Sunday , September 24 2017
Home / مضامین / ہندو ووٹ بینک کیلئے بھوپال انکاؤنٹر

ہندو ووٹ بینک کیلئے بھوپال انکاؤنٹر

ظفر آغا

کیا اب ہندوستانی مسلمان کا خون پانی سے بھی کم قیمت کا ہوچکا ہے؟ ۔ بھوپال انکاؤنٹر کی داستان کم از کم اس بات کی نشاندہی کررہی ہے کہ مسلم خون کی قیمت اب پانی سے بھی کم ہے۔ یوں تو یہ داستان آزادی کے بعد سے اب تک مسلسل رواں دواں ہے لیکن بابری مسجد سانحہ سے اب تک حکمرانوں کا یہ دستور ہوچکا ہے کہ چناؤ جیتنے کیلئے جب چاہو مسلمانوں کا قتل  و خون اور غارت گری کرو اور اقتدار پر قبضہ کرو ۔ بھوپال انکاؤنٹر کی آڑ میں جو کچھ ہوا وہ بھی اسی داستان کی ایک کڑی ہے جس کا مقصد دراصل چناؤ کے وقت ملک میں ایک منظم ہندو ووٹ بینک بنانا ہوتا ہے، اور یہ حکمت عملی آج سے نہیں بابری مسجد ۔ رام مندر تنازعہ کے وقت سے جاری ہے۔
ذرا ملاحظہ فرمائیے کہ 1990 میں جب اس وقت کے وزیر اعظم وی پی سنگھ نے ملک میں منڈل سفارشات نافذ کرکے سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں 27فیصد ریزرویشن نافذ کیا تو ان حالات میں کیا ہوا تھا۔ آپ سبھی اس بات سے واقف ہیں کہ منڈل ریزرویشن کے بعد ہندو سماج میں ذات کی بنیاد پر دراڑ پڑ گئی تھی۔ ہندو سماج اور ملک کی سیاست اعلیٰ ذات اور پسماندہ ذاتوں کے درمیان بٹ گئی تھی۔ منڈل انقلاب سے پسماندہ ذاتوں میں یکایک یہ احساس جاگ اُٹھا تھا کہ آبادی کے اعتبار سے کثیر تعداد میں ہونے کے باوجود ایک جمہوری نظام میں بھی اقتدار پر قبضہ مٹھی بھر اعلیٰ ذاتوں کا ہے۔ اس احساس کے بیدار ہوتے ہی پسماندہ ذاتوں بالخصوص شمالی ہندوستان میں یو پی اور بہار جیسی اہم ریاستوں لالو یا پرساددو ، ملائم سنگھ یادو اور کانشی رام جیسے لیڈروں کے پرچم تلے ریاستی پارٹیاں پلیٹ فارم پر اکٹھا ہوگئیں اور تب سے یعنی 1990 سے لیکر آج تک اتر پردیش اور بہار میں اعلیٰ ذاتیں پسماندہ ذاتوں اور لیڈروں کے ہاتھوں سے بھی اقتدار نہیں چھین سکی ہیں۔
یہ ایک ایسا موڑ تھا جس میں محض ایک سیاسی تبدیلی ہی نہیں بلکہ ہندوسماج کی تاریخ میں ایک اہم سماجی اور مذہبی انقلاب بھی تھا کیونکہ ہندو مذہب اور ہندو سماج دونوںہی ’ ورن دیوستھا‘ یعنی ذات کی بنیاد پر قائم ہیں۔ اس ’ ورن دیوستھا ‘ کے نظام میں اعلیٰ ذاتوں کو پسماندہ ذاتوں پر مذہبی اور سماجی اور اس کے سبب سیاسی سبقت حاصل ہے۔ اگر کسی سبب اس ورن دیوستھا میں اُلٹ پھیر ہوجائے تو محض ہندو سیاست و سماج میں ہی خلفشار پیدانہیں ہوگا بلکہ اس کے اثرات ہندو مذہب پر بھی پڑنے کے واضح امکانات ہوسکتے ہیں۔ اس پس منظر میں منڈل سیاست نے محض ہندو سماج اور ہندو سیاست میں نہیں بلکہ ہندو مدہب کے لئے بھی ایک بڑا چیلنج پیدا کردیا تھا اور وہ چیلنج یہ تھا کہ ہندو اعلیٰ ذات کی سبقت پسماندہ ذاتوں کے دباؤ اور خطرہ میں پڑ گئی تھی۔ ہندو مذہبی سیاست اور سماج کو اتنا گہرا چیلنج غالباً گوتم بدھ کے عروج کے بعد پہلی بار ہوا تھا اور یہ کوئی معمولی چیلنج نہیں تھا۔
اب ہندو سماج کے سربراہوں کے سامنے یہ مسئلہ تھا کہ آخر منڈل سیاست سے پیدا ہونے والے خطرہ سے کس طرح نمٹا جائے؟ ۔ انہوں نے اس کا جواز صدیوں پرانے سیاسی نسخہ’’ لڑاؤ اور حکومت کرو ‘‘ حکمت عملی میں تلاش کیا۔ آخر یہ کام کس طرح ہوا؟ ہندو سماج میں ذات کی بنیاد پر پیدا ہونے والی دراڑ کو ختم کرنے کا جو ذریعہ تلاش کیا گیا وہ یہ تھا کہ کسی طرح ہندو سماج سے باہر ہندوؤں کا دشمن اور اس دشمن کا خوف پیدا کردو تاکہ ہندو آپسی اختلافات بھول کر اس دشمن کے خلاف متحد ہوجائیں۔ اب وہ دشمن کہاں سے پیدا کیا جاتا، تو یہ کام ہندوستان میں مسلمان کے ہوتے ہوئے بہت آسان تھا۔ یعنی ہندو سماج پر مسلم خوف طاری کرو اور ہندوؤں کو متحد کرو تاکہ ایک متحد ہندو ووٹ بینک بن سکے جو بی جے پی کو اپنا ’ انگ رکھشک ‘ یعنی اپنا محافظ محسوس کرکے اسی کو ووٹ ڈالے۔
1990 کی دہائی سے اب تک سیکولر پارٹیوں کو مسلم ووٹ بینک کاطعنہ دینے والی بھارتیہ جنتا پارٹی اسی ہندوووٹ بینک کی سیاست کرتی چلی آرہی ہے۔ منڈل انقلاب کے فوراً بعد اس حکمت عملی نے رام مندر اور بابری مسجد کا روپ لیا۔ یعنی رام مندر کی علامت کا مقصد ذات توڑ کر پورے ہندو سماج کو بھگوان رام کے نام پر اکٹھا کرنا تھا۔ لیکن سوال یہ تھا کہ آخر ہندو اپنی ذات بھول کر ہندو کیسے بن جائے، اس کے لئے بابری مسجد کی علامت بطور مسلم دشمن کے پیدا کی گئی۔ بابری مسجد ایکشن کمیٹی نے اس تنازعہ میں بابری مسجد تحفظ کے نام پر جو سیاست کی اس نے ہندوؤں کو اپنی ذات بھول کر غصہ میں بابری مسجد کے خلاف یعنی مسلمان کے خلاف بطور ہندو ووٹ بینک بی جے پی کے پرچم تلے اکٹھا کردیا۔ نتیجہ یہ ہو ا کہ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی جو کبھی ہندوستانی لوک سبھا میں دو سیٹوں کی پارٹی ہوتی تھی وہی بی جے پی رام مندر کے پرچم تلے ہندوووٹ بینک کی بنیاد پر 80 سے زیادہ سیٹوں والی پارٹی ہوگئی اور بس اس کامیابی نے بی جے پی کو ہندو ووٹ بینک کا چسکہ لگادیا تب سے آج تک بی جے پی بنیادی طور پر ہندو ووٹ بینک کی ہی سیاست کررہی ہے۔ اس سیاست کا مقصد ہندو مسلم تنازعہ پیدا کرکے ہندوؤں کے ذہنوں میں مسلم خوف پیدا کرکے ہندوؤں کو بطور ایک ہندو ووٹ بینک بی جے پی کے پرچم تلے اکٹھا کرنا ہوتا ہے اور یہ کام کبھی بابری مسجد تو کبھی مسلم دہشت گردی کا ہوّا کھڑا کیا جاتا ہے۔
بھوپال میں جو انکاؤنٹر ہوئے ان کا مقصد بھی یہی تھا اور جس قسم کے بیانات آئے ان سے واضح تھا کہ انکاؤنٹر ایک سیاست ہے جس میں مسلم دہشت گردی کا ہوّا کھڑا کیا جارہا یہ۔ پھر ان دہشت گردوں کو بی جے پی حکومت مار کرہندوؤں کی انگ رکھشک کے طور پر خود کو پیش کررہی ہے۔ یہ وہی حکمت عملی ہے جو عشرت جہاں اور کوثر بی کی آڑ میں گجرات میں استعمال کی جاچکی تھی اور اسی حکمت عملی کے تحت گجرات بی جے پی گودھرا المیہ کے وقت سے حال تک ہندو انگ رکھشک کے روپ میں گجرات میں حکومت کرتی چلی آرہی ہے۔ بھوپال میں یہ کھیل کم از کم ابھی کچھ کھلتا نظر آرہا ہے اس لئے اب یا تو یہ سازش ناکام ہوسکتی ہے یا پھر حکومت اس ہندو ووٹ بینک سیاست کو اور مستحکم کرنے کیلئے اور نت نئے کارنامے بپا کرسکتی ہے۔
بہر حال یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گاکہ بھوپال اور ہندوستان کے دوسرے علاقوں میں ہندو ووٹ بینک سیاست اب کونسا نیا روپ لیتی ہے جس کی ایک بات طئے ہے کہ منڈل انقلاب کے وقت سے ہندوستانی سیاست کا خود ہندو کو اس کی ذات بھلاکر بطور ہندو اکٹھا کرنا ہوچکاہے۔ اس حکمت عملی کو کامیاب کرنے کیلئے مسلم دشمن فیکٹر لازمی ہے۔ اس لئے اس ملک میں جب تک ہندو ووٹ بینک سیاست کامیاب ہے تب تک مسلم خون کی قیمت پانی سے کم ہی رہے گی اور ابھی نہ جانے کتنے نت نئے گجرات اور بھوپال ہوتے رہیں گے۔اس سے بچنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے جو بہار میں کامیاب ہوا۔ یعنی سیکولر ووٹ اکٹھا کیا جائے اور ہندو کو دھرم کی بجائے اس کی ذات یاد دلائی جائے، یہ کام صرف سماجی انصاف کے پرچم تلے ہی ہوسکتا ہے۔ لیکن کانگریس اور کمیونسٹ پارٹیاں دونوں ہی سماجی انصاف کا پرچم بلند کرنے کو تیار نہیں ہیں اس لئے ابھی آنے والے وقتوں میں بی جے پی کی ہندوووٹ بینک سیاست کو کوئی بڑا خطرہ لاحق نظر نہیں آتا۔اس لئے اور بہت سے نئے بھوپال کے لئے تیار رہیئے کیونکہ یہی حکمت عملی بی جے پی کو ہندوو وٹ بینک میں پروتی رہے گی اور اس طرح بی جے پی کو کامیاب بھی کرتی رہے گی۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT