Thursday , May 25 2017
Home / مضامین / ہند۔بحرین تعلقات ہمیشہ خوشگوار

ہند۔بحرین تعلقات ہمیشہ خوشگوار

روشن بازار ، بلند عمارتیں
خوبصورت جھیلیں، سیاحوں کیلئے پرکشش
محمد نعیم وجاہت
ہندوستان اور مملکت بحرین کے تجارتی تعلقات زائداز 5 ہزار سال قدیم بتائے جاتے ہیں۔ ویسے بھی عرب ممالک سے ہندوستان میں تجارت کے لئے زمانے قدیم سے تاجروں کے وفود آیا کرتے تھے۔ وہ سمندری موتی، خشک میوے، تانبہ پیتل وغیرہ بعض دھاتیں ہندوستان لاکر فروخت کرتے اور واپسی میں ہندوستانی مصالحہ جات وغیرہ ساتھ لے جاتے۔ ہندوستان کی آزادی سے قبل بے شمار عرب قبائیل ہندوستان کے مختلف بادشاہوں کی فوجوں اور دربار میں شامل تھے۔ سلطنت آصفجاہی میں بھی عرب فوج میں شامل تھے اور حیدرآباد میں آج بھی ان عرب قبائیل کی نسلیں موجود ہیں۔ بہرحال ہم بات کررہے تھے ہندوستان اور بحرین کے تجارتی تعلقات کی۔ حال ہی میں راقم الحروف کو مملکت بحرین کے دورہ کا موقع ملا۔ دراصل بحرین میں ’’بحرین انڈیا بزنس فورم‘‘ کا اہتمام کیا گیا جس میں ہندوستان اور مملکت بحرین کے تاجرین و صنعتکاروں اور دونوں ممالک کے صنعتکاروں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ صدرنشین انڈیا عرب فرینڈشپ فاؤنڈیشن جابر پٹیل کی قیادت میں مختلف سیاسی جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ اور تاجرین و صنعتکاروں کا ایک ہندوستانی وفد بھی پہونچا۔ وفد میں شامل ارکان پارلیمنٹ میں محمد سلیم (سی پی ایم) مغربی بنگال، محمد فیصل (نیشنلسٹ کانگریس پارٹی لکشدیپ، پی گوردھن ریڈی (کانگریس) ، تلنگانہ جنرل سکریٹری انڈیا عرب فرینڈشپ فاؤنڈیشن عتیق صدیقی کے علاوہ صفدر مرزا ایڈوکیٹ، ابو پٹیل کے ساتھ دہلی اور کشمیر کے تاجرین بھی شامل تھے۔ اعلیٰ سطحی ہندوستانی وفد کا والہانہ خیرمقدم کیا گیا۔ بحرین کے شاہی خاندان کے ارکان اور اعلیٰ منصب داروں، عہدیداروں کے علاوہ بحرین میں مقیم ہندوستانی اہم شخصیتوں کی میزبانی قابل تعریف رہی ہے۔ بحرین کے ڈپٹی وزیراعظم عزت مآب شیخ خالد بن عبداللہ الخلیفہ، وزیر صنعت و سیاحت زیدین رشید الزیانی اور دیگر اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ کئی اجلاس منعقد ہوئے جس میں باہمی تعلقات، تجارتی و ثقافتی اُمور کے علاوہ دیگر اہم پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا جس میں تعلیم بالخصوص طبی و انجینئرنگ کے علاوہ دوسرے پروفیشنل کورس، ہاسپٹلس کے قیام، رئیل اسٹیٹ اور توانائی کے شعبہ میں ہندوستانی سرمایہ کاروں اور ہندوستان میں انفراسٹرکچر، توانائی، نگہداشت، صحت اور مینو فیکچرنگ شعبہ میں بحرینی سرمایہ کاروں کے لئے پائے جانے والے بہترین موقع پر مذاکرات ہوئے۔

واضح رہے کہ بحرین ایک چھوٹا سا ملک ہے لیکن خوبصورت و خوشحال ملک ہے جہاں کے بازار روشن ہیں۔ بلند بالا عمارتیں، خوبصورت جھیلیں سیاحوں کو اپنی جانب کھینچتی ہیں۔ فن تعمیر کی شاہکار مساجد ماحول میں ایک نورانی احساس پیدا کرتی ہے۔ جسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔ سعودی عرب اور بحرین کو ایک دوسرے سے جوڑنے والا 25 کیلو میٹر طویل کازوے دونوں ممالک کے تعلقات کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہورہا ہے۔ سمندر پر تعمیر کیا گیا یہ فلائی اوور کا نصف حصہ سعودی عرب کے حدود میں آتا ہے اور نصف حصہ بحرین کے حدود میں شامل ہے۔ دونوں ممالک کے باشندوں کو اس کازوے سے ایک دوسرے کے ممالک پہونچنے کے لئے کوئی تحدیدات نہیں ہیں اور نہ ہی ویزے کی ضرورت ہے۔ سعودی عرب اور قطر کے باشندے اکثر بحرین میں چھٹیاں مناتے ہیں۔ بحرین یقینا ایک اسلامک ملک ہے۔ مگر ساتھ ہی ساتھ ایک آزاد ملک ہے جہاں پہننے اور کھانے پینے پر کوئی پابندیاں نہیں ہیں۔ ہر ہوٹل میں پب، کلب عام بات ہے۔ بحرین گلف کوآپریٹیو کونسل میں تیزی سے ترقی کرنے والا ملک ہے۔ شاہی خاندان کی سادگی، خوش مزاجی ناقابل فراموش ہے۔ ڈپٹی وزیراعظم کو کوئی سکیورٹی نہیں ہے اور نہ ہی ان کی قیام گاہ پر سکیورٹی ہے۔ مملکت بحرین کے جتنے بھی اہم شخصیتوں سے ملاقات ہوئی ان سب نے دروازے کے باہر تک پہونچ کر ہندوستانی وفد کو وداع کیا ہے۔ بحرین کی بڑی بڑی خوبصورت سڑکیں ہیں۔ عوام میں ٹریفک نظام کی کافی سوجھ بوجھ ہے۔ گاڑیاں چلانے والے دوسری گاڑیوں کو راستہ دینے پر اکتفا کرتے ہیں۔ مانامہ قدیم شہر ہے۔ جہاں پر دنیا کے سارے لوگ ایک ہی مقام پر ملتے ہیں بلکہ اس کو عالمی گلدستہ کہا جاتا ہے۔ ہند اور بحرین کے باہمی تعلقات کے بارے میں مورخین کا کہنا ہے کہ یہ کافی قدیم ہے۔ ہر زمانے میں ہندوستان اور بحرین کے تعلقات خوشگوار رہے ہیں۔ بحرین خلیجی فارمس میں ایک جزیرے پر بسا ہے۔ جس کا رقبہ 674 مربع کیلو میٹر ہے اور آبادی 13 لاکھ پر مشتمل ہے جس میں ایک تہائی آبادی کا تناسب ہندوستانی باشندوں پر مشتمل ہے۔ ہمارے دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ بحرین میں 4.5 لاکھ ہندوستانی قیام پذیر ہیں۔ جن میں کیرالا کے باشندوں کی تعداد ڈھائی لاکھ ہے اور 60 تا 70 ہزار تلگو عوام بھی بحرین کے ماحول میں گھل مل گئے ہیں جو اپنی دیانتداری، قابلیت کے ذریعہ ہندوستان و بحرین دونوں ممالک کی ترقی و خوشحالی میں اہم رول ادا کررہے ہیں۔ ہمارے اس دورے میں ہندوستان میں متعین بحرینی نائب سفیر محترمہ مرام الصالح نے غیر معمولی رول ادا کیا۔ ہندوستانی وفد کی میزبانی میں انھوں نے کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔ صدرنشین انٹرنیشنل اگزیبیشن اینڈ پروموشن بحرین چیمبر آف کامرس محترمہ ابلام یوسف جاہنی، شیخا رعنا عیسیٰ دیح، الخلیفہ اسسٹنٹ انڈر سکریٹری فار عرب اینڈ افرو ایشین نے ہندوستانی وفد کے ساتھ مکمل تعاون کیا۔ نائب وزیراعظم، وزیر صنعت و سیاحت کے علاوہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ارکان اور بحرینی اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقات کرانے سرمایہ کاروں سے اجلاس منعقد کرانے میں بہت سرگرم رول ادا کیا۔ واضح رہے کہ ہندوستان اور بحرین کے تعلقات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل رکنیت کے لئے بحرین ہندوستان کی بھرپور تائید و حمایت کررہا ہے۔ سفیر متعینہ بحرین الوک کمار سنہا نے ہندوستانی وفد کے ساتھ اپنی قیامگاہ پر پرتکلف عشائیہ کا بھی اہتمام کیا جس میں بحرین کی اہم شخصیتوں نے بھی شرکت کی۔ بحرین کے وزیر صنعت و سیاحت زید بن رشید الزیانی نے ہندوستان سے بحرین کے لئے مزید خوشگوار تعلقات کی راہ ہموار کرنے کے لئے بحرین کا دورہ کرنے کے خواہشمند ہندوستانی باشندوں کو ویزا اِن ارائیول دینے پر سنجیدگی سے غور کرنے کا تیقن دیا ہے۔
ہمارے دورے بحرین کی ایک اور خاص بات یہ رہی کہ الزیانی انوسٹمنٹس گروپ آف کمپنیز اور البرکہ اسلامی بینک کے سربراہ خالد راشد الزیانی اور ان کے فرزند نواف راشد الزیانی سے ملاقات رہی۔ الزیانی انوسٹمنٹس گروپ اور البرکہ اسلامی بینک کا شمار نہ صرف علاقہ خلیج بلکہ دنیا کے اہم ترین مالیاتی اداروں میں ہوتا ہے۔ خالد راشد الزیانی نے ہندوستانی وفد کو بتایا کہ وہ ہندوستان میں اسلامی بینک قائم کرنا چاہتے ہیں۔ اس سلسلہ میں وہ ہندوستان پہونچ کر انڈیا عرب فرینڈشپ فاؤنڈیشن کے صدرنشین جابر پٹیل کے ساتھ گزشتہ ماہ دیوالی کے موقع پر ہندوستان کے وزیر فینانس ارون جیٹلی سے ملاقات کرچکے ہیں۔ ارون جیٹلی نے تجاویز روانہ کرنے پر ہمدردانہ غور کرنے کا تیقن دیا۔ ہندوستانی وفد میں شامل ارکان پارلیمنٹ نے ہندوستان میں اسلامک بینک کے قیام کے لئے الزیانی انوسٹمنٹس گروپ آف کمپنیز اور البرکہ اسلامی بینک کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کا تیقن دیا۔ خالد راشد الزیانی نے بتایا کہ ان کے بینک کی شاخیں اردن، انڈونیشیا، جنوبی افریقہ پاکستان، سوڈان، بحرین، شام ، ترکی، لبنان، تیونس، ملیشیا وغیرہ میں کامیابی کے ساتھ کام کررہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ البرکہ بینک کی 1000 شاخیں دنیا کے مختلف ممالک میں کام کررہی ہیں اور اس کے اثاثوں کی مالیت دو ارب ڈالر سے زائد ہے۔ ڈپٹی وزیراعظم بحرین عزت مآب شیخ خالد بن عبداللہ الخلیفہ نے ہندوستانی وفد کے ساتھ گرمجوشانہ ملاقات کرتے ہوئے ہند ۔ بحرین کے تعلقات پر روشنی ڈالی۔ ہندوستان کے پہلے وزیراعظم جواہر لال نہرو کی جانب سے بحرین کو کی گئی مدد کو یاد کرتے ہوئے ہندوستانی صنعت کاروں، تاجرین کو بحرین کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کرتے ہوئے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید استحکام کرنے کا مشورہ دیا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT