کی خبرو ںمیں اسے انتہائی اہم مقام حال ہونے لگا ہے اور یہ الزام عائد کیا جانے لگا ہے کہ عصری سہولتوں کا استعمال کرتے ہوئے رشتوں کو یکلخت توڑا جانے لگا ہے۔ حالیہ عرصہ میں واٹس اپ پر طلاق‘ پوسٹ کارڈ کے ذریعہ طلاق‘ اخبار میں اشتہار کے ذریعہ طلاق جیسے امور ذرائع ابلاغ کی اہم خبروں میں تھیں لیکن مہارشٹرا میں عدالت نے ایک جوڑے کی ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ علحدگی کروائی لیکن شائد یہ خبر قومی ذرائع ابلاغ کی نظر سے نہیں گذری یا پھر علحدگی اختیار کرنے والے جوڑے نے ہندو میریج ایکٹ 1955 کے تحت شادی کی تھی اور اسی کے تحت علحدگی اختیار کی ہے اسی لئے اس خبر کو نمایاں مقام نہیں دیا گیا جبکہ اس مقدمہ میں عدالت نے ایک فریق کے موقف کی سماعت Skype نامی سافٹ وئیر کے ذریعہ کی جبکہ دوسرا فریق عدالت میں موجود تھا۔ مہاراشٹر ا کی عدالت میں ہوئی اس علحدگی میں دونوں فریقین ‘ عدالت اور Skypeکا اہم رول رہا ۔بتایا جاتا ہے کہ اگسٹ 2016میں اس جوڑے نے علحدگی کے لئے درخواست داخل کی تھی اور اس انجنیئر جوڑے نے لو میریج کے بعد پونے میں سکونت اختیار کی تھی اور فی الحال وہ سنگاپورمیں قیام پذیر ہیں لیکن ہفتہ کو عدالت کی سماعت کے پیش نظر شوہر سنگاپور سے ہندستان پہنچے جبکہ علحدگی اختیار کرنے والی بیوی پیشگی مصروفیات کے سبب واپس ہو گئیں جس کے سبب وکیل کی درخواست پر عدالت نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ فریق ثانی کو عدالت میں رکھنے کا فیصلہ کیا اور دونوں فریقین کے موقف کی سماعت کے بعد ویڈیوکانفرنس کو جاری رکھتے ہوئے جوڑے میں علحدگی کروادی۔ علحدگی اختیار کرنے والے اس جوڑے کے متعلق بتایا جاتا ہے کہ 26سالہ خاتون کا تعلق کا مہاراشٹرا کے امراوتی سے ہے جبکہ 28سالہ مرد کا تعلق ریاست مہاراشٹرا کے ہی ناگپور علاقہ سے ہے دونوں نے لو میریج کی تھی ۔

بعد ازاں دونوں ہی بیرون ملک منتقل ہو گئے اور ہندو میریج ایکٹ کے تحت کی گئی اپنی اس شادی کو ختم کروانے کے لئے عدالت سے رجوع ہوئے تھے جسے عدالت نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ فریق کی موجودگی میں ختم کروادیا اورکہا کہ دونوں کا ساتھ میں زندگی گذارنا دشوار ہے اسی لئے اس شادی کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT