Wednesday , August 16 2017
Home / کھیل کی خبریں / ہند۔پاک سیریز :حکومت اور بی سی سی آئی الجھن کا شکار

ہند۔پاک سیریز :حکومت اور بی سی سی آئی الجھن کا شکار

پی سی بی کو روانہ کردہ مکتوب اہم وجہ، سشما سوراج کے مجوزہ دورۂ پاکستان سے مثبت توقعات
نئی دہلی۔6 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) بی سی سی آئی کے سابق صدر این سرینواسن نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو اپریل 2014ء میں ایک مکتوب روانہ کیا تھا جس میں پاکستان کے ساتھ میچس کھیلنے کے عہد کا اظہار کیا گیا تھا اور اسی مکتوب نے بی سی سی آئی کو الجھن میں مبتدلا کر رکھا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بی سی سی آئی نے پاکستان کے ساتھ ڈسمبر 2015ء میں یو اے ای یا کسی بھی باہمی اتفاق سے طے شدہ مقام پر دو ٹسٹ میچس، پانچ ونڈے انٹرنیشنل اور دو ٹوئنٹی 20 کھیلنے کا وعدہ کیا تھا۔ آئی سی سی آئی ایگزیکٹیو بورڈ کے8 فروری کو منعقدہ اجلاس میں پیش کردہ قراردادوں کے پس منظر میں یہ مکتوب جاری کیا گیا تھا۔ دراصل یہ قرارداد آئی سی سی کے نئی مالیاتی ماڈل اور اس کی حکمرانی کے متعلق تھا۔ اس ماڈل کے تحت سرینواسن آئی سی سی صدرنشین کے عہدے کے لئے حصہ لینے والے تھے اور انہیں ایشیائی بلاک بشمول پی سی بی کی تائید درکار تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ بی سی سی آئی اور پی سی بی عہدیداروں کی گزشتہ چند ہفتوں کے دوران متواتر ملاقاتوں کے بعد مجوزہ سیریز کے تعلق سے اتفاق رائے پایا جاتا تھا۔

بی سی سی آئی سابقہ سکریٹری سنجے پاٹل نے جو مکتوب سابق صدرنشین پی سی بی نجم سیٹھی کو روانہ کیا تھا اس میں مجوزہ سیریز کے شیڈول کے بارے میں طمانیت دی گئی تھی۔ بی سی سی آئی نے یہ بھی کہا تھا کہ نومبر 2014ء میں محدود اوور کے میچس کے لئے تمام تر کوششیں کی جائیں گی۔ اس مکتوب یا وعدے نے بی سی سی آئی کے ساتھ ساتھ نریندر مودی حکومت کو بھی اس وقت الجھن میں مبتلا کر رکھا ہے۔ اگر بی سی سی آئی اس وعدے کی تعمیل نہ کرے تو اسے قانونی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ اسی طرح ہندوستان اور پاکستان کے مابین جاریہ روابط کے پس منظر میں سیریز کے لئے اجازت دینا حکومت کے لئے بھی ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔ بی سی سی آئی سکریٹری انوراگ ٹھاکر نے حکومت کی رائے جاننے کے لئے معتمد خارجہ ایس جئے شنکر کو مکتوب روانہ کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت کسی فیصلے سے قبل تمام امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔ واضح رہے کہ وزیر امور خارجہ سشما سوراج کا آئندہ ہفتے دورۂ پاکستان متوقع ہے اور اس موقع پر باہمی تعلقات میں جاری سرد مہری ختم ہوسکتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT