Sunday , July 23 2017
Home / ہندوستان / ہند۔ترکی باہمی تعلقات میں مزید استحکام کی ضرورت پر زور

ہند۔ترکی باہمی تعلقات میں مزید استحکام کی ضرورت پر زور

تجارت ، سرمایہ کاری اور سلامتی کے شعبوں کو ترجیح ، وزیراعظم مودی اور ترک صدر اردوغان کی بات چیت اور بزنس سمٹ سے خطاب
نئی دہلی ۔ یکم مئی ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) وزیراعظم نریندر مودی اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے سکیورٹی و تجارت کے بشمول مختلف شعبوں میں باہمی تعلقات کے موقف کا آج جائزہ لیا اور باہمی مفاد کے حامل علاقائی و بین الاقوامی اُمور و مسائل پر تبادلہ خیال کیا ۔ سرکاری ذرائع کے مطابق انسداد دہشت گردی کے شعبہ میں باہمی تعاون کو مستحکم بنانے ، نیوکلیئر سپلائرس گروپ میں رکنیت کیلئے ہندوستان کی مساعی اور علاقائی سکیورٹی صورتحال ان چند کلیدی مسائل میں شامل تھے جن کے بارے میں باور کیا جاتا ہیکہ مودی۔ اردوغان ملاقات کے دوران تبادلۂ خیال کیا گیا ۔ وزارت اُمور خارجہ کے ترجمان گوپال باگلے نے ٹوئیٹر پر لکھا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے حیدرآباد ہاؤز میں صدر اردوغان کا استقبال کیا ۔ ہمہ مقصدی تعلقات کو نئی جہت حاصل ہوئی ‘‘ ۔ قبل ازیں وزیر خارجہ سشما سوراج نے دورہ کنندہ صدر سے ملاقات کی ۔ انھوں نے مزید کہاکہ ’’سرکاری مہمان کی اہم مصروفیت اور وزیر خارجہ سشما سوراج نے وفد کی سطح پر بات چیت سے قبل صدر اردوغان سے ملاقات کی ‘‘۔ اس دوران ہند ۔ ترکی تجارتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے ترکی کے بزنسمین اور صنعتکاروں پر زور دیا کہ وہ یہاں توانائی ، سڑک ، بندرگاہوں اور امکنہ جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری کریں اور کہا کہ ہندوستان اب سرمایہ کاری کیلئے جس حد تک سازگار اور پسندیدہ مقام ہے اس سے پہلے کبھی نہیں تھا ۔ اس کانفرنس میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے بھی شرکت کی ۔ وزیراعظم مودی نے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون میں قابل لحاظ اضافہ کی ضرورت کو اُجاگر کیا۔ وزیراعظم نے کہاکہ ہند اور ترکی کے درمیان باہمی تجارت جو 2008 ء کے دوران 2.8ارب امریکی ڈالر سے بڑھ کر 2016 ء میں اگرچہ 6.4 ارب امریکی ڈالر تک پہونچ گئی ہے لیکن اصل امکانات اور گنجائش سے ہنوز بہت پیچھے اور کم ہے ۔ انھوں نے کہاکہ ’’ہندوستان اور ترکی کے درمیان بہتر تجارتی تعلقات رہے ہیں ۔ یہ ( تجارتی ترقی) اگرچہ حوصلہ افزاء ہے لیکن تجارتی و اقتصادی تعلقات کی موجودہ سطح حقیقی صلاحیتوں اور امکانات کے مقابلے کافی نہیں ہے ‘‘ ۔انھوں نے اس تاثر کا اظہار کیا کہ ہند اور ترکی مستحکم بنیادوں کے ساتھ دنیا کی 20 سرکردہ معیشتوں میں شامل ہیں ، مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو قابل لحاظ حد تک فروغ دے سکتے ہیں۔ وقت آگیا ہے کہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی مساعی کے طورپر باہمی تال میل میں اضافہ کیا جائے ۔ ترکی کے صدر طیب اردوغان نے دونوں ممالک کے مابین تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی پرزور وکالت کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی موقعوں کی حقیقی صلاحیتوں تک رسائی حاصل کی جانی چاہئے۔ اردوغان نے تجویز پیش کی کہ ہندوستان اور ترکی کو آزاد تجارتی سمجھوتہ پر مذاکرات شروع کرنا چاہئے ۔ نیز زر مبادلہ کے تبادلہ کی شرحوں میں ہونیو الی تبدیلیوں کے مسئلہ سے نمٹنے کیلئے مقامی کرنسیوں میں باہمی تجارت کے امکانات کا جائزہ لیا جانا چاہئے ۔ تاہم اردوغان نے باہمی تجارت میں توازن پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہاکہ اس ضمن میں فی الحال ہندوستان کا موقف مستحکم ہے ۔ اردوغان نے ہندوستانی بزنسمین پر زور دیا کہ وہ ترکی میں سرمایہ کاری کریں اور کہا کہ ان کا ملک سرمایہ کاری و پیداوار کیلئے ایک مثالی اور انتہائی سازگار مقام ہے ۔ ترکی میں 16 اپریل کو منعقدہ متنازعہ ریفرنڈم میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد اردوغان کا یہ پہلا بیرونی دورہ ہے ۔ اس ریفرنڈم میں ملنے والی کامیابی نے ان کے عاملانہ اختیارات کو مزید مستحکم بنادیا ہے ۔ ترکی کے رہنما دو روزہ دورہ پر گزشتہ روز یہاں پہونچے تھے ۔ جن کا آج راشٹرپتی بھون میں رسمی سرکاری استقبال کیا گیا ۔ رجب طیب اردوغان کے دورۂ ہند پر آمد کے بعد مہاتماگاندھی کی سمادھی راج گھاٹ پر حاضر دیتے ہوئے بابائے قوم کو خراج عقیدت ادا کیا ۔ ترکی کے صدر رجب طیب کے اس دورہ میں اُن کی شریک حیات آمینہ اردوغان کے علاوہ متعدد سینئر وزراء بھی 150 رکنی تجارتی وفد میں شامل ہیںجو ہند۔ ترکی بزنس فورم کے اجلاس میں شرکت کررہے ہیں ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT